تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 71 تا 75)

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 71 تا 75)

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 71 تا 75)

"قَالَ اِنَهُ یَقُوْلُ اِنَها بَقَرَة لَا ذَلُوْلّ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ مُسْلَمَةّلَاشِیَةَفِیْهاقَالُوْاالْاٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِ فَذَبَحُوْهاوَمَاکَادُوْایَفْعَلُوْنَ (71).

کہاوہ فرماتاھےکہ وہ ایک گائےھےجو نہ محنت کرنے والی ھے کہ زمین کو جوتتی ھو اور نہ وہ کھیتی کو پانی دیتی ھے. وہ بے عیب ھے ایسی کہ اُس میں کوئی داغ دھبہ نہیں ھے اُنہوں نےکہا اب آپنے ٹھیک ٹھیک پتا دیا.اب جاکر اُنہوں نےاُسےذبح کیااور معلوم تو ایساھوتاتھا کہ وہ یہ کریں گے نہیں"

؛؛؛

معلوم ھوتا ھے کہ اس وقت ان ممالک میں عام طور پر گایوں سے بھی کاشت کاری میں کام لیاجاتا تھا.ممکن ھے کہ یہ صفت بجائے خود مشترک بھی ھو لیکن دوسری صفتوں کے ساتھ اس صفت کے اجتماع نے گائے کی ایک مخصوص فرد میں انحصار کا فائدہ دیدیا.جس کے بعد کوئی ابہام باقی نہ رھا اور اسی لئے اُنہوں نے خوش ھوکر کہا اب آپ نے ٹھیک ٹھیک پتا دیا.(1).

ابتدائی آیت کے الفاظ "ان اللہ یامرکم ان تذبحوابقرة" پھر درمیان میں ایک دفعہ کی توضیح کے بعد کا نبی کا کہنا "فافعلوا ماتؤمرون" جو حکم ھورھا ھے پس کرڈالو" اور آخر میں یہ کہ "وماکادوا یفعلون" معلوم تو ایسا ھوتا تھا کہ وہ اسے کریں گے ھی نہیں" اس سب سے ظاھر ھوتا ھے کہ انہیں یہ تمام موشگافیاں کرنا نہ چاھیئے تھیں.پہلے ھی جو حکم ھوا تھا اُسے بجالے آنا چاھیئے تھا.انہوں نے بلاوجہ اس معاملہ کو طول دیا اور سوالات کئے جس پر قدرت نے بھی وزن بڑھانا شروع کردیا.اس کی مؤید حدیث کا حوالہ پہلے آچکا ھے.(2)

**

"وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادٰرَءْتُمْ فِیْها وَالله مُخْرِجّ مَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ (72) فَقُلْنَا اضْرِبُوْه بِبَعْضِها  کَذٰلِكَ یُحْیِی الله الْمَوْتٰی وَیُرِیْکُم اٰیٰتِه لَعَلَکُم تَعْقِلُوْنَ (73).

 

اورجبکہ تم نےایک شخص کوقتل کر ڈالاتھا پھرتم اس کےبارےمیں جھگڑ رھےتھےاوراللہ ظاھر کرنیوالا تھا اُس کاجسےتم چھپارھے تھےتو ھم نے کہا کہ اسی گائےکاٹکڑا اسپر مارو اسطرح اللہ مردوں کوجلاتاھے اورتمہیں اپنی اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ھے شاید اب بھی تم میں عقل آجائے"

؛؛؛

اس آیت کے ذریعہ اس گائے کے ذبح کرنے کا سبب اور اسکا نتیجہ سب ظاھر ھوگیا جو اُن روایات کے بالکل موافق ھے جو اُسکی تشریح میں وارد ھوئی ھیں.

