عزاداری کیوں؟

عزاداری کیوں؟

مقالات مرتبط

اکثر ذہنوں میں کسی کے ابھارنے سے یا خود بخودیہ سوال ابھرتا ہے کہ محرم میں ہر سال عزاداری کیوں بر پا کی جاتی ہے ؟لہٰذا ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر گفتگو کی جائے تاکہ شکوک و شبہات کے بادل چھٹ جائیں اور حق و حقیقت کے آفتابِ جہاں تاب کی شعاعوں سے ہمارے ذہن کی کائنات منور ہوجائے ۔
لفظ عزاداری، صوم وصلاۃ، حج وزکوٰۃجیسے الفاظ کی طرح شارع مقدس کی جانب سے وضع ہونے والی اصطلاح نہیں ہے کہ جس کے معنی کی کوئی خاص شکل و صورت ہوبلکہ یہ لفظ غم و الم اور سوگواری کے مفہوم کو ادا کرتا ہے کہ جس کے مصادیق ، اقوام و ملل کے رسم ورواج اور طور طریقوں کی وجہ سے مختلف ہیں ۔عربی لغت اور تاریخ کی کتابوں میں دکھ ، درد ، سوگ، ماتم، جیسی کیفیات پر دلالت کرنے والے الفاظ میں عزا، عزّیٰ، تسلی، ناحت یا نوحہ، ماتم، رثا اور مرثیہ مشہورہیں ۔
جس دن سے انسان نے اس دنیا میں جنم لیا ہے ، بے جرم و خطاقتل ہونے اورتلخ و ناگوارحادثات سے اس کا پالا پڑ ا ہے .لہٰذا اس کی فطرت میں ایسے حالات اور واقعات سے بیزاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔اسی سبب جب تلخ اور ناگوار حادثات کو ٹالنا انسان کے اختیارسے باہر ہو جاتا ہے تو اس کے دل پر چوٹ لگتی ہے وہ حزین و غمگین ہوجاتا ہے اور ا سکی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب امنڈ پڑ تا ہے ۔ دل کی فریاد پربہنے والے یہی گرم گرم آنسو اس کے کلیجے کو ٹھنڈک پہونچاتے ہیں ۔ پھر بھی اگر ا سکی تسکین نہ ہو تو وہ دوسروں سے ان حادثات کی حکایت کرتا ہے ۔ اگر وہ لوگ بھی اس کے شریک غم ہوتے ہیں توآہ و فغاں میں اس کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں اس عمل سے بھی اسے سکون میسر ہوتا ہے اوراسی عمل کا نام سوگواری اور عزاداری ہے ۔


