امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ھیں

امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ھیں

یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔

امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ھیں [1]

”بے شک میں اھل زمین کے لئے امن و سلامتی ھوں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امان کا باعث ھیں“۔

شرح
یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ھے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نھیں ھے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ھے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ھیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ھوتے ھیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ھوا ھے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ھوا ھے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ھو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ھوجائیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کو اھل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے امن و امان ھوتے ھیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ھیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوٴں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ھے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ھے۔
۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ھیں اور اھل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراھم ھوا ھے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اھل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ھے۔
فلسفہٴ امامت اور صفات امام [2]

”اوصیائے (الٰھی) وہ افراد ھیں جن کے ذریعہ خداوندعالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ھے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ھے، خداوندعالم نے ان کے اور ان کے (حقیقی) بھائیوں، چچا زاد (بھائیوں) اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ھے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ھوجائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ھے کہ اوصیائے الٰھی کو خداوندعالم گناھوں سے محفوظ رکھتا ھے اور ان کو ھر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ھے، خداوندعالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا رازدار قرار دیا ھے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ھے۔ اگر یہ نہ ھوتے تو پھر تمام لوگ ایک جیسے ھوجاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاھل میں تمیز نہ ھوپاتی“۔

شرح:
یہ کلمات امام مھدی علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کے خط کے جواب میں تحریر کئے ھیں، امام علیہ السلام چند نکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد امام اور امامت کی حقیقت اور شان کو بیان کرتے ھوئے امام کی چند خصوصیات بیان فرماتے ھیں، تاکہ ان کے ذریعہ حقیقی امام اور امامت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان تمیز ھوسکے:
۱۔ امام کے ذریعہ خدا کا دین زندہ ھوتا ھے؛ کیونکہ امام ھی اختلافات، فتنوں اور شبھات کے موقع پر حق کو باطل سے الگ کرتا ھے اور لوگوں کو حقیقی دین کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
۲۔ نور خدا جو رسول خدا (ص)سے شروع ھوتا ھے، امام کے ذریعہ تمام اور کامل ھوتا ھے۔
۳۔ خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (ص)کی ذرّیت میں امام کی پہچان کے لئے کچھ خاص صفات معین کئے ھیں، تاکہ لوگ امامت کے سلسلہ میں غلط فھمی کا شکار نہ ھوں، مخصوصاً اس موقع پر جب ذرّیت رسول کے بعض افراد امامت کا جھوٹا دعویٰ کریں۔ ان میں سے بعض خصوصیات کچھ اس طرح ھیں: گناھوں کے مقابلہ میں عصمت، عیوب سے پاکیزگی، برائیوں سے مبرّااور خطا و لغزش سے پاکیزگی وغیرہ، اگر یہ خصوصیات نہ ھوتے تو پھر ھرکس و ناکس امامت کا دعویٰ کردیتا، اور پھر حق و باطل میں کوئی فرق نہ ھوتا، جس کے نتیجہ میں دین الٰھی پوری دنیا پر حاکم نہ ھوتا۔
فلسفہٴ امامت [3]

”کیا تم نے نھیںدیکھا کہ خداوندعالم نے کس طرح تمھارے لئے پناہ گاھیں قرار دی ھیں تاکہ ان میں پناہ حاصل کرو، اور ایسی نشانیاں قرار دی ھیں جن کے ذریعہ ھدایت حاصل کرو، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک“۔

شرح
یہ تحریر اس توقیع [4] کا ایک حصہ ھے جس کو ابن ابی غانم قزوینی اور بعض شیعوں کے درمیان ھونے والے اختلاف کی وجہ سے امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا ھے، ابن ابی غانم کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نھیں کیاھے، اور سلسلہٴ امامت آپ ھی پر ختم ھوگیا ھے۔ شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت امام مھدی علیہ السلام کو خط لکھا جس میں واقعہ کی تفصیل لکھی، جس کے جواب میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ایک خط آیا، مذکورہ حدیث اسی خط کا ایک حصہ ھے۔
امام زمانہ علیہ السلام امامت، وصایت اور جانشینی میں شک و تردید سے دوری کرنے کے سلسلہ میں بہت زیادہ سفارش کرنے کے بعد فرماتے ھیں: وصایت کا سلسلہ ھمیشہ تاریخ کے مسلم اصول میں رھا ھے، اور جب تک انسان موجود ھے زمین حجت الٰھی سے خالی نھیں ھوگی، امام علیہ السلام نے مزید فرمایا:
”تاریخ کو دیکھو! کیا تم نے کسی ایسے زمانہ کو دیکھا ھے جو حجت خدا سے خالی ھو، اور اب تم اس سلسلہ میں اختلاف کرتے ھو“؟!
امام علیہ السلام نے حدیث کے اس سلسلہ میں امامت کے دو فائدے شمار کئے ھیں:
۱۔ امام، مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں ملجا و ماویٰ اور پناہ گاہ ھوتا ھے۔
۲۔ امام،لوگوں کو دین خدا کی طرف ھدایت کرتا ھے۔
کیونکہ امام معصوم علیہ السلام نہ صرف یہ کہ لوگوں کو دین اور شریعت الٰھی کی طرف ھدایت کرتے ھیں بلکہ مادّی اور دنیوی مسائل میں ان کی مختلف پریشانیوں کو بھی دور کرتے ھیں۔
علم امام کی قسمیں [5]

