حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام(حصہ چہارم)

حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام(حصہ چہارم)

امام مہدی کاذکرکتب آسمانی میں

حضرت داؤد کی زبورکی آیت ۴# مرموز ۹۷ میں  ہے کہ آخری زمانہ میں  جوانصاف کامجسمہ انسان آئے گا ، اس کے سر پرابرسایہ فگن ہوگا ۔ کتاب صفیائے پیغمبرکے فصل ۳ آیت ۹ میں  ہے آخری زمانے میں  تمام دنیا موحدہوجائے گی ۔کتاب زبورمرموز ۱۲۰ میں  ہے جوآخرالزماں آئے گا، اس پرآفتاب اثراندازنہ ہوگا۔صحیفہ شعیاپیغمبرکے فصل ۱۱ میں  ہے کہ جب نورخداظہورکرے گا توعدل وانصاف کا ڈنکا بجے گا ۔شیراوربکری ایک جگہ رہیں گے چیتااوربزغالہ ایک ساتھ چریں  گے شیراورگوسالہ ایک ساتھ رہیں گے ،گوسالہ اورمرغ ایک ساتھ ہوںگے شیراورگائے میں  دوستی ہوگی ۔ طفل شیرخوارسانپ کب بل میں  ہاتھ ڈالے گااوروہ کاٹے گانہیں پھراسی صفحہ کے فصل ۲۷ میں ہے کہ یہ نورخدا جب ظاہرہوگا، توتلوارکے ذریعہ سے تمام دشمنوں سے بدلہ لے گا صحیفہ تنجاس حرف الف میں  ہے کہ ظہورکے بعد ساری دنیا کے بت مٹادئیے جائیں گے ،ظالم اورمنافق ختم کردئیے جائیں گے یہ ظہورکرنے والاکنیزخدا (نرجس) کابیٹاہوگا ۔ توریت کے سفرانبیاٴمیں  ہے کہ مہدی ظہورکریں گے عیسی آسمان سے اتریں  گے ،دجال کوقتل کریں گے انجیل میں  ہے کہ مہدی اورعیسی دجال اورشیطان کوقتل کریں گے ۔ اسی طرح مکمل واقعہ جس میں  شہادت امام حسین اورظہورمہدی علیہ السلام کااشارہ ہے ۔انجیل کتاب دانیال باب ۱۲ فصل ۹ آیت ۲۴ رویائے ۲# میں  موجود ہے (کتاب الوسائل س ۱۲۹ طبع بمبئی ۱۳۳۹ ہجری )۔

امام مہدی کی غیبت کی وجہ

مذکورہ بالاتحریروں سے علماٴاسلام کااعتراف ثابت ہوچکا یعنی واضح ہوگیا کہ امام مہدی کے متعلق جوعقائد اہل تشیع کے ہیں وہی منصف مزاج اورغیرمتعصب اہل تسنن کے علماء کے بھی ہیں اورمقصد اصل کی تائید قرآن کی آیتوں نے بھی کردی ،اب رہی غیبت امام مہدی کی ضرورت اس کے متعلق عرض ہے کہ :

۱ ) اخلاق عالم نے ہدآیت خلق کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبراورکثیرالتعداد ان کے اوصیاٴ بھیجے ۔پیغمبروں میں  سے ایک لاکھ تئیس ہزار نوسو ننانویں  انبیاء کے بعد چونکہ حضوررسول کریم تشریف لائے تھے ۔لہذا ان کے جملہ صفات وکمالات ومعجزات حضرت محمدمصطفی صلعم میں  جمع کردئیے تھے اورآپ کوخدانے تمام انبیاء کے صفات کا جلوہ برواربنایا بلکہ خود اپنی ذات کامظہرقراردیا تھا اورچونکہ آپ کوبھی اس دنیائے فانی سے ظاہری طورپرجاناتھا اس لئے آپ نے اپنی زندگی ہی میں  حضرت علی کوہرقسم کے کمالات سے بھرپورکردیاتھا یعنی حضرت علی اپنے ذاتی کمالات کے علاوہ نبوی کمالات سے بھی ممتازہوگئے تھے ۔سرورکائنات کے بعد کائنات عالم صرف ایک علی کی ہستی تھی جوکمالات انبیاء کی حامل تھی آپ کے بعد سے یہ کمالات اوصیاٴمیں  منتقل ہوتے ہوئے امام مہدی تک پہونچے بادشاہ وقت امام مہدی کوقتل کرنا چاہتاتھا اگروہ قتل ہوجاتے تودنیاسے انبیاء واوصیاء کا نام ونشان مٹ جاتا اورسب کی یادگاربیک ضرب شمشیرختم ہوجاتی اورچونکہ انھیں انبیاء کے ذریعہ سے خداوند عالم متعارف ہواتھا لہذا اس کابھی ذکرختم ہوجاتا اس لئے ضرورت تھی کہ ایسی ہستی کومحفوظ رکھا جائے جوجملہ انبیاء اوراوصیاء کی یادگاراورتمام کے کمالات کی مظہرہو ۔