توریت میں ایک جگہ قتل کے بعد قاتل کا سراغ نہ ملنے کے موقع پر گائے کے ذبح کرنے کا ذکر ھے اس طرح کہ :

"اگر اس سرزمین پر جسکا خداوند تیرا خدا تجھے ارشاد کرتا ھے، کسی مقتول کی لاش کھیت میں پڑی ھوئی ملے اور معلوم نہ ھو کہ اسکا قاتل کون ھے تب تیرے بزرگ اور تیرے قاضی باھر نکلیں اور ان بستیوں تک جو مقتول کے گرداگرد ھیں درمیان کو ماپیں اور یوں ھوگا کہ جو شہر مقتول سے نزدیک ھو اس شہر کے بزرگ ایک بچھیا لیں جس سے ھنوز کچھ خدمت نہ لی گئی ھو اور جوئےتلے نہ آئی ھو اور وھاں اس وادی میں اس بچھیا کی گردن کاٹیں" (استثناء 9،1:21)

مگر توریت میں اس ذبح کا ماحصل کوئی معلوم نہیں ھوتا بلکہ یہ معلوم ھوتا ھے کہ یہ اھتمام صرف قسم کھانے کیلئے ھے کہ ھم نے یہ خونریزی نہیں کی.اسلامی روایت یہ ھے کہ گائے کا ٹکڑا مقتول پر مارنے کے بعد وہ زندہ ھوگیا اور اُس نے خود اپنے قاتل کا پتا دیدیا.(3)

آیت قرآنی میں آخری لفظ "کذلك یحی الله الموتٰی ویریکم اٰیته" اس روایت کے مناسب ھے.

آیت کا لفظ قرآن مجید میں معجزہ اور غیرمعمولی مظاھرہ قدرت کیلئے آتا ھے "یریکم ایته" سے ظاھر ھے کہ گائے کا ٹکڑا لاش پر مارنے کے بعد کوئی غیرمعمولی کرشمہ قدرت نمودار ھوا اور "مخرج ماکنتم تکتمون" سے ظاھر ھے کہ اس کرشمہ کے ذریعہ سے قاتل کا تعیین ھوگیا.یہ صورت بالکل اُسی روایت پر منطبق ھوتی ھے.

"ثُمَ قَسَتْ قُلُوْبُکُم مِنْ بَعْدِذٰلِكَ فَهیَ کَاالْحِجَارَة اَوْاَشَدُقَسْوَة وَ اِنَ مِنَ الْحِجَارَة لَمَا یَتَفَجَرُالْاَنْهرُ وَاِنَ مِنْها لَمَا یَشَقَقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ   وَ اِنَ مِنْها لَمَا یَهبِطُ مِنْ خَشْیَةِ الله  وَمَا الله بِغَافِلٍ عَمَا تَعْمَلُوْنَ (74).

پھراس کے بعد بھی تمہارےدل سخت ھی رھے چنانچہ وہ پتھر کی مثل یا اوربھی زیادہ سخت ھیں اور پتھروں میں تو ایسےبھی ھوتے ھیں کہ بعض سے ندیاں پھوٹتی ھیں اور بعض اُن میں ایسے ھوتے ھیں جو پھٹ جاتے ھیں تو ان میں سے پانی نکلتا ھے اور اُن میں ایسےبھی ھوتےھیں جو جلالِ الہی کے اثر سے نیچے آپڑتے ھیں اور جو کچھ بھی تم کرتےھواللہ اس سے بےخبر نہیں ھے."

؛؛؛

"پتھر کی مثل یا اور بھی زیادہ سخت" اس طرح کی تردید کلامِ الہی میں اور بھی جگہ ھے جیسے "قاب قوسین او ادنٰی"دو کمان بھر یا اس سے بھی کم" ان مقامات پر "اَوْ" جس کے معنی اُردو میں یا کے ھوتے ھیں اظہارِ شک کے لئے نہیں ھوتا بلکہ وہ "بل" کے معنی میں ھوتا ھے.مطلب یہ ھے کہ پتھر کی مثل بلکہ زیادہ سخت ،ان میں اصل واقعہ وھی ھوتا ھے جو بعد میں آتا ھے مگر یہ ایک اندازِ کلام بمقتضائے بلاغت اختیار کیا جاتا ھے.اس لئے کہ وھی بات ایک دم سے کہدی جائے تو اتنی سننے والے کے ذھن کو متوجہ نہیں کرتی جس قدر کہ اُس وقت جب اُسے تدریجی طور پر اُس کے ذھن تک پہنچایا جائے.

