حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام(حصہ سوم)

حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام(حصہ سوم)

امام مہدی نبوت کے آئینہ میں

علامہ طبرسی ۺ بحوالہ حضرات معصومین علیہم السلام تحریرفرماتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ ا لسلام میں  بہت سے انبیاٴ کے حالات وکیفیات نظرآتے ہیں ۔ اورجن واقعات سے مختلف انبیاٴ کودوچارہوناپڑا ۔ وہ تمام واقعات آپ کی ذات ستودہ صفات میں  دکھا ئی دیتے ہیں مثال کے لئے حضرت نوح ،حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ،حضرت عیسی ، حضرت ایوب ،حضرت یونس ، حضرت محمدمصطفی صلعم کولے لیجئے اور ان کے حالات پرغورکیجئے ، آپ کوحضرت نوح کی طویل زندگی نصیب ہوئی حضرت ابراہیم کی طرح آپ کی ولادت چھپائی گئی ۔ اورلوگوں سے کنارہ کش ہوکر روپوش ہونا پڑا ۔
حضرت موسی کی طرح حجت کے زمین سے اٹھ جانے کا خوف لاحق ہوا ، اورانھیں کی ولادت کی طرح آپ کی ولادت بھی پوشیدہ رکھی گئی ، اورانھیں کے ماننے والوں کی طرح آپ کے ماننے والوں کو آپ کی غیبت کے بعد ستایا گیا ۔ حضرت عیسی کی طرح آپ کے بارے میں  لوگوں نے اختلاف کیا حضرت ایوب کی طرح تمام امتحانات کے بعد آپ کوفرج وکشائش نصیب ہوگی ۔حضرت یوسف کی طرح عوام اورخواص سے آپ کی غیبت ہوگئی حضرت یونس کی طرح غیبت کے بعد آپ کا ظہورہوگا یعنی جس طرح وہ اپنی قوم سے غائب ہوکربڑھاپے کے باوجود نوجوان تھے ۔ ا سی طرح آپ کا جب ظہورہوگا توآپ چالیس سالہ جوان ہوں گے اورحضرت محمد مصطفی کی طرح آپ صاحب السیف ہوں گے ۔ (اعلام الوری ص ۲۶۴ طبع بمبئی ۱۳۱۲ ہجری )