۲ ) خداوندے عالم نے قرآن مجید میں  ارشاد فرمایا ہے ” وجعلھا کلمة باقیة فی عقبہ “ ابراہیم کی نسل میں  کلمہ باقیہ قراردیاہے نسل ابراہیم دوفرزندوں سے چلی ہے ایک اسحاق اوردوسرے اسماعیل ۔ اسحاق کی نسل سے خداوندعالم جناب عیسی کوزندہ وباقی قراردے کر آسمان پرمحفوظ کرچکاتھا ۔ اب بہ مقتضائے انصاف ضرورت تھی کہ نسل اسماعیل سے کسی ایک کوباقی رکھے اوروہ بھی زمین پرکیونکہ آسمان پرایک باقی موجودتھا ،لہذا امام مہدی کوجونسل اسماعیل سے ہیں زمین پرزندہ اورباقی رکھا اورانھیں بھی اسی طرح دشمنوں کے شرسے محفوظ کردیا جس طرح حضرت عیسی کومحفوظ کیاتھا ۔

۳ ) یہ مسلمات اسلامی سے ہے کہ زمین حجت خدا اورامام زمانہ سے خالی نہیں رہ سکتی (اصول کافی ۱۰۳طبع نولکشور) چونکہ حجت خدا اس وقت امام مہدی کے سوا کوئی نہ تھا اورانھیں دشمن قتل کردینے پرتلے ہوئے تھے اس لئے انھیں محفوظ ومستورکردیاگیا ۔حدیث میں  ہے کہ حجت خدا کی وجہ سے بارش ہوتی ہے اورانھیں کے ذریعہ سے روزی تقسیم کی جاتی ہے (بحار)۔

۴ ) یہ مسلم ہے کہ حضرت امام مہدی جملہ انبیاء کے مظہرتھے اس لئے ضرورت تھی کہ انھیں کی طرح ان کی غیبت بھی ہوتی یعنی جس طرح بادشاہ وقت کے مظالم کی وجہ سے حضرت نوح ،حضرت ابراہیم ،حضرت موسی ،حضرت عیسی اورحضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے عہدحیات میں  مناسب مدت تک غائب رہ چکے تھے اسی طرح یہ بھی غائب رہتے ۔

۵ ) قیامت کاآنا مسلم ہے اورواقعہ قیامت میں  امام مہدی کا ذکربتاتاہے کہ آپ کی غیبت مصلحت خداوندی کی بناء پرہوئی ہے ۔

۶ ) سور ہ اناانزلنا سے معلوم ہوتاہے کہ نزول ملائکہ شب قدرمیں  ہوتا رہتاہے یہ ظاہرہے کہ نزول ملائکہ انبیاء واوصیاء ہی پرہواکرتاہے ۔امام مہدی کواس لئے موجود اورباقی رکھا گیاہے تاکہ نزول ملائکہ کی مرکزی غرض پوری ہوسکے ،اورشب قدرمیں  انھیںپرنزول ملائکہ ہوسکے حدیث میں  ہے کہ شب قدرمیں  سال بھرکی روزی وغیرہ امام مہدی تک پہونچادی جاتی ہے اوروہی اس تقسیم کرتے رہتے ہیں ۔

۷ ) حکیم کافعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا یہ دوسری بات ہے کے عام لوگ اس حکمت ومصلحت سے واقف نہ ہوں غیبت امام مہدی اسی طرح مصلحت وحکمت خداوندی کی بناپرعمل میں  آئی ہے جس طرح طواف کعبہ ،رمی جمرہ وغیرہ ہے جس کی اصل مصلحت خداوندعالم ہی کومعلوم ہے ۔