ماہِ محرم میں نواسہ رسول امام حسین اور ان کے با وفا اصحاب کی شہادت کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے جو غم کی تقریبیں منعقدکی جاتی ہیں عزاداری کے بارزاور ظاہر ترین مصداق ہیں ۔
مظلوم کے غم میں شریک ہونا، ا نسانی فطرت کا تقاضہ اور ستم دیدہ سے ہمدردی وحمایت کا اظہا رہے .یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے عقل و فطرت دونوں ہی بے چون وچرا تسلیم کرتے ہیں .مگر کچھ لوگ مخصوص اغراض کی وجہ سے اس مقدس عمل پر طرح طرح کے اعتراض وارد کرتے ہیں جن میں سے اہم ترین یہ ہے کہ:
عزاداری اور گریہ و ماتم قضا و قدر الٰہی کے خلاف ہے .کیونکہ خدا وندِ عالم نے نا خوش آیندحالات اور ناگوار حادثات و مصیبات کے مقابلے میں صبر و ضبط سے کام لینے کا حکم فرمایا ہے .لہٰذا ، گریہ و زاری اور ماتم و عزاداری خدا کی حکم عدولی اور نافرمانی ہے . اس کے علاوہ شہدائے راہِ حق ہمیشہ زندہ ہیں جوایک عظیم مرتبہ اور خوشی کا مقام ہے اب اس پر رونا دھونا اور ماتم منانا ان کی شان کے خلاف اور ان کے مرتبہ کے منافی ہے ۔
اسی قسم کے اوربھی دیگر اعتراضات ہیں جنہیں بیان کرنا طوالت کا باعث ہو گا یہاں صرف مذکورہ دو اعتراض ہی کا جواب دیکر بات کو واضح کیا جائے گا۔
مصیبتوں پر آہ و فغاں اور بیقراری کی حالت میں اول فول بکنا اور بے صبری کا اظہار کرنا دین وشریعت کی نظر میں ایک منفور عمل ہے .سید الشہداء کا کوئی بھی عزادار، اس عمل کا مرتکب نہیں ہوتا .صبر کا مطلب گریہ و زاری نہ کرنا بھی نہیں ہے .قضاو قدرِ الٰہی پر صبر کرنے سے مقصودخدا وندِعالم کی مشیئت کے آگے سراپا تسلیم ہوجانا ہے .جس دل پرچوٹ لگتی ہے اس سے آہ نکلنا طبیعی اور انسانی عمل ہے .اس وقت احساسات کی عنان کو ہاتھ میں رکھکر دل میں ابھرنے والے بے جا توہمات سے گریز کرنا صبر کہلاتا ہے جس سے ہر عزادار ، اچھی طرح واقف ہے .پھرعزاداری محض گریہ و زاری ہی پر تو منحصر نہیں اس کے اور بھی بہت سے ارکان ہیں جو ہمارے معصوم رہنماؤں کی تعلیمات سے دستیاب ہوتے ہیں جیسے گریہ سے پہلے معرفت کا ہونا عزاداری کا ایک اہم ترین رکن ہے .جس کو حضرت امام حسین علیہ السلام کی صحیح معرفت ہوتی ہے اس کا گریہ عزادارانہ ہوتا ہے اموات پر گریہ کرنا اور سید الشہداء پر گریہ کرنا دونوں برابر نہیں ۔ سید الشہداء پر گریہ و زاری کا ایک خاص مقصدہے جس کی تکمیل پر عرفانِ الٰہی کے گوہرِ آبدار میسر ہوتے ہیں .اس گریہ میں صبر کے معنی کومتحمل اور گریہ کرنے والے کو صابر کا رتبہ ملتا ہے .یہ گریہ آنکھوں کے ساتھ دل کو بھی صاف کرتا ہے یہ گریہ ظالم کے خلاف خدا کی دی ہوئی طاقت کو صرف کرنے کی دعوت دیتا ہے ایثار کی تربیت اور حق کی راہ میں قربانی پیش کرنے کی تعلیم دیتا ہے .یہ گریہ عدل وانصاف کی حکمرانی کا خواہاں ہے اور مظلوم ومحروم سے حمایت وہمدردی کا مشتاق .شہنشاہِ کربلا کی یاد میں عزا داری منا کر عزادار خود کوخداکی مشیت کے نزدیک محسوس کرتا ہے .یہ صرف ہمارا ہی نظریہ نہیں بلکہ انصاف کی نظروں سے دیکھنے والے غیر مسلم دانشوروں کی بھی رائے ہے .چنانچہ، فرانسیسی دانشور، ’’ڈوکیری موریس ‘‘کا ماننا ہے کہ حسینؑ کے ماننے والے ماتمِحسین کے صدقہ میں اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ استعمار اور استکبار کی غلامی کو قبول نہیں کرنا چاہتے .کیونکہ ان کے امام کا نعرہ ’’ظلم وستم کے آگے سر نہ جھکانا ‘‘تھا۔
