تاریخ کے معمر حضرات

تاریخ کے معمر حضرات

اگرچہ گزشتہ صفحات میں ہم نے طویل عمر کے امکان کے بارے میں کافی وضاحت پیش کردی ہے لیکن اس مسئلے کی تاریخی حیثیت نمایاں کرنے کے لئے قارئین کرام کو تاریخ، سیرت اور سوانح حیات سے متعلق معتبر کتب کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں تاکہ انھیں اندازہ ہوجائے کہ طول عمر کا مسئلہ تاریخی لحاظ سے ہمیشہ قابل قبول رہا ہے سوانح حیات کی کتب میں تو بہت سے افراد کے طولانی سن وسال کا تذکرہ مل ہی جائے گا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت زیادہ عمر بسر کرنے والے افراد کے حالات زندگی سے متعلق خصوصی کتب بھی تحریر کی گئی ہیں۔

ابی حاتم سجستانی (متوفیٰ ۲۴۸) نے ”المعمّرون“ نامی کتاب لکھی ہے جو ۱۸۹۹ءء میں انگریزی ترجمہ کے ضمیمہ کے ساتھ لندن سے شائع ہوئی اور کچھ عرصہ قبل اس کا جدید ایڈیشن شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شیخ صدوق کی کتاب ”کمال الدین“ اورشیخ طوسی کی کتاب”غیبت“ اور سید مرتضیٰ کی ”امالی“ میں ایک مخصوص باب یا فصل اسی موضوع سے متعلق موجودہے۔

ان کتب کے مطالعہ سے بخوبی محسوس کیاجاسکتا ہے کہ بلا وجہ اتنی طویل گفتگو نہیں کی گئی ہے اور اس سے یہ یقین حاصل ہوجائے گا کہ تاریخ سے جن حضرات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مستند حوالہ کے ساتھ ہے نیز یہ کہ انسانی عمر کی کوئی حد معین نہیں ہے۔ دنیا کی تاریخ بےشمار طویل عمر کے مالک افراد کے عجیب واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اسی زمین پر بہت سے ایسے افراد گزرے ہیں جنھوں نے امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ سے زیادہ عمر بسر کی ہے۔

طبیعی طور پر معمر حضرات کی تاریخ کے بارے میں ہماری معلومات اور اس سلسلہ کی کتب کے مندرجات یقینا ایک عظیم دنیا کا معمولی سا حصہ ہیں۔ اگر دوسرے اقوام کی تاریخ ہمارے اختیار میں ہوتی اور اگر شروع سے ہی معمر حضرات کے حالات کو بھی بادشاہوں کے حالات کے برابر اہمیت دی گئی ہوتی تو اس وقت معمر حضرات کی تاریخ بہت تفصیلی ہوتی۔

ان تمام باتوں کے باوجود ہم موجود منابع ومآخذ سے معمر حضرات کے اسماء کی مختصر فہرست پیش کررہے ہیں اگرچہ تاریخ کے تمام معمر حضرات بلکہ موجودمنابع ومآخذ سے ہی تمام تر اعداد وشمار اور حالات فراہم کرنے کے لئے بہت زیادہ وقت درکار ہے اس لئے ہم صرف بطور نمونہ کچھ افراد کے اسماء پر اکتفا کررہے ہیں کہ مثل مشہور ہے ”حکم الامثال فیما یجوز وفیما لایجوز سواء“ اگر ان حضرات کے لئے طویل عمر ممکن ہے تو دوسروں کے لئے کیوں ممکن نہ ہوگی۔

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.