۸ ) امام جعفرصادق علیہ السلام کافرماناہے کہ امام مہدی کواس لئے غائب کیاجائے گا تاکہ خداوندعالم اپنی ساری مخلوق کا امتحان کرکے یہ جانچے کہ نیک بندے کون ہیں اورباطل پرست کون لوگ ہیں (اکمال الدین )۔

۹ ) چونکہ آپ کواپنی جان کاخوف تھا اوریہ طے شدہ ہے کہ ” من خاف علی نفسہ احتاج الی الاستتار“ کہ جسے اپنے نفس اوراپنی جان کاخوف ہو وہ پوشیدہ ہونے کولازمی جانتاہے (المرتضی )۔

0) آپ کی غیبت اس لئے واقع ہوئی ہے کہ خداوندعالم ایک وقت معین میں  آل محمد پرجومظالم کیے گئے ہیں ۔ ان کابدلہ امام مہدی کے ذریعہ سے لے گا یعنی آپ عہد اول سے لے کربنی امیہ اوربنی عباس کے ظالموں سے مکمل بدلہ لیں  گے ۔ (اکمال الدین )۔

 
غیبت امام مہدی جفرجامعہ کی روشنی میں

 علامہ شیخ قندوزی بلخی حنفی رقمطرازہیں کے سدیرصیرفی کابیان ہے کہ ہم اورمفضل بن عمر،ابوبصیر،ابان بن تغلب ایک دن صادق آل محمد کی خدمت میں  حاضرہوئے تودیکھا کہ آپ زمین پربیٹھے ہوئے رورہے ہیں ، اورکہتے ہیں کہ ” اے محمد!تمہاری غیبت کی خبرنے میرا دل بے چین کردیاہے “ میں  نے عرض کی حضورخدا آپ کی آنکھوں کوبھی نہ رلائے بات کیا ہے کس لئے حضورگریہ کناںہیں فرمایا ۔ ا ے سدیر!میں  نے آج کتاب ”جعفرجامع“ میں  بوقت صبح امام مہدی کی غیبت کا مطالعہ کیاہے ،اے سدیر!یہ وہ کتاب ہے جس میں  ”علم ماکان ومایکون“ کااندراج ہے اورجوکچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب اس میں  لکھا ہواہے اے سدیر! میں  نے اس کتاب میں  یہ دیکھا ہے کہ ہماری نسل سے امام مہدی ہوں گے ۔ پھروہ غائب ہوجائیں گے اور ان کی غیبت نیزعمر بہت طویل ہوگی ان کی غیبت کے زمانہ میں  مومنین مصائب میں  مبتلا ہوںگے اور ان کے امتحانات ہوتے رہیں گے اورغیبت میں  تاخیرکی وجہ سے ان کے دلوں میں  شکوک پیداہوتے ہوں گے پھرفرمایا : اے سدیرسنو! ان کی ولادت حضرت موسی کی طرح ہوگی اوران غیبت عیسی کی مانندہوگی اوران کے ظہورکا حال حضرت نوح کے مانند ہوگا اوران کی عمرحضرت خضرکی عمرجیسی ہوگی (ینابع المودة) اس حدیث کی مختصرشرح یہ ہے کہ :

۱ ) تاریخ میں  ہے کہ جب فرعون کومعلوم ہوا کہ میری سلطنت کا زوال ایک مولود بنی اسرائیل کے ذریعہ ہوگا تواس نے حکم جاری کردیا کہ ملک میں  کوئی عورت حاملہ نہ رہنے پائے اورکوئی بچہ باقی نہ رکھا جائے چنانچہ اسی سلسلہ میں  ۴۰ ہزاربچے ضائع کئے گئے لیکن نے خدا حضرت موسی کوفرعون کی تمام ترکیبوں کے باوجود پیداکیا،باقی رکھا اورانھیں کے ہاتھوں سے اس کی سلطنت کاتختہ الٹوایا ۔ اسی طرح امام مہدی کے لئے ہوا کہ تمام بنی امیہ اوربنی عباسیہ کی سعی بلیغ کے باوجود آپ بطن نرجس خاتون سے پیداہوئے اورکوئی آپ کودیکھ تک نہ سکا۔

