تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 61 تا 65)

تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 61 تا 65)

"وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَصْبِرَ عَلٰی  طَعَامٍ وَاحِدٍفَادْعُ لَنَا رَبَكَ یُخْرِجْ لَنَا  مِمَا تُنْبِتُ الْاَرْض ُ مِنْ م بَقْلِها وَ قِثَآئِهاوَفُوْمِهاوَعَدَسِهابَصَلِها^قَالَ  اَتَسْتَبْدِلُونَ الَذِیْ هوَ اَدْنٰی بِالَذِیْ  هوَ خَیْرّ^اِهبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَ لَکُمْ مَا  سَاَلْتُمْ ^ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهمُ الذِلَةّ وَ  الْمَسْکَنةُوَبَآءُوَبِغَضَبٍ مِنَ الله^ذَلِكَ  بِاَنَهمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ الله وَ  یَقْتُلُوْنَ بِغَیْرِالْحَقِ^ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا
وَ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(61)

اوراس وقت جب تم نےکہااےموسٰی ھم ھرگزایک کھانےپرصبرنہیں کریں گے لہذا اپنے پروردگار سے ھمارے لئے دعاکیجئے کہ وہ ھمارے لئے وہ چیزیں نکالے جو زمین سے اگتی ھیں جیسے ساگ ککڑی  گیہوں مسور اورپیاز. موسٰی نے کہا ارے  ایسی پست چیزیں تم بدل کرلینا چاھتے  ھو اس کے بجئےجو بہتر ھے.اچھاتو پھر
کسی شہر میں جا اترو وھاں تمہیں جو مانگتےھو سب مل جائیگا اور اُن پر ذلت  اور محتاجی عائد کردی گئی اور وہ اللہ  کےغضب میں گرفتار ھوگئے.یہ اسلئے کہ  وہ اللہ کی نشانیوں کابرابرانکارکرتےتھے  اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرڈالتے تھے یہ اسلئےکہ انہوں نےنافرمانی کی اور وہ  برابر ظلم وتعدی سےکام لیتے تھے"
؛؛؛
اس سے قبل ایک آیت میں یہ ذکر آچکا ھے کہ بنی اسرائیل کو دشت سینا میں کھانے کی دو چیزیں ملتی تھیں.ایک من جسے بعض لوگوں نے ترنجبین بتایا ھے اور دوسرے سلوٰی جسکی بٹیر کے نام سے تشریح کی گئی ھے.بنی اسرائیل کی بس ھر پھر کے وھاں یہی غذا تھی.ایک مدت تک اسے کھانے کے بعد اُنکی طبیعت بھر گئی اور اب انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ان غذاؤں کی فرمائش کی جن کے وہ مصر میں عادی تھے اور توریت میں اسکا ذکر ان الفاظ میں ھے:
"
اور بنی اسرائیل بھی پھرے اور روتے ھوئے بولے کون ھے جو ھمیں گوشت کھانے کو دیگا.ھمکو وہ مچھلی یاد آتی ھے جو ھم مفت مصر میں کھاتے تھے اور وہ کھیرے اور وہ خربوزے اور وہ گندنا اور وہ پیاز اور وہ لہسن پر اب تو ھماری جان خشک ھوچلی.یہاں ھماری آنکھوں کے سامنے کچھ بھی نہیں ھے مگر یہ من" (گنتی 6،4:11 (
