میثاقِ مدینہ

میثاقِ مدینہ

articoli correlati

 مد ینہ شریف میں ہجرت کے بعد یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر جو اہم مسائل تھے اُن کے بارے میں مختلف تفا سیر کی روشنی اور احادیث کی کتا بو ں کے مطا لعہ سے حاصل رہنمائی کے بعد عرض کرتا چلو ں کہ آقا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان مسائل کے حل کے لیے حکمت عملی امت مسلمہ کے مو جودہ مسائل ،درپیش چیلنجز کے مقابلے کے لیے راہنمائی و مشعل راہ ہے۔اہم مسائل یہ تھے۔

٭ قریش مکہ کی تجارتی با لا دستی کا خاتمہ جو اسلام کی ترویج و اشاعت میں سب سے بڑی رکا وٹ تھے
٭ امت واحدہ کے تصور کو زیا دہ سے زیادہ موثر اور مقبول عام بنا نا کہ مدنی قبیلوں کی خا نہ جنگی ختم ہو
٭ امن و صلح کی قوتوں کا فروغ تا کہ اسلامی اتحاد و اخوت کی جڑیں مضبوط ہوں
٭ مہا جروں کی آباد کا ری
٭ مدینہ کے قرب و جوار کے بدوی قبیلوں سے امن و صلح کے معاہدے