۲ ) حضرت عیسی کے بارے میں  تمام یہودی اورنصرانی متفق ہیں کہ آپ کو سولی دید ی گئی اور آپ قتل کئے جاچکے ،لیکن خدا وندعالم نے اس کی ردفرمادی اورکہ دیا کہ وہ نہ قتل ہوئے ہیں اورنہ ان کوسولی دی گئی ہے یعنی خداوندعالم نے اپنے پاس بلالیاہے اوروہ آسمان پرامن وامان خدا میں  ہیں ۔اسی طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں  بھی لوگوں کایہ کہنا ہے کہ پیداہی نہیں ہوئے حالانکہ وہ پیداہوکر حضرت عیسی کی طرح غائب ہوچکے ہیں ۔

۳حضرت نوح نے لوگوں کی نافرمانی سے عاجزآکرخداکے عذاب کے نزول کی درخواست کی خداوند عالم نے فرمایا کہ پہلے ایک درخت لگاؤوہ پھل لائے گاتب عذاب کروںگا اسی طرح نوح نے سات مرتبہ کیا بالاخراس تاخیرکی وجہ سے آپ کے تمام دوست وموالی اورایمان دار کافرہوگئے اورصرف سترمومن رہ گئے ۔ اسی طرح غیبت امام مہدی اورتاخیرظہورکی وجہ سے ہورہا ہے ۔ لوگ فرامین پیغمبراور آئمہ علیہم السلام کی تکذیب کررہے ہیں اورعوام مسلم بلاوجہ اعتراضات کرکے اپنی عاقبت خراب کررہے ہیں اورشاید اسی وجہ سے مشہور ہے کہ جب دنیا میں  چالیس مومن کامل رہ جائیں گے تب آپ کا ظہورہوگا ۔

0) حضرت خضرجوزندہ اورباقی ہیں اورقیامت تک موجود رہیں گے اورجب کہ حضرت خضرکے زندہ اورباقی رہنے میں  مسلمانوں کوکوئی اختلاف نہیں ہے حضرت امام مہدی کے زندہ اورباقی رہنے میں  بھی کوئی اختلاف کی وجہ نہیں ہے ۔

غیبت صغری وکبری اورآپ کے سفراٴ

 آپ کی غیبت کی دوحیثیت تھی ، ایک صغری اوردوسری کبری ، غیبت صغری کی مدت ۷۵ یا ۷۳ سال تھی ۔ اس کے بعد غیبت کبری شروع ہوگئی غیبت صغری کے زمانے میں  آپ کاایک نائب خاص ہوتا تھا جس کے ذریعہ اہتمام ہرقسم کانظام چلتاتھا سوال وجواب، خمس وزکوة اوردیگرمراحل اسی کے واسطہ طے ہوتے تھے خصوصی مقامات محروسہ میں  اسی کے ذریعہ اورسفارش سے سفراٴ مقررکئے جاتے تھے ۔
سب سے پہلے جنہیں نائب خاص ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ان کانام نامی واسم گرامی حضرت عثمان بن سعیدعمری تھا آپ حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورامام حسن عسکری علیہ السلام کے معتمد خاص اوراصحاب خلص میں سے تھے آپ قبیلہ بنی اسد سے تھے آپ کی کنیت ابوعمرتھی ،آپ سامرہ کے قریہ عسکرکے رہنے والے تھے وفات کے بعد آپ بغداد میں  دروازہ جبلہ کے قریب مسجد میں  دفن کئے گئے آپ ک وفات کے بعد بحکم امام علیہ السلام آپ کے فرزند،حضرت محمد بن عثمان بن سعید اس عظیم منزلت پرفائزہوئے ، آپ کی کنیت ابوجعفرتھی آپ نے اپنی وفات سے ۲ ماہ قبل اپنی قبرکھدوادی تھی آپ کاکہناتھا کہ میں  یہ اس لئے کررہاہوں کہ مجھے امام علیہ السلام نے بتادیاہے اورمیں  اپنی تاریخ وفات سے واقف ہوں آپ کی وفات جمادی الاول ۳۰۵ ہجری میں  واقع ہوئی ہے اورآپ ماں کے قریب بمقام دروازہ کوفہ سرراہ دفن ہوئے ۔
پھرآپ کی وفات کے بعد بواسطہٴ مرحوم حضرت امام علیہ السلام کے حکم سے حضرت حسین بن روحۺ اس منصب عظیم پرفائزہوئے ۔جعفربن محمد بن عثمان سعیدکاکہناہے ،کہ میرے والد حضرت محمد بن عثمان نے میرے سامنے حضرت حسین بن روح کواپنے بعد اس منصب کی ذمہ داری کے متعلق امام علیہ السلام کا پیغام پہنچایا تھا ۔حضرت حسین بن روح کی کنیت ابوقاسم تھی آپ محلہ نوبخت کے رہنے والے تھے آپ خفیہ طورپرجملہ ممالک اسلامیہ کادورہ کیاکرتے تھے آپ دونوں فرقوں کے نزدیک معتمد ،ثقہ ،صالحاورامین قراردئے گئے ہیں آپ کی وفات شعبان ۳۲۶ میں  ہوئی اورآپ محلہ نوبخت کوفہ میں  مدفون ہوئے ہیں آپ کی وفات کے بعد بحکم امام علیہ السلام حضرت علی بن محمد السمری اس عہدہ ٴجلیلہ پرفائزہوئے آپ کی کنیت ابوالحسن تھی ،آپ اپنے فرائض انجام دئے رہے تھے ،جب وقت قریب آیاتوآپ سے کہاگیا کہ آپ اپنے بعد کاکیاانتظام کریںگے ۔ آپ نے فرمایا کہ اب آئندہ یہ سلسہ قائم نہ رہے گا ۔
(مجالس المومنین ص ۸۹ وجزیزہ خضرا ص ۶ وانوارالحسینیہ ص ۵۵) ۔ ملاجامی اپنی کتاب شواہدالنبوت کے ص ۲۱۴ میں  لکھتے ہیں کہ محمد السمری کے انتقال سے ۶ یوم قبل امام علیہ السلام کا ایک فرمان ناحیہ مقدسہ سے برآمد ہوا ۔ جس میں  ان کی وفات کا ذکراورسلسہٴ سفارت کے ختم ہونے کا تذکرہ تھا ۔ امام مہدی کے خط کے عیون الفاظ یہ ہیں