امام حسن عسکری کی شہادت

 امام مہدی علیہ السلام کی عمرابھی صرف پانچ سال کی ہوئی تھی کہ خلیفہ معتمد بن متوکل عباسی نے مدتوں قید رکھنے کے بعد امام حسن عسکری کوزہردیدیا ۔ جس کی وجہ سے آپ بتاریخ ۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری مطابق ۸۷۳ ء بعمر ۲۸ سال رحلت فرماگئے ”وخلف من الولد ابنہ محمد “ اورآپ نے اولاد میں  صرف امام محمد مہدی کوچھوڑا ۔ (نورالابصارص ۱۵۲ دمعة الساکبة ص ۱۹۱ )
علامہ شلنجبی لکھتے ہیں کہ جب آپ کی شہادت کی خبرمشہورہوئی ، توسارے شہرسامرہ میں  ہلچل مچ گئی ، فریاد وفغاں کی آوازیں بلند ہوگئیں ، سارس شہرمیں  ہڑتال کردی گئی ۔ یعنی ساری دکانیں  بند ہوگئیں ۔ لوگوں نے اپنے کاوربارچھوڑدئیے۔ تمام بنی ہاشم حکام دولت ، منشی ،قاضی ، ارکان عدالت اعیان حکومت اور عامہ خلائق حضرت کے جنازی کے لئے دوڑپڑے ،حالت یہ تھی کہ شہرسامرہ قیامت کامنظرپیش کررہاتھا ۔تجہیزاورنماز سے فراغت کے بعد آپ کواسی مکان میں  دفن کردیاگیا جس میں  حضرت امام علی نقی علیہ مدفون تھے ۔ نورالابصار ص ۱۵۲ وتاریخ کامل صواعق محرقہ وفصول مہمہ،جلاٴالعیون ص ۲۹۶)
علامہ محمد باقرفرماتے ہیںکہ امام حسن عسکری کی وفات کے بعد نمازجنازہ حضرت امام مہدی علیہ السلام نے پڑھائی ،ملاحظہ ہو ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۹۲ وجلاٴالعیون ص ۲۹۷ ) علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ نمازکے بعد آپ کوبہت سے لوگوں نے دیکھا اور آپ کے ہاتھوں کا بوسہ دیا (اعلام الوری ص ۲۴۲ ) علامہ ابن طاؤس کابیان ہے کہ ۸ ربیع الاول کوامام حسن عسکری کی وفات واقع ہوئی اور ۹ ربیع الاول سے حضرت حجت کی امامت کا آغازہوا ہم ۹ ربیع الاول کوجوخوشی مناتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے (کتاب اقبال) علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ ۹ ربیع الاول کوعمربن سعد بدست مختارآل محمد قتل ہواہے ۔(زادالمعاد ص ۵۸۵)
جوعبیداللہ بن زیاد کا سپہ سالارتھا جس کے قتل کے بعد آل محمد نے پورے طورپرخوشی منائی ۔ (بحارالانوارومختارآل محمد) کتاب دمعہ ساکبہ کے ص ۱۹۲ میں  ہے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے ۲۵۹ ہجری میں  اپنی والدہ کوحج کے لئے بھیج دیاتھا ،اورفرمادیاتھا کہ ۲۶۰ ہجری میں  میری شہادت ہوجائے گی اسی سن میں  آپ نے حضرت امام مہدی کوجملہ تبرکات دیدئیے تھے اوراسم اعظم وغیرہ تعلیم کردیاتھا (دمعہ ساکبہ وجلاٴالعیون ص ۲۹۸ ) انھیں تبرکات میں  حضرت علی کا جمع کیاہوا وہ قرآن بھی تھا جوترتیب نزولی پرسرورکائنات کی زندگی میں  مرتب کیاگیاتھا ۔ (تاریخ الخلفاٴ واتقان) اورجسے حضرت علی نے اپنے عہد خلافت میں  بھی اس لئے رائج نہ کیاتھا کہ اسلام میں  دوقرآن رواج پاجائیں گے ۔ اوراسلام میں  تفرقہ پڑجائے گا (ازالةالخلفاٴ ۲۷۳) میرے نزدیک اسی سن میں  حضرت نرجس خاتون کاانتقال بھی ہواہے اوراسی سن میں  حضرت نے غیبت اختیارفرمائی ہے۔