تاریخ شاہد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسائل کو بڑی خوش اسلو بی سے حل کیا۔ آئیے مو جودہ دور کے مسائل پر بھی ذرا غور کر تے ہیں اور پھر مندرجہ بالا نقاط کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔
موجودہ مسلم اُمہ خاص طور پر عرب کی دنیا ڈالر کے ڈھیر پر بیٹھے ہو ئے اپنے آپ کو دولت مند سمجھتے ہیں حا لا نکہ’’ پیٹرو ڈالر‘‘ مغرب میں میوچل فنڈ ، اسٹاک ما رکیٹ ، با نڈ مارکیٹ ، اور عیا شیوں کے ذریعے واپس جا رہے ہیں۔مغرب کے ڈیری اور فوڈ پراڈکٹس اور سروسز کی مصنو عات کی آمد پر اربوں پیٹرو ڈالر جہاں سے آئے وہاں جا رہے ہیں۔انرجی کے بحران کے بعد عرب دنیا چرواہوں کی دنیا میں نہ بھی جا ئیں عالمی سرما ئے کے غلام ہو جائیں گے۔اس وقت عالمی تیل کی طلب کی تخمینہ کا ری کریں تو روزانہ 86.01 ملین بیرل ہے۔جو 8 سال میں بڑھ کر 120 ملین بیرل ہو جا ئے گی ، اعداد و شمار یہ بھی کہتے ہیں کہ 99 فی صد تیل دنیا کے 44 ممالک پیدا کر تے ہیں جن میں 24 مما لک ایسے ہیں جو اپنی پیدا وار کے عروج سے گزر کر اب زوال کی طرف ما ئل ہیں ان 24 میں سے 10 ممالک امت مسلمہ میں معیشت کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی جانے جا تے ہیں۔
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر تے ہو ئے امت واحدہ کے طور پر مسلم امہ کے 61 ممالک کیا میثاقِ مدینہ کی طرز پر مو جودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہو ئے اور خاص طور پر 9/11 کے بعد مغربی صیہو نی و طا غوتی عنا صر کو اسلام کی حقا نیت بتانے اور اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لیے ایک دستاویز مرتب کر کے ایک جان ہو سکتے ہیں۔اور یہ عہد با ندھیں کہ اگر کو ئی غیر مسلم ر یا ست اگر ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کر ے تو ہمیں مل کر ان کا مقا بلہ کر نا ہو گا۔اور نازک حالات میں ہر ممکن تعاون کرنے کا پا بند بننا ہو گا تاہم سب سے پہلے امن و سلامتی کے لیے راستہ نکا لنا ضروی ہو گا۔ مو جودہ دور میں مسلم مما لک کو معا ہدے کے ذ ریعے ایک ایسا وار پیکٹ شامل کر نا چا ہیے جس کے مطابق ایک ملک پر حملہ امت مسلمہ پر حملہ تصور ہو اور پھر سب مل کر دشمن کے خلاف نبر آزما ہو ں۔اگر ایسا وسیع تر اتحاد و بلاک بنا لیا جائے تو صیہو نی شکنجے سے ہمیشہ کے لیے ر ہائی مل سکتی ہے۔جس کی بدولت ہما ری تہذ یبی روایات کے احیاء کے ساتھ ساتھ معیشت کی بحالی بھی ممکن ہے۔ایسی یادداشت سربراہان کی نہیں بلکہ مشترکہ طور پر مسلم ریا ستوں کے درمیان ہونی چا ہئے ۔ کیو نکہ’’ میثا ق مدینہ‘‘ میں شا مل دفعات کا تعلق مدینے کے عرب قبیلوں کے ما بین امن قائم رکھنے سے ہے۔ میشا ق مدینہ بڑی اہم دستا ویز ہے اور موجودہ دور میں امت مسلمہ اس سے بڑی رہنما ئی حاصل کر سکتی ہے۔در اصل اس معا ہدے کا بنیا دی مقصد ہی یہ تھا کہ اہل مدینہ اپنے قبا ئلی جھگڑوں کو ختم کر دیں۔اور امت واحدہ کے رشتے میں منسلک ہو کر شہر میں پُر امن زندگی گزاریں اور امت کے دشمنوں (قریش) کے خلاف متحد ہو جائیں۔
آج ہم مشترکہ طور پر آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی و معاشی علاقائی قیادت(میشاقِ مدینہ) کی جانب پہلے قدم پر قدم رکھ کر معاشرے میں جاری نسلی فسادات ، آپس کے جھگڑے ختم کر کے وہ وقت اور سرما یا امت کی بھلا ئی اور علم و فن کی ترویج و ترقی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔اور جنگ بدر (٢ ہجری) میں ما ل غنیمت کا کا مل مہاجرین میں تقسیم کر نے اور اس کی وجہ سے انصار کی اعانت کی ضرورت با قی نہ رہنے کے فارمولے کو بھی استعمال میں لا تے ہو ئے اجتما عی تعلیمی ،سائنسی ،معاشی ترقیا تی منصوبوں پر خرچ کر سکتے ہیں افریقہ جیسے غریب ملک کی معا ونت کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر ہم امت واحدہ کے طور پر ایک مضبوط معاشی بلاک کے طور پر تیل ، معد نیات ، گیس ، کو سا منے رکھتے ہو ئے ملٹی نیشنلز سسٹم متعارف کروا سکتے ہیں۔اگر ہم پرسکون عقلی ماحول میں بیٹھ کر سوچیں گے تو یقینا مثبت نتا ئج کی تواقع کی جا سکتی ہے پھر شاید ہی روایتی اسلامی سربراہی کانفرنس بلانے کی ضرورت پڑے۔اور اس پر اُٹھنے والے اخراجات بھی امت کی اجتما عی ’’بچت‘‘ ہو گی۔ آج امت واحدہ کو عا لمی معا شی نظام ،انرجی کا بحران ، پیٹرو ڈالر کی واپسی ، چین کی معاشی ترقی کو پیش نظر کر اجتماعی طور پر دیکھنا ہو گا۔ اسلا می دنیا کے مختلف حصوں میں جغرا فیا ئی قربت کی بنیاد پر الگ الگ علاقائی یا ذیلی علاقائی بلاک بننے کے روشن امکا نا ت موجودہیں یہ علا قا ئی بلاک آپس میں تعاون کی بنیاد پر ایک عالمی اسلامی بلاک کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔تمام تر اسلامی ممالک سے عالم دین کو جمع کر یں اور 3/5 اور دس سا لہ منصو بہ کے ساتھ ایک اللہ ، ایک رسول (آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ایک قرآن مجید ، ایک مسجد ایک مسلک ، ایک فقہ (قرآنی) کو ہمیشہ کے لیے لاگو کریں۔مسلمانوں کو اپنے ممالک ، اپنی قومی سطح پر اور اس طرح عالمی سطح پر متحدہ طور پر فلاحی اور معلمی ادارے بنانا ہو نگے۔
اسلامی سربرا ہی کا نفرنس کے حوالے سے یہ بتا نا بھی ضروری سمجھتا ہو ں کہ مسلمانوں نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ ان کی پسماندگی میں ان کا بھی کو ئی قصور ہے۔وہ اس کی بڑی ذمہ داری ،یہودیو ں عیسائیو ں اور ہندووں پر عا ئد کر تے ہیں یعنی یہ کہ غیر مسلموں نے سا زش کے ذریعے انہیں پسماندہ بنا دیا ہے۔مگر میں یہ سمجھتا ہو ں کہ مسلم اقوام کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ مسلم معا شرے میں جدید دور کے تقا ضوں کے مطابق نئے علوم کو فروغ حاصل نہ ہو سکنا بھی ہے۔آج شعوری بیداری کے لیے مستقل جدوجہد کی ضرورت ہے۔مستقل جدوجہد نہ ہو تو اس کا حصول نہ ممکن ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح صحا بہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تعلیم و تربیت کی زینت سے آراستہ فرما یا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحا بہ کرام کی جماعت کے شعور کی تربیت میں بھی کسی قسم کی کمی با قی نہیں رہنے دی۔عالم اسلام کی بہت بڑی خدمت یہ ہے کہ اس میں صیحح شعور پیدا کیا جا ئے۔وہ اپنے تمدنی ، سیاسی ، اجتما عی مسائل و معا ملات میں ایک عاقل و بالغ انسان کی طرح غور کر سکے۔اور فیصلہ کر نے کی صلا حیت رکھتا ہو، جب تک یہ شعور نہ پیدا ہو ، کسی اسلامی ملک و قوم کا جوش عمل ،صلا حیت کار کے مظاہر و مناظر کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔شعور سے نا بلد مسلمان ممالک کی آپس میں نا اتفاقی اور یگانگت کا فقدان امت کی پستی کی ایک اور اہم وجہ ہے۔مسلمانو ں کے پسماندہ رہ جا نے کی ایک اہم وجہ حکو متی سطح پر ’’ تحقیقی‘‘ نوعیت کے کاموں کا نہ ہو نا بھی ہے۔

 

Commenti

Lascia un tuo commento

* I campi contrassegnati con l'asterisco sono obbligatori certamente avere valore.