مہدی منتظر علیہ السلام

مہدی منتظر علیہ السلام

مہدی موعود کا مسئلہ بھی ان موضوعات میں شامل ہے جن کی وجہ سے اہل سنت شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں بلکہ بعض تو اس حدتک بڑھ جاتے ہیں  کہ تمسخر واستہزاء سے بھی نہیں چوکتے ۔ کیونکہ اہل سنت اس کو بعید ازعقل اور محال سمجھتے ہیں کہ کوئی انسان  بارہ سو برس تک زندہ مگر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ۔
بعض ہمعصر مصنفین نے تو یہاں تک کہا ہے کہ شیعوں نے امام عائب کا خیال اس لیے گھڑا ہے کہ انھیں مختلف ادوارمیں کثرت سے حکمرانوں کے ظلم وستم سہنے پڑے ہیں چنانچہ انھوں نے اس تصور سے اپنے دل کو تسلی دے  دی کہ مہدی منتظر ع کے زمانے میں جو زمین کو عدل وانصاف سےبھر دیں گے نہ صرف انھیں امن چین نصیب ہوگا بلکہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کا بھی موقع ملے گا ۔
پچھلے چند سالوں میں مہدی منتظرع کے ظہور سے متعلق چرچا بڑھ گیاہے ، خصوصا ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد جب پاسداران انقلاب ن ےیہ اپنا خاص طریقہ اور شعار بنالیا کہ وہ اپنی دعاؤں میں امام خمینی کے لیے یہ دعا کرتے تھے کہ خدایا خدایا تا انقلاب مہدی خمینی را نگہدار!
اس وقت سے مسلمان اور خصوصا تعلیم یافتہ مسلمان یہ پوچھنے لگے کہ مہدی ع کی اصلیت کیا ہے ؟۔کیا اسلامی عقائد میں مہدی کاواقعی وجود ہے یاہے یا یہ محض شیعوں کی من گھڑنت ہے ۔
داد تحقیق دی ہے ۔ نیز شیعہ اور سنی علماء کو اکثر کانفرسوں وغیرہ میں ایک دوسرے سے ملنے اور عقائد سے متعلق مختلف مسئلوں پرگفتگو کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے ، اس کے باوجود اہل سنت کے لیے یہ موضوع چیستان بنا ہوا ہے اس لیے کہ انھیں اس سے متعلق روایات سننے کا کم ہی اتفاق ہوتا ہے ۔

 
اسلامی عقائد میں مہدی منتظر ع کی حقیقت کیا ہے؟

اس بحث کے دوجزو ہیں :- پہلے جزو کا تعلق کتاب وسنت کے حوالے سے مہدی کی بحث سے ہے اور دوسرے کا تعلق مہدی کی زندگی ، ان کے غائب ہونے اور دوبارہ ظاہر ہونے سے ہے ۔
جہاں تک اس بحث کے پہلے جزو کا تعلق ہے ، شیعہ اورسنی دونوں کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ ص نے مہدی کی بشارت دی ہے ۔ آپ نے اپنے اصحاب کو بتلایا ہے کہ اللہ تعالی مہدی کو آخری زمانے میں ظاہر  کرے گا ۔ مہدی کی احادیث شیعہ اور اہل سنت دونوں کی معتبر  کتابوں میں ملتی ہیں ۔
میں اپنی عادت کے مطابق صرف ان روایات سے استدلال کروں گا جن کو اہل سنت صحیح اور معتبر سمجھتے ہیں ۔
سنن ابو داؤد میں ہے کہ
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :اگر دنیا کا فقط ایک دن باقی رہ جائے تو ایک ہی دن کو اللہ تعالی  اتنا طول دے گا کہ اس میں ایک شخص بھیجے گا جس کا نام میے نام پر ہوگا اور اس کی کنیت میری کنیت پر ہوگی ۔ وہ اس زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھری ہوئی ہوگی ۔(1)
ابن ماجہ میں ہے کہ