 
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اوراس کی ضرورت

بادشاہ وقت خلیفہ معتمدبن متوکل عباسی جواپنے آباؤاجداد کی طرح ظلم وستم کاخوگراورآل محمد کاجانی دشمن تھا ۔ اس کے کانوں میں  مہدی کی ولادت کی بھنک پڑچکی تھی ۔ اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد تکفین وتدفین سے پہلے بقول علامہ مجلسی حضرت کے گھرپرپولیس کاچھاپہ ڈلوایااورچاہاکہ امام مہدی علیہ السلام کو گرفتارکرالے لیکن چونکہ وہ بحکم خدا ۲۳ رمضان المبارک ۲۵۹ ہجری کوسرداب میں  جاکرغائب ہوچکے تھے۔ جیسا کہ شواہدالنبوت ،نورالابصار،دمعة ساکبہ ،روضة الشہداٴ ،مناقب الا ئمہ ،انوارالحسینیہ وغیرہ سے مستفاد ومستنبط ہوتاہے ۔ اس لئے وہ اسے دستیاب نہ ہوسکے ۔اس نے اس کے رد عمل میں  حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی تمام بیبیوں کوگرفتارکرالیا اورحکم دیا کہ اس امرکی تحقیق کی جائے کہ آیاکوئی ان میں  سے حاملہ تونہیں ہے اگرکوئی حاملہ ہو تواس کاحمل ضائع کردیاجائے ،کیونکہ وہ حضرت سرورکائنات صلعم کی پیشین گوئی سے خائف تھا کہ آخری زمانہ میں  میرا ایک فرزند جس کانام مہدی ہوگا ۔
کائنات عالم کے انقلاب کا ضامن ہوگا ۔ اوراسے یہ معلوم تھا کہ وہ فرزند امام حسن عسکر ی علیہ السلام کی اولاد سے ہوگا لہذا اس نے آپ کی تلاش اورآپ کے قتل کی پوری کوشش کی ۔تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۳۱ میں  ہے کہ ۲۶۰ میں  امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد جب معتمد خلیفہٴ عباسی نے آپ کے قتل کرنے کے لئے آدمی بھیجے توآپ سرداب ( ۱) ” سرمن رائے “میں  غائب ہوگئے بعض اکابرعلماٴ اہل سنت بھی اس امرمیں  شیعوں کے ہم زبان ہیں ۔
چنانچہ ملاجامی نے شواہدالنبوت میں  امام عبدالوہاب شعرانی نے لواقع الانواروالیواقیت والجواہرمیں  اورشیخ احمدمحی الدین ابن عربی نے فتوحات مکہ میں  اورخواجہ پارسانے فصل الخطاب میں  اورعبدالحق محدث دہلوی نے رسالہٴ ا ئمہ طاہرین میں  اورجمال الدین محدث نے روضةالاحباب میں  ،اورابوعبداللہ شامی صاحب کفایةالطالب نے کتاب التبیان فی اخبارصاحب الزمان میں  اورسبط ابن جوزی نے تذکرة خواص الامہ میں  اورابن صباغ نورالدین علی مالکی نے فصول المہمہ میں  اورکمال الدین ابن طلحہ ٴشافعی نے مطالب السؤل میں  اورشاہ ولی اللہ نے فضل المبین میں  اورشیخ سلیمان حنفی نے ینابع المودة میں  اوربعض دیگرعلماٴ نے بھی ایساہی لکھا ہے اورجولوگ ان حضرت کے طول عمرمیں  تعجب کرکب انکارکرتے ہیں ۔