”ھم (اھل بیت) کے علم کی تین قسمیں ھوتی ھیں: گزشتہ کا علم، آئندہ کا علم اور حادث کا علم۔ گزشتہ کا علم تفسیر ھوتا ھے، آئندہ کا علم موقوف ھوتا ھے اور حادث کا علم دلوں میں بھرا جاتا اور کانوں میں زمزمہ ھوتا ھے۔ علم کا یہ حصہ ھمارا بہترین علم ھے اور ھمارے پیغمبر (ص)کے بعد کوئی دوسرا رسول نھیں آئے گا“۔

شرح
یہ الفاظ امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ھیں جس میں علی بن محمد سمری (علیہ الرحمہ) نے علم امام کے متعلق سوال کیا تھا۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کتاب ”مرآة العقول“ میں ان تینوں علم کے سلسلہ میں فرماتے ھیں:
”علم ماضی سے وہ علم مراد ھے جس کو پیغمبر اکرم (ص)نے اپنے اھل بیت علیھم السلام سے بیان کیا ھے؛ نیز یہ علم ان علوم پر مشتملھے جو گزشتہ انبیاء علیھم السلام اور گزشتہ امتوں کے واقعات کے بارے میں ھیں اور جو حوادثات ان کے لئے پیش آئے ھیں اور کائنات کی خلقت کی ابتداء اور گزشتہ چیزوں کی شروعات کے بارے میں ھیں۔
علم ”غابر“ سے مراد آئندہ پیش آنے والے واقعات ھیں؛ کیونکہ غابر کے معنی ”باقی“ کے ھیں، غابر سے مراد وہ یقینی خبریں ھیں جو کائنات کے مستقبل سے متعلق ھیں، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے اس کو ”موقوفہ“ کے عنوان سے یاد کیا ھے جو علوم کائنات کے مستقبل سے تعلق رکھتے ھیں وہ اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھیں، موقوف یعنی ”مخصوص“۔
”علم حادث“ سے مراد وہ علم ھے جو موجودات اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ھے، یا مجمل چیزوں کی تفصیل مراد ھے۔۔۔ ”قَذْفُ في الْقُلُوبِ“، سے خداوندعالم کی طرف سے عطا ھونے والا وہ الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے بغیر حاصل ھوا ھو۔
”نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ“، سے وہ الٰھی الھام مراد ھے جو کسی فرشتہ کے ذریعہ حاصل ھوا ھو۔
تیسری قسم کی افضلیت کی دلیل یہ ھے کہ الھام (چاھے بالواسطہ ھو یا بلا واسطہ) اھل بیت علیھم السلام سے مخصوص ھے۔
الٰھی الھام کی دعا کے بعد ممکن ھے کوئی انسان (ائمہ علیھم السلام کے بارے میں) نبی ھونے کا گمان کرے، اسی وجہ سے امام زمانہ علیہ السلام نے آخر میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کوئی پیغمبر نھیں آئے گا“۔[6]
ماخذ

 
[1] کمال الدین، ج ۲، ص ۴۸۵، ح ۱۰؛ الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۹۲، ح۲۴۷؛ احتجاج، ج۲، ص۲۸۴؛ اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۲، کشف الغمة، ج ۳، ص ۳۴۰، الخرائج والجرائح، ج ۳، ص ۱۱۱۵، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۸۱، ح ۱۰۔
[2] الغیبة، طوسی، ص ۲۸۸، ح ۲۴۶، احتجاج، ج ۲، ص ۲۸۰، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۹۴۔۱۹۵، ح ۲۱۔
[3] الغیبة، شیخ طوسی، ص ۲۸۶، ح ۲۴۵، احتجاج، ج ۲، ص ۲۷۸، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۷۹، ح ۹۔
[4] توقیع ، امام زمانہ علیہ السلام کے اس خط کو کھا جاتا ھے جس کو آپ نے کسی کے جواب میں بقلم خود تحریر کیا ھو۔(مترجم)
[5] دلائل الامامة، ص ۵۲۴، ح ۴۹۵، مدینة المعاجز، ج ۸، ص ۱۰۵، ح ۲۷۲۰۔
[6] دیکھئے: مرآة العقول، ج۳، ص ۱۳۶ تا۱۳۷۔

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.