اس طرح کی فرمائش یا التجا عام حالات میں ھوتی تو کوئی قابل اعتراض بات نہ تھی کیونکہ وہ فطرت بشری کے ایک عام تقاضہ پر مبنی تھی کہ انسان کا ایک غذا کھاتے کھاتے چاھے وہ کتنی ھی نفیس و لذیذ ھو جی اکتا ھی جاتا ھے.مگر یہاں صورت حال تو یہ تھی کہ مصر سے وہ نکالے گئے تھے مظالم فرعون سے نجات دلوانے کیلئے اور منزل مقصود یعنی فلسطین کے داخلہ سے وہ محروم ھوگئے اپنی اُس حکم عدولی اور سرکشی کی بدولت جو وھاں کے "قوم جبارین" سے مقابلہ کی صورت درپیش ھونے کے بعد ان سے ظاھر ھوئی اور جس میں آخر میں انہوں نے یہ انتہائی جسارت آمیز جملہ کہہ دیا تھا "فاذھب انت وربك فقاتلا اناههنا قاعدون" (المائدہ:24) یعنی آپ جانئے اور آپکا خدا دونوں جنگ کرلیجئے ھم یہیں بیٹھے ھوئے ھیں" اسی کے نتیجہ میں حکم ربانی ھوا "فانها محرمة علیهم اربعین سنة یتیهون فی الارض" (المائدہ :26 ( یہاں کا داخلہ ان پر چالیس برس کیلئے حرام ھوگیا.اتنی مدت میں یہ یونہی سرگرداں پھرتے رھیں گے" اس سے ظاھر ھے کہ یہ دشت نوردی کی زندگی ان کیلئے بطور سزا تھی.اس صورت میں تقاضائے عقل یہ تھا کہ وہ اپنے گریبان میں خود منہ ڈالتے اور جو کچھ مل رھا تھا اسے غنیمت سمجھ کر صبر و شکر کے ساتھ اسی پر اکتفا کرتے نہ یہ کہ وہ اپنے پیغمبر کو طرح طرح کی فرمائشیں کرکے اور ناز نخرے دکھا کر پریشان کریں.اسی کا نتیجہ ھے کہ موسٰی علیہ السلام نے ان سے جھلا کر کہا کہ "ایسا ھی ھے تو کسی شہر میں جاکر اُتر پڑو" یعنی تمہاری بداعمالیوں سے مقدر میں تو یہ جنگل لکھ گیا ھے.پھر جنگل میں یہ چیزیں کہاں؟ ان چیزوں کی طلب ھے تو مصر میں یا کسی شہر جاکر بودوباش اختیار کرو جو تمہارے بس میں نہیں ھے.(1)
یہ تو ایک جزئی واقعہ اس قوم کا تھا جو ذکر ھوگیا.اس مثال کو دینے کے بعد اب اس پوری قوم کیلئے قرآن کریم نے فیصلہ تقدیر سنایا ھے.جو انکی بداعمالیوں کا نتیجہ ھے.اسکا تعلق خاص ان لوگوں کے ساتھ نہیں جنہوں نے ایک غذا کو بدل کر دوسری غذا کی خواھش کی اس لئے کہ ان کے جرائم میں قتل انبیاء کا بھی ذکر ھے.یہ جرم قوم کی طرف نسبت رکھتا ھے ان خاص لوگوں کی طرف نہیں جو کہ تیہ میں حیران وسرگرداں پھر رھے تھے.پھر جبکہ یہ جرائم ان سے متعلق نہیں ھیں تو انکی پاداش کو بھی ان سے مخصوص نہیں سمجھنا چاھیئے بلکہ پوری قوم کیلئے کہا گیا ھے کہ ان پر ذلت اور فقیری عائد کردی گئی ھے. (2)
اس ذیل میں یہ یاد رکھنا چاھیئے کہ قرآن میں اسکا کہیں ذکر نہیں ھے کہ یہود کو حکومت کبھی نصیب نہیں ھوسکتی.اس میں ذلت اور محتاجی کا ذکر ھے اور واقعہ یہ ھے کہ ایک سود خور قوم کتنی ھی دولت مند یا بپائمردی ھمسایہ کسی حکومت کی بھی مالک ھوجائے پھر بھی وہ دناءت نفس اور محتاجی کے احساس سے بلند نہیں ھوسکتی.
اس ذلت ومسکنت اور غضب میں گرفتاری کا سبب یہ بتایا گیا ھے کہ وہ آیات الہیہ کا انکار کرتے رھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے.ظاھر ھے کہ انبیاء کا قتل ناحق تو ھوگا ھی مگر یہاں مطلب یہ ھے کہ خود انکی نظر میں بھی وہ انبیاء قتل کے مستحق نہ تھے. (3)
**

.
"
اِنَ الَذِیْنَ اٰمَنُوْاوَالَذِیْنَ هادُوْاوَالنَصٰرٰی  وَالصٰبِئِینَ مَنْ اٰمَنَ بِالله وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ  وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهمْ اَجْرُهمْ عِنْدَ رَبِهمْ وَلَا خَوْفّ عَلَیْهمْ وَلَا همْ یَحزَنُوْنَ(62)