پتھروں کی جن کیفیات کا ذکر بعد میں کیا گیا ھے وہ ان کے دلوں کے زیادہ سخت ھونے کا ایک ادبی انداز میں ثبوت ھے، پتھروں میں تو پھر بھی کچھ نہ کچھ اثرپذیری آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ھے اور وہ اُن کے تکوینی تغیرات ھیں جو خالق کے نظامِ تخلیق کے ماتحت ھیں.وہ اُس نظامِ تخلیق سے باھر کبھی نہیں ھوتے.مگر تم ایسے انسان ھو کہ تمہارا دل خالق کے مقاصد سے باغی ھی رھتا ھے.پھر پتھروں کے ارادہ و جلالِ الہی سے متاثر ھونے کے مناظر خود بنی اسرائیل اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکے تھے.اس لئے یہ مثال اُن کو مخاطب کرکے مطلب کے واضح کرنے کیلئے انتہائی مناسب اور برمحل ھوسکتی تھی.(4)

**

"اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُؤْمِنُوْالَکُمْ وَقَدْ کَانَ فَرِیْقّ مِنْهمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ الله ثُمَ یُحَرِفُوْنَه مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْه وَهمْ یَعْلَمُوْنَ (75).

کیا تمہیں اس کی توقع ھے کہ یہ تمہارےکہنے سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ انمیں ایسے لوگ رھےھیں جو اللہ کا کلام سنتےھیں اورپھر اسے سمجھنے کے بعد جان بوجھ کر اس میں تحریف کردیتے ھیں"

؛؛؛

یہ سوال اب مسلمانوں سے ھے.کیا کا لفظ جو سوالی حیثیت رکھتی ھے بغرض استفہام نہیں ھے بلکہ بطور انکار ھے یعنی ان سے یہ امید نہ کرنا چاھیئے. "یؤمنوالکم" میں لام سبب کا ھے جس سے کہ معنی پیدا ھوتے ھیں کہ تمہاری تبلیغ و ھدایت سے متاثر ھوکر ایمان قبول کریں.(5)

تحریف جسکا ذکر ھورھا ھے یہ لفظی بھی ھوسکتی ھے اور معنوی بھی.لفظی کا مطلب ھے الفاظ میں ترمی کردینا اور معنوی اسکی غلط تاویل کرکے کہیں سے کہیں لےجانا.

"من بعد ماعقلوه" کا لفظ تحریف معنوی کیلئے کچھ زیادہ مناسب ھے کیونکہ سمجھنے کا تعلق معنی سے ھوتا ھے یعنی باوجودیکہ اُسکا جو اصلی مطلب ھے وہ سمجھ جاتے ھیں، پھر بھی جان بوجھ کر اُسے غلط معنی پہناتے ھیں اور یہ بھی مطلب ھوسکتا ھے کہ جب مطلب سمجھ لیتے ھیں کہ یہ الفاظ ھمارے خلاف پڑتے ھیں تو فورًا لفظوں میں ترمیم کردیتے ھیں.بحیثیت واقعہ حقیقت یہ ھے کہ یہود دونوں قسم کی تحریف کے مرتکب تھے.اس لئے دونوں مراد ھوسکتی ھیں.

**

------

(1). الاٰن جئت بالحق ای بحقیقة وصف البقرة بحیث میزتها عن جمیع ما عداها ولم یبق لنا فی شاءنها اشتباه اصلا (ابوالسعود)

(2). فی التصحیح عن الرضا علیه السلام لوانهم عمدوااولٰی بقرة اجزاتهم ولکن شددوافشددالله (بلاغی)

(3). فی الکلام محذوف والتقدیر فقلنا اضربوه ببعضها فضربوه ببعضها فحی (رازی)

(4). قد حدث هذٰا کلمه لبنی اسرائیل وشاهدوه برای العین فی الحجرالذی انفجرت منه العیون والجبل الذی تجلی له الله فجعله دکاواماانتم یابنی اسرائیل فلا تتاثر قلوبکم بالاٰیات ودلائل الحق (بلاغی)

(5). ای یحدثواالایمان لاجل دعوتکم ویستجیبواالدعوتکم کقوله فاٰمن له لوط (نیشاپوری)

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.