ان کویہ جواب دیتے ہیں کہ خدا کی قدرت سے کچھ بعیدنہیں ہے جس نے آدم کوبغیرماں باپ کے اورعیسی کوبغیرباپ کے پیداکیا ،تمام اہل اسلام نے حضرت خضرکواب تک زندہ ماناہوا ہے ،ادریس  بہشت میں  اورحضرت عیسی آسمان پراب تک زندہ مانے جاتے ہیں اگرخدائے تعالی نے آل محمد میں  سے ایک شخص کوعمرعنآیت کیاتوتعجب کیاہے ؟حالانکہ اہل اسلام کودجال کے موجود ہونے اورقریب قیامت ظہورکرنے سے بھی انکارنہیں ہے ۔
( ۱ ) یہ سرداب ،مقام ”سرمن رائے“ میں  واقع ہے جسے اصل میں  سامراٴکہتے ہیں
سامراٴکی آبادی بہت ہی قدیمی ہے اوردنیاکے قدیم ترین شہروں میں  سے ایک ہے ، اس سام بن نوح نے آبادکیاتھا (معجم البلدان) اس کی اصل سام راہ تھی بعدمیں  سامراٴہوگیا ، آب وہواکی عمدگی کی وجہ سے خلیفہ معتصم نے فوجی کیمپ بناکرآبادکیاتھا اوراسی کو دارالسلطنت بھی بنادیاتھا ، اس کی آبادی ۸ فرسخ لمبی تھی ، اسے اس نے نہآیت خوبصورت شہربنادیاتھا ۔ ا سی لئے اس کانام سرمن رائے رکھ دیاتھا یعنی وہ شہرجسے جوبھی دیکھے خوش ہوجائے ،عسکری اسی کاایک محلہ ہے جس میں  امام علی نقی علیہ السلام نظربندتھے بعد میں  انھوں نے دلیل بن یعقوب نصرانی سے ایک مکان خریدلیاتھا جس میں  اب بھی آپ کامزارمقدس واقع ہے ۔
سامراٴمیں  ہمیشہ غیرشیعہ آبادی رہی ہے اس لئے اب تک وہاں شیعہ آباد نہیں ہیں وہاں کے جملہ خدام بھی غیرشیعہ ہیں ۔
حضرت حجت علیہ السلام کے غائب ہونے کاسرداب وہیں ایک مسجدکے کنارے واقع ہے جوکہ حضرت امام علی نقی اورحضرت امام حسن عسکری کے مزاراقدس کے قریب ہے ۱۲ منہ۔
کتاب شواہدالنبوت کے ص ۶۸ میں  ہے کہ خاندان نبوت کے گیارہویں  امام حسن عسکری ۲۶۰ میں  زہرسے شہیدکردےئے گئے تھے ان کی وفات پران کے صاحبزادے محمد ملقب بہ مہدی شیعوں کے آخری امام ہوئے۔مولوی امیرعلی لکھتے ہیں کہ خاندان رسالت کے ان اماموں کے حالات نہآیت دردناک ہیں ۔ ظالم متوکل نے حضرت امام حسن عسکری کے والدماجد امام علی نقی کومدینہ سے سامرہ پکڑبلایاتھا ۔اوروہاں ان کی وفات تک ان کونظربندرکھا تھا ۔ (پھرزہرسے ہلاک کردیاتھا ) اسی طرح متوکل کے جانشینوں نے بدگمانی اورحسدکے مارے حضرت امام حسن عسکری کوقیدرکھاتھا ،ان کے کمسن صاحبزادے محمدالمہدی جن کی عمراپنے والدکی وفات کے وقت پانچ سال کی تھی ۔ خوف کے مارے اپنے گھرکے قریب ہی ایک غارمیں  چھپ گئے اورغائے ہوگئے ۔الخ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامہ میں  لکھا ہے کہ جس غارمیں  امام مہدی کی غیبت بتائی جاتی ہے ۔
اسے میں  نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔(نورالابصارجلد ۱ ص ۱۵۲) علامہ ابن حجرمکی کاارشادہے، کہ امام مہدی سرداب میں  غائب ہوے ہیں ۔” فلم یعرف این ذھب “ پھرمعلوم نہیں کہاں تشریف لے گئے۔ (صواعق محرقہ ص ۱۲۴) ۔