بسم اللہ الرحمن ا لرحیم
” یاعلی بن محمد عظم اللہ اجراخرانک فیک فانک میت مابینک وبین ستة ایام فاجمع امرک ولاترض الی احد یقوم مقامک بعدوفاتک فقد وقعت الغیبة السامة فلاظہورالا بعداذن اللہ تعالی وذلک بعد طول الامد الخ“۔
ترجمہ : اے علی بن محمد ! خداوند عالم تمھارے بارے میں  تمھارے بھائیوں اورتمھارے اوردوستوں کواجرجزیل عطاکرے ،تمہیں معلوم ہو کہ تم چھ یوم میں  وفات پانے والے ہو،تم اپنے انتظامات کرلو۔ اورآئندہ کے لئے اپنا کوئی قائم مقام تجویز وتلاش نہ کرو۔ اس لئے کہ غیبت کبری واقع ہوگئی ہے اور اذن خدا کے بغیرظہورناممکن ہوگا ۔ یہ ظہوربہت طویل عرصہ کے بعد ہوگا ۔
غرضکہ چھ یوم گذرنے کے بعد حضرت ابوالحسن علی بن محمدالسمری بتاریخ ۱۵ شعبان ۳۲۹ انتقال فرماگئے ۔اورپھرکوئی خصوصی سفیرمقررنہیں ہوا اورغیبت کبری شروع ہوگئی ۔

سفراٴ عمومی کے اسماء

 مناسب معلوم ہوتاہے کہ ان سفراٴ کے اسماء بھی درج ذیل کردئے جائیں جوانھیں نواب خاص کے ذریعہ اورسفارش سے بحکم امام ممالک محروسہ مخصوصہ میں  امام علیہ السلام کاکام کرتے تھے اورحضرت کی خدمت میں  حاضرہوتے رہتے تھے ۔ 0) بغداد سے حاجز،بلالی ،عطار ۔ کوفہ سے عاصمی ۔
اہوازسے محمد بن ابراہیم بن مہریار ۔ ہمدان سے محمد بن صالح ۔ رے سے بسامی واسدی ۔ آذربائیجان سے قسم بن علاٴ۔ نیشاپورسے محمد بن شاذان ۔ قسم سے احمد بن اسحاق۔ (غایۃ المقصود جلد۱ ص ۱۲۰)۔

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.