یقینًا جومسلمان ھوں اورجو یہودی،عیسائی اور صابی ھوں جو کوئی بھی اللہ اور آخرت  پر ایمان لائےاورنیک عمل کرےتوان کیلئے ان کے پروردگارکےپاس انکا اجر ھےاور ان کیلئے کوئی خوف نہیں ھے اور نہ ھی وہ رنج میں مبتلا ھونگے"
؛؛؛
زمانہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اسلام لانیوالے کئی قسم کے لوگ تھے ایک وہ جو پہلے کسی دوسرے دین کو اختیار کئے ھوئے تھے خواہ شرک کی زندگی بسر کرتے ھوں اسکا مطلب یہ ھے کہ لادینی کی زندگی گزار رھے تھے.انہوں نے جب دین قبول کیا تو وہ اسلام ھی تھا یا وہ پیدائشی مسلم ھوں.دوسرے وہ جو پہلے کسی اور دین کو اختیار کئے ھوئے تھے جیسے یہودیت، نصرانیت، صبائیت وغیرہ.ان سب کیلئے قرآن بتانا چاھتا ھے کہ معیار نجات ایک ھی ھے.یعنی انکی سابقہ زندگی سے بحث نہیں کہ وہ کیا تھی.حال کیلئے سب کے واسطے نجات کی شرطیں یکساں ھیں اور وہ یہ کہ اب اسلامی تعلیمات کے مطابا مبداء و معاد کو مانیں اور صحیح طریقہ پر اعمالِ حسنہ کے پابند ھوں.ظاھر ھے کہ تعلیماتِ اسلامی کے مطابق عقائد و اعمال کو درست کرنے کے معنی یہ ھیں کہ انہوں نے محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رھنمائی کو قبول کرلیا اس لئے ایمان بالرسالۃ کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں.اب اس کے بعد آخرت میں اُنکو نجات کا بمناسبت درجہ ایمان وعمل یکساں طور پر استحقاق حاصل ھے.
**


"وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ  الطُوْرَ^خُذُوْا مَآاٰتَیْنٰکُمْ بِقُوْةٍ وَاذْکُرُوْا مَافِیْهِ لَعَلَکُمْ تَتَقُوْنَ(63).
اور جب ھم نے تم سے عہد لیا اور ھم نے تمہارے اوپر کوہ طور کو بلند کیا کہ جو ھمنےتمہیں دیاھےاسےمضبوطی سےھاتھ
میں لو اور جو کچھ اُس میں ھے اُسےیاد رکھو شاید اس طرح تم بچ سکو"
؛؛؛
یہ اس وقت کا ذکر ھے جب الواحِ توریت نازل ھوئی ھیں.
کوہِ طور کو اُن پر کیونکر بلند کیاگیا تھا.اسکی تفصیل تو قرآن میں ھے نہیں.اسرائیلیات کچھ بتاتے ھیں مگر وہ معتبر نہیں.بہرحال اس آیت کے اندازِ بیان سے ظاھر ھے کہ یہ کوئی غیرمعمولی مظاھرہ قدرت تھا.اس عملی تہدید کے ساتھ اُن سے کہا گیا کہ اس کتاب کے ساتھ جو نازل ھوئی ھے مضبوطی کے ساتھ تمسک کرو اور اس کے مضامین کو ھمیشہ یاد رکھو کہ اسی میں تمہاری نجات ھے.
**



"ثُمَ تَوَلَیْتُم مِنْ م بَعْدِ ذٰلِكَ° فَلَوْلَا  فَضْلُ الله عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتَه لَکُنْتُمْ  مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(64).
پھر تم اس کےبعد پلٹ گئے.اب اگر اللہ کا فضل وکرم تم پر نہ ھوتا اور اسکی رحمت تو تم سخت گھاٹااٹھانے والوں میں سے ھوتے"
؛؛؛
یعنی عہد وپیمان ھوجانے کے بعد بنی اسرائیل نے کچھ عرصہ کے بعد کتابِ الہی پر عمل بالکل ترک کردیا.اب ان کے اعمال کاتقاضہ تو یہ تھا کہ اُن پر عذاب نازل ھوجاتا اور وہ ھمیشہ کیلئے تباہ وبرباد کردیئے جاتے مگر خالق کے مخصوص فضل وکرم اور اسکی رحمت نے اُنکو مہلت دی اور وہ مکمل تباھی سے محفوظ رھے.
**



"وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ  فِی السَبْتِ فَقُلْنَا لَهمْ کُوْنُوْا قِرَدَةً  خٰسِئِیْنَ(65).
اور تمہیں معلوم ھیں وہ جنہوں نے تم  میں 'سبت' کے بارے میں تعدی سے کام لیاتھاتوھمارا ان کیلئےحکم ھواکہ ذلیل بندر ھوجاؤ"
؛؛؛
"سبت" شریعتِ یہود میں ایک خاص دن تھا جو عبادت وذکرِ الہی کیلئے مخصوص تھا.توریت میں اس کے احکام اس طرح بیان ھوئے ھیں :
"
پس سبت کو مانو اس لئے کہ وہ تمہارے لئے مقدس ھے جو کوئی اسکو پاک نہ جانے وہ ضرور مار ڈالا جائے.پس جو کوئی روزِ سبت کام کرے وہ ضرور مار ڈالا جائے" (خروج 14:13 ،15(
قرآن مجید جس واقعہ کو یاد دلارھا ھے اس کے اندازِ بیان سے ظاھر ھوتا ھے کہ وہ تاریخِ بنی اسرائیل کا کوئی ایسا واقعہ ھے جسکا زمانہ نزولِ قرآن میں عام طور سے یہود میں چرچا تھا.
کسی خاص جگہ کے لوگ جسکا نام قرآن نے نہیں لیا ھے توریت کے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے تھے.اسکی سزا میں ان پر عذاب نازل ھوا کہ وہ بندروں کی صورت میں مسخ ھوگئے.روایت میں اس مقام کا نام "ایلہ" آیا ھے جو دریا کے کنارے تھا.(4)
"ھم نے کہا"___ یا___ ھمارا ان کیلئے حکم ھونا اس کے لفظی قول یا حکم ھونے کی ضرورت نہیں ھے بلکہ یہ ارادہ الہی کی تعبیر ھے. (5)
بعض لوگوں نے کہا ھے کہ ان کے اخلاق بندروں کے سے کردیئے گئے مگر یہ ظاھر الفاظِ قرآنی کے خلاف ھے.
**
________________________________________________________

(1). والامر بالهبوط علی کلاالوجهین انماهوللتعجیز لان مصرهی بلاد عبودیتهم وذلتهم ومجمع عدوهم الملنکوب مضافاالی انهم کتب علیهم التیه فکیف یستطیعون الهبوط الی مصر (بلاغی)
(2). الظاهر ان الضمیر لایختص بالذین طلبوا البطل وماذکر فانهم لم یعهد منهم قتل النبیین بل یعود الضمیر علی نوع بنی اسرائیل (بلاغی(
(3).
فائدة التقئید مع ان قتل الانبیاء یستحیل ان یکون بحق الا یذان علی ذلك عندهم ایضا بغیرالحق (ابو السعود(
(4).
هم اهل ایله قرية علٰی شاطئ البحر وهوالمروی عن ابن جعفر (طبری
(
مقام ایلہ اگر وھی ھے جسکا ذکر توریت میں ایلات کے نام سے آتا ھے (استثناء 8:2) تو یہ فلسطین کے جنوب میں عرب کی عین شمالی سرحد پر (قدیم علاقہ روم میں) بحرِ قلزم کی مشرقی خلیج میں لبِ ساحل واقع ھے.موجودہ جغرافیہ اسکو عقبہ کے نام سے پہچانتا ھے اور عقبہ خلیجِ عقبہ کی مشہور بندرگاھ ھے. (دریابادی)
(5).
المراد منه سرعة الايجاد واظهار القدرة وان لم يكن هناك قول انما امرنا اذا اردنا ان نقول له كن فيكون (نیشاپوری(

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.