"رسول اللہ ص نے فرمایا : ہم اہل بیت کے لیے اللہ نے دنیا سے زیادہ آخرت کو پسند کیا ہے ۔ میرے بعد میرے اہل بیت ع کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا ، انھیں دھتکارا جائے گا ۔ پھر ایک قوم  مشرق کی طرف سے آئے گی جس کے ساتھ کا لے جھنڈے ہوں گے وہ لوگ  بھلائی مانگیں گے مگر انھیں ملے گی نہیں ۔ اس پر وہ لڑیں گے اور کامیاب ہوںگے  ۔ پھر جو وہ مانگتے تھے اس کی انھیں  پیشکش کی جائے گی مگر وہ قبول نہیں کریں گے ۔ آخر وہ (حکومت ) میرے اہل بیت ع میں سے ایک شخص کے حوالے کردیں گے جو زمین کو جو ظلم سے بھری ہوئی ہوگی ، انصاف سے بھردےگا ۔(2)
سنن ابن ماجہ میں ہے :
رسول اللہ نے فرمایا : مہدی ہم اہل بیت ع سے ہے ،
مہدی فاطمہ س کی اولاد سے ہوگا ۔
سنن ابن ماجہ ہی میں ہے کہ
" رسول اللہ ص نے فرمایا : میری امت میں مہدی ہوگا ۔ اس کا زمانہ اگر کم ہوا تو سات سال ورنہ نو سال ہوگا ۔ اس عرصے میں میری امت کو وہ آرام واطمینان ہوگا  جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا ۔ غلہ کی اتنی فراوانی ہوگی کہ ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔جو شخص مہدی سے کچھ مانگےگا  وہ اسے مل جائے گا ۔(3)
صحیح ترمذی میں آیا ہے :
رسول اللہ ص نے فرمایا : ایک شخص میری امت میں سے حکمراں ہوگا ۔ اس کا نام وہی ہوگا جو میرا نام ہے ۔ اگر قیامت آنے میں ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ اس دن کو اتنا طویل کردے گا کہ یہ شخص  حمکراں ہوسکے گا ۔(4)
رسول اللہ ص نے فرمایا : دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک حکومت ایک عرب کو نہ مل جائے جو میرے اہل بیت میں ہوگا اور جس کانام میرے نام پر ہوگا ۔
صحیح بخاری میں ابو قتادہ انصاری کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت ہے کہ ان سے ابو ہریرہ نے کہا کہ :"رسول اللہ ص نے فرمایا : کیسا ہوگا جب ابن مریم ع تم میں نازل ہوں گے اور تمھارے امام تم میں سے ہوں گے ۔(5)
قاضی ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ
اس بارے میں متواتر احادیث ہیں کہ اس امت میں مہدی ہوں گے ۔ اور عیسی بن مریم  آسمان سے اتر کے آئیں گے اور مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔(6)
ابن حجر مکی ہیثمی نے صواعق محرقہ میں لکھا ہے :
 ظہور مہدی کی متواتر احادیث بکثرت آئی ہیں ۔ (7)
صاحب غایۃ المامول کہتے ہیں کہ :
قدیم زمانے  سے علماء میں یہ مشہور ہے کہ آخری زمانے میں اہل بیت ع میں ایک شخص کا ضرور ظہور ہوگا جسے مہدی کہا جائے گا ۔ مہدی  کی احادیث  بہت سے صحابہ نے روایت کی ہیں اور اکابر محدثین نے انھیں اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ، جیسے : ابو داؤد ،ترمذی ، ابن ماجہ ،طبرانی ، ابو یعلی ، بزاز،
امام احمد بن حنبل ،حاکم ،وغیرہ ۔جس نے بھی مہدی سے متعلق تمام احادیث  کو ضعیف کہا ہے وہ غلطی پر ہے ۔ معاصرین  میں سے اخوان المسلمین کے مفتی سید سابق نے اپنی کتاب العقائد الاسلامیہ میں مہدی  کی احادیث  نقل کی ہیں ۔ ان کے نزدیک مہدی کا تصور اسلامی عقائد کا جزو ہے جس کی تصدیق واجب ہے ۔
