شہید اسلام عمار یاسر کا بیان امام مہدی(عج) کے بارے میں

شہید اسلام عمار یاسر کا بیان امام مہدی(عج) کے بارے میں

عمار بن یاسر (سلام اللہ علیہ) فرماتے ہیں: تمہارے نبی (ص) کے اہل بیت (ع) آخر الزمان میں کی حکومت ہوگی جس کی کئی علامتیں ہیں- پس زمین پر بیٹھے رہو اور رکے رہو حتی کہ اس کی علامت ظاہر ہوجائے- پس جب روم اور ترک تم پر غلبہ پائیں اور اپنی افواج کو ہتھیاروں سے لیس اور تیار کریں اور تمہارا خلیفہ مرجائے جو اموال جمع کیا کرتا تھا اور اس کے بعد ایک صحیح شخص آجائے جو چند سال بعد معزول کیا جائےگا اور اس کی بیعت ختم ہوگی اور ان کا اسی طرح سے ظاہر ہوجائے جس طرح کہ اس کی حکومت کا آغاز ہوا تھا؛ اور ترک اور روم کے درمیان تنازعہ شروع ہوجائے اور روئے زمین پر جنگوں کی کثرت ہوجائے اور دمشق کی فصیل سے ایک پکارنے والا پکارے: وائے ہو زمین والو پر اس شر سے جو قریب ہوچکا ہے اور اس کی مسجد کے مغرب میں زمین دھنس جائے حتی کہ اس کا صحن تک منہدم ہوجائےگا اور شام میں تین جماعتیں ظاہر ہوجائینگی اور تینوں حکومت کا مطالبہ کرےگی: ابقع، اصہب اور آل ابی سفیان میں سے ایک فرد، جو کلب کے قبیلے میں خروج کرےگا اور دمشق کے عوام کا محاصرہ کرےگا اور مغرب والے مصر کی طرف خروج کرینگے، پس جب وہ داخل ہوجائیں تو یہی سفیانی کی علامت ہے، اس سے قبل خروج کرےگا وہ جو آل محمد (ص) کی دعوت دےگا اور ترک حیرہ میں اترینگے اور رومی فلسطین میں ارتیں اور عبداللہ عبداللہ اگے آگے ہوگا حتی کہ قرقیسیا میں نہر کے کنارے ان دو کی فوجوں کا سامنا کرےگا اور ایک عظیم لڑائی لڑی جائے گی پس مردوں کو قتل کرےگا اور عورتوں کو قید کرےگا اس کے بعد قیس کی طرف لوٹےگا حتی کہ جزیرہ کے علاقے میں سفیانی اترے پس وہ یمانی پر سبقت لےگا روم میں اترینگے اور سفیانی ... اس کے بعد کوفہ کی طرف روانہ ہوگا پس آل محمد (ص) کے پیروکاروں اور انصار و اعوان کو قتل کرےگا اور ان میں سے ایک اہم فرد کو قت کرےگا- اس ببعد مہدی (عج) خارج ہونگے جب کہ ان کا علمدار شعیب بن بن صالح ہوگا اور جب شام والوں کو دیکھینگے کہ وہ ابن سفیان پر متحد ہوچکے ہیں تو مکہ کی طرف بڑھو کہ اسی وقت نفس الزکیہ اور ان کے بھائی کو مکہ میں قتل کیا جائےگا پس آسمان سے ایک منادی ندا دےگا کہ اے لوگو! بے شک تمہارے امیر فلاں ہیں اور یہی وہ مہدی (عج) ہیں جو زمین کو قسط و عدل سے بھر دینگے جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی-

 

حوالہ جات:

 

1- بحارالانوار ج 53 ص 207و208- معجم احادیث المهدی ج1 ص307و308.

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.