 
غیبت امام مہدی پرعلماٴاہل سنت کااجماع

جمہورعلماٴ اسلام امام مہدی کے وجودکوتسلیم کرتے ہیں ، اس میں  شیعہ اورسنی کاسوال نہیں ۔ ہرفرقہ کے علماء یہ مانتے ہیںکہ آپ پیدا ہوچکے ہیں اورموجودہیں ۔ہم علماء اہل سنت کے اسماء مع ان کی کتابوں اورمختصراقوال کے درج کرتے ہیں :
( ۱ ) ۔ علامہ محمدبن طلحہ ٴشافعی کتاب مطالب السوال میں  فرماتے ہیں کہ امام مہدی سامرہ میں  پیداہوئے ہیں جوبغداد سے ۲۰ فرسخ کے فاصلہ پرہے۔
( ۲ ) ۔ علامہ علی بن محمدصباغ مالکی کی کتاب فصول المہمہ میں  لکھتے ہیں کہ امام حسن عسکری گیارہویں  امام نے اپنے بیٹے امام مہدی کی ولادت بادشاہ وقت کے خوف سے پرشیدہ رکھی ۔
( ۳ ) ۔علامہ شیخ عبداللہ بن احمد خشاب کی کتاب تاریخ موالید میں  ہے کہ امام مہدی کانام محمد اورکنیت ابوالقاسم ہے ۔آپ آخری زمانہ میں  ظہوروخروج کریں گے ۔
( ۴ ) ۔ علامہ محی الدین ابن عربی حنبلی کی کتاب فتوحات مکہ میں  ہے کہ جب دنیا ظلو وجورسے بھرجائے گی توامام مہدی ظہورکریں گے۔
( ۵ ) ۔علامہ شیخ عبدالوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت والجواہرمیں  ہے کہ امام مہدی ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری میں  پیداہوئے اب اس وقت یعنی ۹۵۸ ہجری میں  ان کی عمر ۷۰۶ سال کی ہے ،یہی مضمون علامہ بدخشانی کی کتاب مفتاح النجاة میں  بھی ہے ۔
( ۶ ) ۔ علامہ عبدالرحمن جامی حنفی کی کتاب شواہدالنبوت میں  ہے کہ امام مہدی سامرہ میں  پیداہوئے ہیں اوران کی ولادت پوشیدہ رکھی گئی ہے وہ امام حسن عسکری کی موجودگی میں  غائب ہوگئے تھے ۔اسی کتاب میں  ولادت کاپوراواقعہ حکیمہ خاتون کی زبانی مندرج ہے ۔
( ۷ ) ۔ علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب مناقب الائمہ ہے کہ امام مہدی ۱۵ شعبان ۲۵۵ میں  پیداہوئے ہیں امام حسن عسکری نے ان کے اذان واقامت کہی ہے اورتھوڑے عرصہ کے بعد آپ نے فرمایا کہ وہ اس مالک کے سپردہوگئے جن کے پاس حضرت موسی بچپنے میں تھے۔
( ۸ ) ۔ علامہ جمال الدین محدث کی کتاب روضةالاحباب میں  ہے کہ امام مہدی ۱۵ شعبان ۲۵۵ میں  پیداہوئے اورزمانہ معتمد عباسی میں  بمقام ”سرمن رائے“ ازنظربرایاغائب شد لوگوں کی نظرسے سرداب میں  غائب ہوگئے ۔
( ۹ ) ۔ علامہ عبدالرحمن صوفی کی کتاب مراٴةالاسرارمیں  ہے کہ آپ بطن نرجس سے ۱۵ شعبان ۲۵۵ میں  پیداہوئے ۔
( ۱۰ ) ۔ علامہ شہاب الدین دولت آبادی صاحب تفسیربحرمواج کی کتاب ہدایة السعداء میں  ہے کہ خلافت رسول حضرت علی کے واسطہ سے امام مہدی تک پہونچی آپ ہی آخری امام ہیں ۔
( ۱۱ ) ۔ علامہ نصربن علی جھمنی کی کتاب موالیدالائمہ میں  ہے کہ امام مہدی نرجس خاتون کے بطن سے پیداہوئے ۔
( ۱۲ ) ۔ علامہ ملا علی قاری کی کتاب مرقات شرح مشکوة میں  ہے کہ امام مہدی باہویں  امام ہیں شیعوں کایہ کہناغلط ہے کہ اہل سنب اہل بیت کے دشمن ہین۔
( ۱۳ ) ۔ علامہ جواد ساباطی کی کتاب براہین ساباطیہ میں  ہے کہ امام مہدی اولادفاطمہ میں  سے ہیں ، وہ بقولے ۲۵۵ میں  متولد ہوکرایک عرصہ کے بعد غائب ہوگئے ہیں ۔
( ۱۴ ) ۔ علامہ شیخ حسن عراقی کی تعریف کتاب الواقع میں  ہے کہ انھوںنے امام مہدی سے ملاقات کی ہے ۔
( ۱۵ ) ۔ علامہ علی خواص جن کے متعلق شعرانی نے الیواقیت میں  لکھا ہے کہ انھوںنے امام مہدی سے ملاقات کی ہے ۔
( ۱۶ ) ۔ علامہ شیخ سعدالدین کاکہناہے کہ امام مہدی پیداہوکرغائب ہوگئے ہیں ”دورآخرزمانہ آشکارگردد“ اوروہ آخرزمانہ میں  ظاہرہوں گے ۔جیساکہ کتاب مقصداقصی میں  لکھا ہے ۔
( ۱۷ ) ۔ علامہ علی اکبرابن اسعداللہ کی کتاب مکاشفات میں  ہے کہ آپ پیداہوکرقطب ہوگئے ہیں ۔
( ۱۸ ) ۔ علامہ احمدبلاذری ااحادیث لکھتے ہیں کہ آپ پیداہوکرمحجوب ہوگئے ہیں ۔
( ۱۹ ) ۔ علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے رسالہ نوارد میں  ہے، محمد بن حسن( المہدی ) کے بارے میں  شیعوں کاکہنا درست ہے ۔
( ۲۰ ) ۔ علامہ شمس الدین جزری نے بحوالہ مسلسلات بلاذری اعتراف کیاہے ۔
( ۲۱ ) ۔علامہ علاٴالدولہ احمدمنانی صاحب تاریخ خمیس دراحوالی النفس نفیس اپنی کتاب میں  لکھا ہے کہ امام مہدی غیبت کے بعد ابدال پھرقطب ہوگئے۔
علامہ نوراللہ بحوالہ کتابیان الاحسان لکھتے ہیں کہ امام مہدی تکمیل صفات کے لئے غائب ہوئے ہیں یں