شیعہ  کتابوں میں بھی مہدی کی احادیث کثرت سے نقل کی گئی ہیں ۔یہ تک کہا گیا ہے کہ احادیث مہدی سے زیادہ کوئی حدیث   رسول اللہ ص سے روایت نہیں  کی گئی ہے ۔
محقق لطف اللہ صافی گلپائیگانی نے اپنی مفصل کتاب منتخب الاثر میں مہدی علیہ السلام کے متعلق ساٹھ سے زیادہ سنی ماخذوں سے نقل  کی  ہیں ، ان میں صحاح ستہ  بھی شامل ہیں اور نوے سے زیادہ شیعہ ماخذوں سے نقل کی ہیں جن میں کتب اربعہ بھی شامل ہیں ۔(8)
دوسری بحث مہدی کی ولادت ، ان کی زندگی ، ان کی غیبت اور ان کی عدم وفات سے متعلق ہے ۔
یہاں بھی علمائے اہل سنت کی ایک خاصی بڑی تعداد یہ مانتی ہے کہ مہدی ، محمد بن الحسن العسکری ہیں جو ائمہ اہل بیت ع میں سے بارہویں امام ہیں وہ زندہ موجود ہیں اور آخر ی زمانے میں ظاہر  ہوکر زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں گے ۔ ان سے دین  کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ یہ علمائے اہل سنت  اس طرح شیعہ امامیہ کے اقوال کی تائید کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض علماء کے نام یہ ہیں :
(1):- محی الدین ابن عربی  سنہ 638 ھ  فتوحات مکیہ ۔(2):-سبط ابن جوزی سنہ 654ھ تذکرۃ الخواص ۔
(3):- عبدالوہاب شعرانی مصری سنہ 976 ھ عقائد الاکابر ۔(4) ابن خشاب سنہ ۔ توریخ موالید الائمہ ووفیّاتھم ۔
(5):- محمد بخاری حنفی سنہ ۔ فصل الخطاب
(6):- احمد بن ابراہیم بلاذری سنہ الحدیث المتسلسل ۔(7):- ابن الصباغ مالکی سنہ 855ھ الفصول المہمہ ۔
(8):- العارف عبدالرحمان سنہ ۔ مرآۃ الاسرار۔ (9):- کمال الدین محمد بن طلحہ شافعی  سنہ 652ھ مطالب المسئول فی مناقب آل الرّسول ع ۔(10):- سلیمان ابراہیم قندوزی حنفی  سنہ 1294 ھ ینابیع المودۃ ۔
اگر کوئی شخص متتبع  اور تحقیق سے کام لے تو ایسے علماء کی تعداد جو مہدی ع کی ولادت ، اور ان کے اس وقت تک زندہ باقی رہنے میں یقین رکھتے ہیں جب تک ان کا ظاہر ہونا اللہ کو منظور نہ ہو ۔ اس سے کئی گناہ بڑھ جائے گی۔ اس کے بعد وہ اہل سنت باقی رہ جاتے ہیں جو احادیث کی صحت کا اعتراف کرنے کے باوجود مہدی کی ولادت  وار ان کے زندہ باقی رہنے کا انکار کرتے ہیں ، ان کا یہ انکار دوسروں پر حجت نہیں ، کیونکہ ان کا ان باتوں سے انکار اور ان کو مستبعد سمجھنے کی وجہ محض ضد اور تعصب ہے ،ورنہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔ قرآن کریم کسی ایسے نظریے کی نفی نہیں کرتا بلکہ خود اللہ نے متعدد مثالیں  بیان کی ہیں تاکہ جمود  کا شکار لوگ آزادی سے سوچ سکیں اور اپنی عقلوں کی باگ  ذرا ڈھیلی چھوڑ دیں تاکہ انھیں یقین آجائے اور وہ مان لیں کہ اللہ تعالی نے متعدد معجزات اپنے پیغمبروں کے واسطے سے دکھائے ہیں تاکہ معاندین  صرف ان چیزوں کے ساتھ نہ چمٹے رہیں  جو ان کی محدود اور ناقص  عقلوں کے مطابق ممکن الوقوع ہیں یا وہ ایسے واقعات ہیں جو عام طور پر ہوتے رہتے ہیں ۔
لیکن !
