امام مہدی (عج) سنی تفاسیر کی روشنی میں

امام مہدی (عج) سنی تفاسیر کی روشنی میں

تین آسمانی ادیان کے پیروکاروں (مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں) کا عقیدہ ہے کہ حق و باطل کے اس طویل معرکے کے انجام پر حق کی فتح ہوگی، ایمان کفر پر غالب ہوگا، حق و علم و عدل کی حکمرانی ہوگی، زمین کا ورثہ صالحین کو ملے گا، خرافات اور گمراہی اور ظلم و ستم کا خاتمہ ہوگا-

نیز سب کا اتفاق ہے کہ جس فرد کے ذریعے خداوند متعال اپنا عہد و پیمان پورا کرے گا وہ ابراہیم (ع) کے فرزندوں میں سے ہے اور جس شریعت کے ذریعے وہ حکومت کرے گا وہ موسی (ع) کی شریعت نہیں بلکہ اس پیغمبر کی شریعت ہے جس کو خداوند متعال آخر الزمان میں مبعوث فرمائے گا- (1)

قرآن کی بہت سی آیات کریمہ حضرت مہدی (عج) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور بہت سی احادیث ان آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں اور ہم یہاں صرف چند آیات کریمہ کو اہل سنت کی تفسیر کی روشنی نقل کرتے ہیں:

1- {هُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِینِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّینِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ}- [2]

"وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو"-

تفسیر قرطبی میں ہے: اس سے مراد قیام مہدی (عج) کے وقت دوسرے ادیان پر اسلام کا غلبہ اور فتح ہے؛ اس زمانے میں یا تو لوگوں کو مسلمان ہونا پڑے گا یا پھر جزیہ ادا کرنا پڑے گا- اور یہ جو کہا گیا ہے کہ "مہدی وہی عیسی ہی ہیں"، غلط ہے کیونکہ صحیح روایتیں اس قدر متواتر وارد ہوئی ہیں جن سے بالکل واضح ہے کہ مہدی (عج) رسول خدا (ص) کی نسل سے ہیں"- (3)

کتاب البیان میں اس آیت کی تفسیر میں مرقوم ہے: "وہ جنہیں اللہ تمام ادیان پر غلبہ عطا کرے گا، مہدی (عج) ہیں جو حضرت فاطمہ (س) کی نسل سے ہیں"- (4) اور اہل سنت کی اہم تفسیر "کشف الاسرار" میں اس آیت کے ذیل مرقوم ہے: "اس آیت میں رسول محمد (ص) ہیں اور ہدی و ہدایت قرآن و ایمان ہے اور دین حق اسلام ہے اور خدا اس دین کو دوسرے ادیان پر برتری اور فوقیت عطا کرے گا کہ حتی کہ کوئی اور دین نہ رہے گا جس پر اسلام غالب نہ آیا ہو؛ اور یہ امر اس کے بعد واقع ہوگا اور ابھی واقع نہیں ہوا ہے"- (5)

2- {بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّۆْمِنِینَ}- [6]

"بقیۃ اللہ (یعنی اللہ کی طرف کا ذخیرہ) تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم صاحبِ ایمان ہو"-

شبلنجی لکھتے ہیں: "جب مہدی (عج) ظہور کریں گے؛ کعبہ کو اپنا مرکز قرار دیں گے اور ان کے 313 اصحاب ان سے جاملیں گے اور وہ اپنے پہلے کلام کے طور پر اسی آیت کی تلاوت کریں گے: "بقیۃاللہ خیر لکم---"، اور پھر فرمائیں گے: میں ہوں بقیۃ اللہ (اور اللہ کا ذخیرہ) اور خلیفۃ اللہ اور تم پر اللہ کی دلیل و حجت"- (7)  

3- {لَهُمْ فِی الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِی الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ}- (8)  

"ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی عذابِ عظیم ہے"-

سیوطی لکھتے ہیں: "خواری اور ذلت اس دنیا میں اس وقت ہوگی جب مہدی (عج) قیام کریں اور قسطنطنیہ کو فتح کریں اور ان (دشمنوں) کو ہلاک کردے"- (9) اور تفسیر طبری اور کشف الاسرار (10) میں بھی اسی قول پر تصریح ہوئی ہے جو سیوطی نے لکھا ہے"-

4- {یا أَيُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصابِرُوا وَرابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}- (11)  

"اے ایمان والو! ضبط و تحمل سے کام لو اور استقامت کرو اور سرحدوں پر مورچے مضبوط رکھو اور اللہ کی ناراضگی سے بچنے کا خیال رکھو- شاید کہ تم دین و دنیا کی بہتری حاصل کر لو"-