۲۴ علامہ ذہبی اپنی تاریخ اسلام میں  لکھتے ہیں کہ امام مہدی ۲۵۶ میں  پیداہوکرمعدوم ہوگئے ہیں
۲۵ علامہ ابن حجرمکی کی کتاب صواعق محرقہ میں  ہے کہ امام مہدی المنتظرپیداہوکرسرداب میں  غائب ہوگئے ہیں ۔
۲۶ علامہ عصرکی کتاب وفیات الا عیان کی جلد۲ ص۴۵۱میں  ہے کہ امام مہدی کی عمرامام حسن عسکری کی وفات کے وقت ۵سال تھی وہ سرداب میں  غائب ہوکرپھرواپس نہیں ہوے ۔
۲۷ علامہ سبط ابن جوزی کی کتاب تذکرةالخواص الامہ کے ص ۲۰۴ میں ہے کہ آپ کالقب القائم ، المنتظر،الباقی ہے ۔
۲۸ علامہ عبیداللہ امرتسری کی کتاب ارجح المطالب کے ص ۳۷۷ میں  بحوالہ کتاب البیان فی اخبارصاحب الزمان مرقوم ہے کہ آپ اسی طرح زندہ باقی ہیں جس طرح عیسی ، خضر، الیاس وغیرہ ہم زندہ اورباقی ہیں ۔
۲۹ علامہ شیخ سلیمان تمندوزی نے کتاب ینابع المودة ص ۳۹۳میں
۳۰ علامہ ابن خشاب نے کتاب موالیداہل بیت میں
۳۱علامہ شبلنجی نے نورالابصارکے ص۱۵۲ طبع مصر۱۲۲۲میں بحوالہ کتاب البیان لکھا ہے کہ امام مہدی غائب ہونے کے بعد اب تک زندہ اورباقی ہیں اوران کے وجود کے باقی ،اورزندہ ہونے میں  کوئی شبہ نہیں ہے وہ اسی طرح زندہ اورباقی ہیں جس طرح حضرت عیسی ،حضرت خضراورحضرت الیاس وغیرہم زندہ اورباقی ہیں ان اللہ والوں کے علاوہ دجال ،ابلیس بھی زندہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید صحیح مسلم ،تاریخ طبری وغیرہ سے ثابت ہے لہذا ”لاامتناع فی بقائہ“ان کے باقی اورزندہ ہونے میں  کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے علامہ چلپی کتاب کشف الظنون کے ص۲۰۸ میں  لکھتے ہیں کہ کتاب البیان فی اخبارصاحب الزمان ابوعبداللہ محمد بن یوسف کنجی شافعی کی تصنیف ہے ۔ (علامہ فاضل روزبہان کی ابطال الباطل میں  ہے کہ امام مہدی قائم ومنتظرہیں وہ آفتاب کی مانند ظاہرہوکردنیاکی تاریکی ،کفرزائل کردے گے ۔
۳۱ علامہ علی متقی کی کتاب کنزالعمال کی جلد۷ کے ص۱۱۴ میں  ہے کہ آپ غائب ہیں ظہورکرکے ۹سال حکزمت کریں گے ۔
۳۲علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب درمنشورجلد۳ص ۲۳میں  ہے کہ امام مہدی کے ظہورکے بعد عیسی نازل ہوںگے وغیرہ۔

امام مہدی کی غیبت اورآپ کاوجود وظہورقرآن مجیدکی روشنی میں  :

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اورآپ کے موجودہونے اورآپ کے طول عمرنیزآپ کے ظہوروشہود اورظہورکے بعد سارے دین کوایک کردینے کے متعلق ۹۴ آیتیں  قرآن مجید میں  موجود ہیں جن میں  سے اکثردونوں فریق نے تسلیم کیاہے ۔اسی طرح بے شمارخصوصی احادیث بھی ہیںتفصیل کے لئے ملاحظہ ہو غایۃ المقصود وغایۃالمرام علامہ ہاشم بحرانی اورینابع المودة ،میں  اس مقام پرصرف دوتین آیتیں  لکھتاہوں :

۱ ) آپ کی غیبت کے متعلق : آلم ذلک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب ہے حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیںکہ ایمان بالغیب سے امام مہدی کی غیبت مراد ہے ۔نیک بخت ہیں وہ لوگ جوان کی غیبت پرصبرکریں گے اورمبارک باد کے قابل ہیں ۔ وہ سمجھدار لوگ جوغیبت میں  بھی ان کی محبت پرقائم رہیں گے ۔(ینابع المودة ص۳۷۰طبع بمےئی )

۲ ) آپ کے موجود اورباقی ہونے کے متعلق ”جعلھا کلمةباقیة فی عقبہ “ ہے ابراھیم کی نسل میں  کلمہ باقیہ کوقراردیاہے جوباقی اورزندہ رہے گا اس کلمہ باقیہ سے امام مہدی کاباقی رہنا مراد ہے اوروہی آل محمد میں  باقی ہیں ۔(تفسیرحسینی علامہ حسین واعظ کاشفی ص۲۲۶) ۔

0) آپ کے ظہوراورغلبہ کے متعلق ”یظہرہ علی الدین کلہ “ جب امام مہدی بحکم خداظہورفرمائیں  گے توتمام دینوں پرغلبہ حاصل کرلیں  گے یعنی دنیا میں  سوا ایک دین ا سلام کے کوئی اوردین نہ ہوگا ۔(نورالابصارص۱۵۳ طبع مصر)۔

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.