<>وہ مسلمان جس کادل نور ایمان سے روشن ہے اسے اس پر حیرت نہیں ہوتی کہ اللہ نے عزیر کو سوسال تک مردہ رکھنے کے بعد پھر زندہ کردیا ۔ حضرت عزیر نے اپنی کھانے پینے  کی چیزوں کو دیکھا تو وہ ابھی خراب نہیں ہوئی تھیں ۔ اپنے گدھے کو دیکھا تو اللہ نے اسی کی ہڈیاں درست کردیں اور ان پر گوشت چڑھادیا ۔ گدھا دوبارہ ویسا ہی ہوگیا جیسا پہلے تھا ۔حالانکہ  اس کی ہڈیاں  گل سڑ چکی تھیں۔حضرت عزیر ع نے یہ سب دیکھ کر کہا : میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
دیکھیے ! کتنی جلدی حضرت عزیر کے خیالات بدل گئے ۔ابھی تو اجڑی ہوئی بستی کو دیکھ کر انھوں نے حیرت سےکہا تھا کہ اسے موت کے بعد اللہ کیسے زندہ کرے گا ؟
<>جو مسلمان قرآن کریم میں یقین رکھتا ہے ۔ اسے اس بات پرکوئی حیرانی نہیں  کہ حضرت ابراہیم نے پرندوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کے اجزا پہاڑوں پربکھیر دیے اور پھر جب ان کو بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے آگئے ۔
<>وہ ایمان مسلمان جسے اس پر کوئی حیرانی نہیں کہ جب حضرت ابراہیم کو  آگ میں ڈالا گیا ، تو وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی ۔ اور اس نے حضرت ابراہیم کو نہ جلایا اور نہ کوئی ضرر پنہچایا ۔
<>وہ بایمان  مسلمان جسے ان پر کوئی حیرانی نہیں کہ حضرت عیسی بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور وہ ابھی زندہ ہیں اور ایک نہ ایک دن زمین پرواپس آئیں گے ۔
<>وہ باایمان مسلمان جسے اس پرکوئی حیرانی نہیں  کہ حضرت عیسی ع مردوں کو زندہ کردیتے تھے اور پیدائشی مبروص اور اندھے کو اچھا کردیتے تھے ۔
<>وہ با ایمان  مسلمان جسے اس پر کوئی حیرانی نہیں کہ حضرت  موسی ع اور بنی اسرائیل  کے لئے سمندر پھٹ گیا  تھا اور یہ لوگ اسے کے بیچ میں سے اس طرح گزر گئے تھے کہ ان کے بدن بھی گیلے نہیں ہوئے تھ ے۔حضرت موسی ع کا عصا سانپ بن گیا تھا اور دریائے نیل کا پانی خون میں تبدیل ہوگیا تھا ۔
<>وہ باایمان مسلمان جسے اس پر تعجب نہیں کہ حضرت سلیمان پرندوں ، جنوں اور چیونٹیوں سے باتیں کیا کرتے تھے ، ان کا تخت ہوا پر اڑتا  تھا اور وہ لمحوں میں ملکہ بلقیس کا تخت منگو لیتے تھے ۔
<>وہ باایمان مسلمان جس اس پر  تعجب نہیں  کہ حضرت خضر ع ،جن کی ملاقات حضرت موسی ع سے ہوئی تھی زندہ سلامت ہیں ۔
<>وہ باایمان  مسلمان جسے اس پر تعجب نہیں کہ ابلیس ملعون زندہ ہے حالانکہ وہ حضرت آدم سے بھی پہلے کی مخلوق ہے اور ساری تاریخ انسانیت اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزری اور وہ ہر موڑ پر اس کے ساتھ رہا ہے ۔ ہو خود پوشیدہ ہے ۔ ان کی بد اعمالیوں سے سب واقف ہیں ، نہ کسی نے اس کو دیکھا ہے اور نہ کوئی دیکھے گا ۔ وہ اور اس کے چیلے چانٹے سب لوگوں کو دیکھتے ہیں مگر ان کو کوئی نہیں دیکھتا ۔
<>پس جو مسلمان ان سب باتوں پر یقین رکھتا ہے اور ان کے وقوع پذیر ہونے پر اسے کوئی حیرانی نہیں ہوتی ، اس کے لیے اس میں کیا تعجب کی بات ہے کہ مہدی ایک عرصے تک اللہ تعالی کی کسی مصلحت کی وجہ سے پوشیدہ رہیں ؟
