وصیت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا

وصیت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا

جب حضرت زہرا سلا م اللہ علیہاکی علالت شدت کر گئی تو حضرت زہرا نے حضرت علی سے کہا یا ابن عم مجھے یقین ہے اب عنقریب میں اپنے والد گرامی سے ملاقات کرونگی لہٰذا میں وصیت کر نا چا ہتی ہوں حضرت علی حضرت زہرا کے قریب آبیٹھے اور فرمایا اے پیغمبر کی بیٹی آپ میرے پاس امانت تھی جو آپ کا دل چاہتا ہے وصیت کیجئے میں آپ کی وصیت کے مطابق عمل کر نے کا عہد کرتا ہوں ا س وقت حضرت علی کی نظر جناب سیدہ کونین کے افسردہ چہرے پر پڑ ی تو رونے لگے حضرت زہرا نے پلٹ کر حضرت علی کی طرف دیکھتے ہو ئے فرمایا یا ابن عم اب تک میں نے آپ کے گھر میں کبھی نہ چھوٹ نہ خیانت کی ہے بلکہ ہمیشہ آپ کے احکامات ور دستورات پر عمل کر نے کی کو شش کی ہے پھر بھی میری کو تا ہیوں کو معاف کیجئے۔
حضرت علی نے فرمایا اے پیغمبر کی دختر آپ کو اللہ تعالی کی اتنی شنا خت اور معرفت تھی تب ہی تو کسی قسم کی کوتاہی کا احتمال تک نہیں دے سکتا خدا کی قسم آپ کی جدائی اور فراق مجھ پر بہت سخت اور سنگین ہے کیونکہ پیغمبر اکرم ۖ جب دنیا سے رخصت کر گئے تو آپ نے ہی میری مدد کی لیکن آپ کے بعد میری مدد کون کرے گا مگر موت بر حق ہے اس کے سامنے کوئی چارہ نہیں ہے خدا کی قسم آپ کی مو ت نے میری مصیبتیں تازہ کردی ہیں آپ کی اس جوانی میں موت کا آنا میرے لئے بہت ہی درد ناک حادثہ ہے ( انا لله وانا الله راجعون ) خدا کی قسم اس عظم حادثہ کو کبھی میں فراموش نہیں کروں گا (١)
جناب سیدہ اپنی زندگی کی صداقت اور شوہر کی اطاعت کو بیان کرنے کے بعد حضرت فاطمہ اور حضرت علی علیہ السلام باہم رونے لگے جناب سیدہ کے رونے پر قابو پا نے کے بعد حضرت علی علیہ لسلام نے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا یا حضرت زہرا سر مبارک کو میرے دامن میں رکھیں جناب سیدہ نے سرمبارک کو حضرت علی کے دامن میں رکھا اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا آپ وصیت کیجئے حضرت زہرا نے وصیتیں شروع کیں:
١) یا ابن عم مرد عورت کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا ،لہٰذا آپ میرے مرنے کے بعد امامہ سے ازدواج کیجئے چونکہ امامہ باقی عورتوں کی بہ نسبت میرے بچوں پر زیادہ مہربان ہے (٢)
٢) میرے بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا کبھی ان کو سخت لہجہ سے نہ پکاریئے گا۔
٣) میرے جنازہ کو رکھنے کے لئے ایک تابوت مہیا کیجئے گا ۔
٤) مجھے رات کو غسل اور تجہیز وتکفین کرکے دفن کیجئے گا اور ان افراد کو میری تجہیز وتدفین میں آنے کی اجازت نہ دیجے گا (ابوبکر ،عمروغیرہ ) (3)
٥) رسول اکرم کی بیویوں میں سے ہر ایک کو میری طرف سے مدد کیجئے گا۔(4)
اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے ایک وصیت نامہ لکھوا یا حضرت علی علیہ السلام وصیت نامے کے کاتب تھے اور جناب مقداد اور زبیر اس کے گواہ تھے اس وصیت نامے کوجناب آیتہ اللہ امینی نے اپنی کتاب میں اس طرح ذکر فرمایا ہے:
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
''یہ وصیت نامہ فاطمہ پیغمبر اکرم ۖکی دختر کا ہے میں خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہوں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد ۖ خدا کے رسول ہیں بہشت اور
دوزخ برحق ہے قیامت کے واقع ہونے میں شک نہیں ہے خدا مردوں کو زندہ فرمائیںگا یا علی خدانے مجھے آپ کا ہمسر قرار دیا ہے تا کہ دنیا اور اخرت میں اکٹھے رہیں میرا اختیار آپ کے ہاتوں میں ہے اے علی مجھے رات کو غسل وکفن دیجئے گا اور حنوط کر کے کسی کو خبر دیئے بغیر دفن کر دیجئے گا اب میں آپ سے وداع کر تی ہوں میرا سلام میری تمام اولاد کو پہنچا دیجئے گا (5)
ان وصیتوں کو بیان کر نے کے بعد امام حسن وامام حسین علیہما السلام والدہ گرامی کی یہ حالت دیکھ کر رونے لگے اسماء بنت عمیس آپ کی خادمہ آپ کی حالت دیکھ کر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے جدا نہیں ہو تی تھی حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی روح پروازکرتے وقت آپ کے کنارے بیٹھے ہو ئے تھے اتنے میں جناب سیدہ نے آنکھیں کھولیں اور نگاہ اطراف پر ڈالی اور فرمایا السلام علیک یارسول اللہ ۔
نیز حضرت علی نے فرمایا جناب سیدہ نے وفات کی رات مجھ سے فرمایا یا ابن عم جبرائیل ابھی مجھے سلام کر نے کے لئیے حاضر ہو ئے تھے اور خدا کے سلام کو عرض کرنے کے بعد کہا کہ خدا نے خبردی ہے کہ آپ عنقریب بہشت میں اپنے والد گرامی سے ملاقات کریں گیں اس کے بعد حضرت زہرا نے مجھ سے فرمایا یاابن
عم میکائیل ابھی نازل ہوئے تھے اور اللہ کی طرف سے پیغام لائے یا ابن عم خدا کی قسم عزرائیل میری روح کو قبض کرنے کے لئے میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں اتنے میں آپ کی روح بدن سے پرواز کرگئی علی اور آل علی ماتم برپا کرنے لگے۔
(راقم الحروف )خدا یا تو ہی اعدل العادلین ہے حضرت زہرا کے نازنین جسم پر ضربت لگا نے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچا دینا حضرت زہرا کے صدقے میں دنیا اور آخرت میں ہمیں کامیابی عطافرماعالم بے عمل کو ہدایت فرما۔(آمین)


………

(١) بحارالا نوار جلد ٤٣ . (٢) مناقب شہرآشوب جلد ٣ ص٣٦٢، دلائل الا ما مة.
(3)بحارالانوار جلد ٤٣ . (4)دلائل الاما مة.
(5)بحارالانوار جلد ٤٣ نقل از کتاب فاطمہ زہرا مثالی خاتون

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.