حافظ سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی روایت کرتے ہیں کہ امام محمد باقر (ع) نے فرمایا: واجبات و فرائض پر صبر و استقامت کرو اور دشمنوں کے آزار و اذیت پر استقامت کرو اور اپنے امام مہد (عج) کے ہمراہ جہاد کے لئے تیاری کرو"- (12)

5- {يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا}- (13)  

"آپ سے پوچھتے ہیں گھڑی کے متعلق، کہ اس کا قیام کب ہوگا؟

حافظ قندوزی حنفی مفضل بن عمر سے اور وہ امام جعفر صادق (ع) سے روایت کرتے ہیں کہ: "یہ حضرت قائم (عج) کے قیام کی گھڑی ہے"- (14)

6- {اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِی الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا}- (15)  

"جان لو کہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد"-

حافظ قندوزی حنفی کہتے ہیں: "خداوند متعال زمین کو "قائم" (عج) کے توسط سے زنہ کرے گا پس وہ اس پر عدل قائم کرں گے اور زمیں کو عدل کے ذریعے ـ ظلم کو توسط سے مرنے کے بعد ـ زندہ کریں گے"- (16)

7- {فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِی أَنزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ}- (17)   

"پس تم خدا اور رسول (ص) اس اس نور پر ایمان لاۆ، جو ہم نے نازل کیا ہے کہ اللہ تمہارے اعمال پر پوری طرح آگاہ ہے"-

علامہ قبیسی لکھتے ہیں: حافظ ابوجعفر محمد بن جریر طبری --- نے کہا --- آخری حج کے وقت رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے لوگو! {آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِی أَنزَلْنَا} اور پھر فرمایا: نور میرے وجود میں ہے، اور اس کے بعد علی کے وجود میں ہے اور پھر ان ہی کی نسل میں رہے گا قائم مہدی (عج) تک"- (18)

8- {حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِراً وَأَقَلُّ عَدَداًً}- (19) ‌

"یہاں تک کہ جب دیکھ لیں اسے جس کا انہیں وعدہ دیا جارہا ہے تو انہیں جان لیں گے کہ کون اپنے انصار کے لحاظ سے کمزور ہے اور اس کے ساتھیوں کی تعداد کم ہے"-

حافظ قندوزی لکھتے ہیں: امام سجاد (ع) نے {مَا يُوعَدُونَ} (جس چیز کا انہیں وعدہ دیا جارہا ہے) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: "اس آیت میں "موعود" "قائم" (عج) اور ان کے انصار و اعوان ہیں اور جب قائم (عج) ظہور کریں گے ان کے دشمن کمزور اور ان کی تعداد کم ہوگی"- (20)  

واضح رہے کہ اہل سنت کے نزدیک بہت زیادہ آیات کریمہ امام مہدی (عج) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں (21) لیکن ان سب کا ذکر اس مختصر جواب میں ممکن نہیں ہے-

حدیث:

رسول اللہ (ص) نے فرمایا:"میری امت میں مہدی (عج) قیام کریں گے؛ خداوند متعال انہیں لوگوں کی فریاد رسی کے لئے مبعوث فرمائے گا"- (22)

حوالہ جات:

1- فصلنامہ تخصصی انتظار، سال اوّل، شمارہ اول، پاییز 1380، ص 171، مقالة سامی بدری-

2- سورة توبہ، آیہ 33-

3- محمد بن احمد قرطبی، الجامع الاحکام القرآن، ج 8، ص 111-

4- مۆمن بن حسن الشبلنجی: نورالابصار، ص 343-

5- ، رشید الدین احمد میبدی، کشف الاسرار، ج 4، ص 119 ـ 120-
6- سورة ہود، آیة 86-

7- الشبلنجی: نورالابصار، ص 349-

8- سورة بقرہ، آیة 114-

9- جلال الدین سیوطی، الدّر المنثور فی التفسیر بالمأثور، ج 1، ص 264-

10- تفسیر کسف الاسرار، ج 1، ص 325-

11- آل عمران، آیة 200-

12- ینابیع المودة، ص 506-

13- سورة اعراف، آیة 187-

14- ینابیع المودة، ص 429-

15- سورہ حدید، آیة 17-

16- ینابیع المودة، ص 514-

17- سورة تغابن، آیة 8-

18- ماذا فی التاریخ، ج 3، ص 147 ـ 145-

19- سورة جن، آیة 24-

20- ینابیع المودہ، ص 515-

21- جیسے سورہ قصص کی آیت 5، سورہ انبیاء کی آیت 105 اور سورہ نساء کی آیت 59-

22- ابن حجر ہیتمی: الصواعق المحرقة، ص 162- 

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.