جن واقعات کا ہم نے ذکر کیا ہے اس سے کئی گنازیادہ غیر معمولی واقعات قرآن میں مذکور ہیں ۔ یہ خارق العادت واقعات عام طور پر نہیں ہوتے ، نہ لوگ ان سے مانوس ہیں بلکہ سب لوگ مل کر بھی چاہیں تو اس قسم کے واقعات پر قادر نہیں ہوسکتے ۔ یہ سب اللہ کے اپنے کیے ہوئے کام ہیں اور اللہ کو کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں کسی کام کے کرنے سے نہیں روک سکتی ۔ مسلمان ان باتوں کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ قرآن میں جو کچھ آیاہے مسلمان اس پ ر بغیر کسی استثناء یا ذہنی تحفظ کے ایمان لاتے ہیں ۔
اس کے علاوہ ، مہدی سے متعلق امور سے شیعہ زیادہ واقف ہیں کیونکہ مہدی ان کے امام ہیں اور شیعہ ان کے اور ان کے آباء واجداد کے ساتھ رہے ہیں ، مثل  مشہور ہے کہ :
"أهل مكّة أدرى بشعابها"
مکے کی راویوں کو اہل مکہ سے بڑھ کوئی نہیں جانتا ۔ شیعہ اپنے ائمہ کا احترام اور تعظیم کرتے ہیں ۔انھوں نے اپنے ائمہ قبروں کو پختہ اور شاندار بنایا ہے جو زیارت گاہ خلاف ہیں ۔ اگر بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام  کی وفات ، ہوچکی ہوتی تو آج ان کے قبر بھی مشہور ہوتی ۔ شیعہ یہ کہہ سکتے تھ ےکہ وہ مرنے کے بعد زندہ ہوں گے ۔ کیونکہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہے
 جیسا کہ قرآن میں متعدد ایسے واقعات کاذکر ہے ۔ اور شیعہ تورجعت کے بھی قائل ہیں ۔
لیکن شیعہ من گھڑت اور فرضی  باتیں نہیں کرتے ، نہ ہو بہتان باندھے ہیں ، نہ خیال دنیا میں رہتے ہیں ، جیسا کہ ان کے متعصب دشمن سمجھتے ہیں ۔ اس لیے ان کا اصرار اس پر ہے کہ امام مہدی علیہ السلام زندہ ہیں ، ان کو اللہ کی طرف سے رزق  ملتا ہے ، وہ اللہ کی کسی مصلحت کے تحت پوشیدہ ہیں ۔ ممکن ہے کہ راسخون فی العلم کو یہ مصلحت معلوم بھی ہو ۔ شیعہ اپنی دعاؤں میں کہتے ہیں :
"عجّل الله تعالى فرجه"
کیونکہ مہدی کے ظہور سے مسلمانوں کی عزت وحرمت ،کامیابی وکامرانی اور صلاحج وفلاح وابستہ ہے ۔
امام مہدی علیہ السلام کے بارےمیں شیعہ سنی ، اختلاف کوئی ٹھوس اور حقیقی اختلاف نہیں ہے کیونکہ اہل سنت کا بھی عقیدہ ہے کہ امام مہدی آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے ، زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ، ان کے دور میں مسلمان تمام روئے زمین کے مالک ہوں گے خوشحالی عام ہوگی اور کوئی غریب نہیں رہے گا ۔
اختلاف فقط اس میں بے کہ شیعہ کہتے کہتے ہیں کہ ان کی ولادت ہوچکی ہے جبکہ اہل سنت کہتے ہیں کہ وہ ابھی پیداہوں گے ۔(9)لیکن  اس بات پر فریقین کا اتفاق  ہے کہ ان کا  ظہور  قیامت کے قریب ہوگا اس لیے مسلمان میں اتحاد واتفاق پیدا کرنے اور پرانے زخموں پر پھایا رکھنے کے لیے سب مسلمانوں کو چاہے کہ مل کر کیا شیعہ کیاسنی خلوص سےاپنی دعاؤں اور نمازی میں اللہ تعالی سے التجاء کریں کہ وہ امام مہدی ع کے ظہور جلدی فرمایے :
کیونکہ ان کے ظہور میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہے اور ان کے خروج سے امت محمدیہ کی کامیابی وخوشحالی وابستہ ہے ۔ بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مہدی اکر زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں ۔
سب مسلمان کیا سنی اور کیا شیعہ امام مہدی ع کے آنے پر یقین رکھتے ہیں ۔خواہ اہل سنت کے قول کے بموجب ہو پیدا ہوں یا شیعوں کے کہنے کے مطابق وہ غائب رہنے کے بعد ظاہر ہوں ۔
اہم  بات یہ ہے کہ یہ کوئی فرضی اور خیالی قصہ نہیں ہے جیسا کہ بعض شرپسند ظاہر کرناچاہتے ہیں ، بلکہ مہدی کی شخصیت  ایک حقیقی شخصیت ہے جس کی بشارت رسول اللہ ص نے دی ہے اور جواب پوری انسانیت کاخواب بن گئی ہے ۔