نینوا کے پیاسہ کی یاد میں عزاداری تنہاعزاداری نہیں ہے بلکہ تلیغ حق کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔
’’اسلام و مسلمین ‘‘نامی کتاب کے مصنف، فرانسیسی مستشرق، ’’ جوزف رینو‘‘کی نظر میں عزاداری کا ہدف یہ ہے :
۔۔’’شیعوں نے اپنے مذہب کو تلوار کے زور پر نہیں بلکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ پھیلایا انھوں نے عزاداری کے مراسم کو جو اہمیت دی اس کی وجہ سے دو تہائی مسلمان، ہندؤں کی ایک جماعت، مجوس اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے حسین ؑ کی عزاداری میں شرکت کرنے لگے ۔
ان تمام اہداف کے ساتھ اور بھی دیگر عالی مقاصداس عزاداری میں مضمر ہیں جنہیں حقیقت بین ، حق جوخداکے بندوں اور تیز بین اغیار نے بخوبی بھانپ لیا ہے ۔لہٰذا ہر سال اس عزاداری کی تکرار کا مسٔلہ روشن ہوجاتا ہے ۔ عزادار اس غم کے تصدق انسانیت کے اعلیٰ اقدار کا حصول چاہتا ہے .انسانیت اور معیاری انسان مخالف طاقتیں ان اہداف سے خوف زدہ ہیں کیونکہ ان کی قدرت استثمار واستحصال پرقائم ہے ۔اور عزاداری ان کے خلاف ایک تحریک ہے جسے وہ ہر ممکنہ حربے سے نا کام بنانا چاہتے ہیں .اعتراض تراشی کی ٹکسال انہیں سود جو، انسان دشمن طاقتوں کے ایما پر کھلی ہوئی ہے .جس میں شہید راہِ حق کی یاد منانے کو توہمات کے سہارے روکنے کی ناکام کوششیں دن رات کی جاتی ہیں ۔بھلا غور تو فرمائیں کتنی سادہ سی بات کو کتنا پیچیدہ بنایا جاتا ہے کہ شہید زندۂ جاوید ہوتا ہے اور زندہ کی عزاداری جائز نہیں .یہ کسے نہیں معلوم کہ عزادار کا ہدف شہادت پر گریہ کرنا نہیں بلکہ اس پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو اپنی چشم بصیرت سے دیکھ کر ہوتا ہے . عزاداری میں عزادار اپنی آنکھوں میں اشکوں کے ساغر لے کر پیاسوں سے ہمدردی اور وفا داری کا عہد کرتا ہے .اسے شہیدو ں کی شہادت سے حاصل ہونے والے مرتبہ کا افسوس نہیں ہوتا بلکہ اس کا گریہ اس بات پر ہوتا ہے کہ آج تقریباً چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی ان کے دشمن ان کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں اور جس طرح کل میدانِ نبرد میں انکے سامنے آنے والے سود جونام نہاد مسلمان باطل کے ہمراہ تھے آج بھی اسی طرح ان کے اہداف کے دشمن صف باندھ کر ان پر ہمہ جانب حملے کر رہے ہیں اگر ان حملوں کا زور گھٹ گیا ہوتا تو عزادار کو غم نہ ہوتا اس کے سامنے ہر روز ایک نئی کربلا ہوتی ہے ہر دن ایک نئی رودادِ ظلم ثبت ہوتی ہے ا سکے سامنے جب بھی کہیں کسی بیکس کا خون بہتا ہے کربلا والوں کے خون کی لالی اسمیں نظر آ جاتی ہے ۔


دوسروں کی نظروں میں کربلا کے واقعے کو چودہ سوسال ہونے کو ہونگے مگر عزادار کی آنکھیں تو صبح وشام کبھی افغانستان کبھی عراق کبھی فلسطین، کبھی پارا چنار، کبھی ڈیرہ غازی خان اورغزہ میں شہداء کے پارہ پارہ نازنین تنوں سے خون کی دھاروں کو بہتا دیکھتی ہیں اس کے قلب میں اتنے غم دیکھنے کی طاقت کہاں !؟کیا اسے اتنے غموں پر بلک بلک کر رونے کا بھی حق نہ ملے گا؟! کیا ان مظالم پر اسے عزاداری کرنے کی اجازت حاصل نہ ہو گی؟!ظلم و جور کا سلسلہ رکا کب ہے جو عزاداری کا سلسلہ بند کیا جائے ؟! عزاداری شہداء کا غم ہی نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ایک مسلسل تحریک ہے جو ہر سال شہیدوں کے تذکرہ سے زور پکڑ تی ہے اس کا ہر سال ظلم سے مقابلے کی نئی طاقت لیکر آتا ہے .

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.