مسلمانوں کے علاوہ یہ عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی عقیدہ ہے کہ ایک منجی  یا نجات دہندہ آئیگا جو دنیا کی اصلاح کرے گا ۔ اس نجات دہندہ کے یہود ونصاری بھ منتظر ہیں ، اسی لیے مہدی کے دادا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام "مہدی منتظر " رکھا ہے ۔
اے اللہ ! سب مسلمانوں کو خیر وتقوی کی توفیق دے ، ان کو صفوں مین اتحاد اور دلوں میں اتفاق پیدا کر، ان کی خرابیوں کی اصلاح کر ، اور انھیں دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا کر ۔
-----------------------
(1):- سنن ابو داؤد جلد 2 صفحہ 422۔
(2):-سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4082۔
(3):- سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4086۔
(4):- جامع ترمذی جلد 9 صفحہ 74- 75
(5):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 143 باب نزول عیسی بن مریم س ۔
(6):- فتح الباری جلد 5 صفحہ 362
(7):- صواعق محرقہ جلد 2 صفحہ 211-
(8):- اسلام میں مہدی پر اعتقاد کی جڑیں بہت گہری ہیں ۔ بعض علماء نے اس عقیدے کو دین کے واجبات  میں شمار  کیا ہے ۔ مہدی کی خصوصیات اور شخصیت کے بارے میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے متعلق زیادہ تر روایات صحیح ہیں اور جو خوشخبری ان کے بارے میں دی گئی ہے وہ متواتر ہے ۔
اس سلسلے میں یہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ جیسا کہ مشہور  مورخ طبری نے لکھا ہے :
" مہدی کی غیبت سے متعلق روایات شیعہ محدثین نے امام محمد باقر ع اور امام جعفر صادق ع کی زندگی ہی میں (یعنی ولادت مہدی ع سے  150 سال پہلے )اپنی کتابوں مین درج کردی تھی ۔ یہ امر بجائے خود ان روایات کی صحت کا منہ بولتا ثبوت ہے "۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کئی مقامات پر مہدی کے بارے میں روایات بلاواسطہ نقل کی گئی ہیں ۔اور اسی قبیل کی تقریبا پچاس احادیث دوسری معروف تالیفات میں بھی درج ہیں ،جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں :
جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ ، سنن ابو داؤد ، مسند احمد بن حنبل ، معجم طبرانی ، طبقات ابن سعد ، مستدرک حاکم ، صواعق  محرقہ ، منہاج النبویہ  ، ینابیع المودۃ ، دلائل النبوۃ ، فتوحات مکیہ ، الملاحم ، تاریخ بغداداور کتاب الفتن ۔
ان معتبر مآخذ میں رسول اکرم ص سے تقریبا پچاس  ایسی احادیث نقل کی گئی ہی جن میں یوم قیامت  سے پیشتر مہدی کے ظہور کے بارے میں واضح پیشین گوئی کی گئی ہے ۔ ان میں سے بیشتر احادیث صحیح ہیں اور ان کو 33 معروف صحابیوں  اور صحابیات نے آنحضرت  ص سے بلاواسطہ نقل کیا ہے جن میں سے چند یہ ہیں :
امام علی ع۔ امام حسین ع۔ ابو سعید خدری ۔ عبداللہ بن مسعود ۔ثوبان ۔ابو ہریرہ ۔ طلحہ بن مالک ۔ جبیر بن عبداللہ ۔ عثمان بن عفان ۔ عوف بن مالک ۔طلحہ بن عبیداللہ ۔ حذیفہ بن یمان ۔ عمران بن حصین ۔ عبداللہ بن عمر ۔ ام سلمہ ۔ ام حبیبہ ۔عائشہ ۔ عبدالرحمان بن عوف ۔ ابو ایوب انصاری ۔ عباس بن عبدالمطلب ۔ ابن عباس اور عمار یاسر ۔(ناشر)
(9:- یہ اسی خیال کا شاخسانہ تھاکہ انڈونشی خاتون زہرہ فونا مہدی کی والدہ ہونے کا ڈرامہ رچایا ۔ اور یہ کہ متعدد لوگوں نے مختلف زمانے میں "مہدویت " کا جھوٹا دعوی کیا ۔(ناشر)

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.