ناصرہ ولایت حضرت زھراء سلام اللہ علیہا

ناصرہ ولایت حضرت زھراء سلام اللہ علیہا

اصرہ ولایت ، دختر نبيۖ ، ام ابیھا ، صدیقہ طاہرہ ، ام الآئمہ ،عصمت کی کلی حضرت زھراء سلام اللہ علیھا جسے بتول عزرا ، محدثہ فاطمہ ، طاہرہ ، زکیہ راضیہ ، مرضیہ کے پاک ناموں سے پکارا جاتا ہے ، اس پاسبان ولایت و حقیقت کا ہر ایک نام و لقب آپ کی ذات طاہرہ کے ایک جدا گانہ پہلو کی عکاسی کرتا ہے ۔ اور آپ کی زندگی کے ایک گوشہ پر روشنی ڈالتا ہے۔
اگر چہ ظاہری طور پر آپ کی دنیاوی زندگی اٹھارہ سال سے متجاوز نہیں ہوتی ہے ، لیکن اس زندگی میں غور کیا جائے تو بطن خدیجہ سلام اللہ علیہا میں نور فاطمہ ۖ کے استوار سے لحد بقیع تک ہر ایک واقعہ ایک حقیقت سے پردہ افشائی کرتا ہے ۔ بالخصوص پیامبر اکرم ۖ کی رحلت کے بعد جب اس مخدومہ کائنات کی ذات پر مختلف ذمہ داریاں عائد ہوئیں اور مختلف مسائل در پیش ہوئے تو آپ کی زندگی کے متنوع پہلو نکھر کر اقوام عالمکے سامنے نمودار ہوئے ہر قدم پر آپ کی زندگی سے درس حاصل ہوتا ہے اور ہر لمحہ پر تاریخ کا ایک باب ثبت ہوتا ہے مثلاً دروازہ بتول کا جلنا ہویا آپ کی پسلیوں کا ٹوٹنا ، حضرت محسن کی شہادت ہو یا آپ کے گھر میں سپاہ کا ہجوم ، آپ کا ناقہ پر سوار ہو کر انصار و مہاجرین سے نصرت ولایت علی مرتضیٰ علیہ السلام کی استدعا ہو یا گھر میں سکوت ، آپ کا مسجد النبی میں خطبہ دینا ہو یا زنان انصار و مہاجرین میں حق علی مرتضیٰ کے لئے سخن گوئی ، آپ کا سکوت دربار کو کہرام میں تبدیل کرنا ہو یا بیت الاحزان میں گریہ و زاری ، ہر واقعہ ایک حقیقت کا پس منظر بیان کرتا ہے ، اور آئندہ کی تاریخ کا باب کھولتا ہے یہیں سے عاشورا کا درس ملتا ہے اور یہیں سے حضرت زینب کی تحریک کا آغاز ہوتا ہے ۔ اور یہی وہ کردار ہے جو مھدی موعود تک ولایت کے دوام کے راز کو پنہاں کئے ہوئے ہے اگر آج حضرت زھراء اس تحریک کی بنیاد نہ رکھتی تو کل حضرت زینب کی تحریک کو دوام نہ ملتا ، اور عاشورا ایک واقعہ اور سانحہ کی حد تک محدود رہ جاتا ایک مکتبی حیثیت اختیار نہ کرتا ۔ اگر عاشورا مکتبی حیثیت اختیار نہ کرتا تو ولایت کا درس فراموش ہو جاتا ۔
پس یہی کردار حضرت زھراء سلام اللہ علیہا ہے جس میں اسرار ولایت پنہان تھے ، یہی وہ سیرت بتول عزرا ہے جس میں ہر الٰہی انقلاب کی کامیابی مضمرہے ۔ اور یہی وہ راہ سرخ شہادت ہے جو صدیقہ طاہرہ اور راہ ولایت کی اولین شہیدہ نے اہل کربلا اور بعد از کربلا ، عاشقان ولایت کو دکھایا ہے ۔ جس پر سر بکف مجاہد چل کر شہداء کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھواتے ہیں اور دنیا میں انقلاب برپا کر کے اور اہل حق کا نام روشن کرتے ہیں ۔
الغرض حضرت زھرا مرضیہ کی حیات طیبہ کا ہر ایک پہلوسیاسی اعتبار سے جداگانہ درس دیتا ہے جس کا کوئی اہل حقیقت اور منصف مزاج انسان انکار نہیں کر سکتا ہے خواہ وہ کسی گروہ یا کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو ۔ کسی بھی عقیدہ یا کسی بھی مکتب فکر سے وابستہ ہو جب وہ دنیا میں برپا ہونے والے انقلاب کا ذکر کر ے گا یا دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالے گا حضرت زھراء ۖ کے تاریخ ساز کردار کو فراموش نہیں کر سکے گا ۔ اس لئے اس مختصر تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ آپ کی زندگی کے باقی پہلوئوں کو چھوڑتے ہوئے آپ کے سیاسی کردار پر جو ولایت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے تحفظ کی کوشش پر مشتمل ہے تاحد استعداد روشنی ڈالی جائے ۔ کیونکہ آ پ کا یہ پہلو بھی ایک بحر بے کراں کی حیثیت رکھتا ہے جس کے عمق کا اندازہ کوئی عالمی مفکر ہی لگا سکتا ہے بلکہ عالمی مفکر کی بھی کیا بساط ہے کہ ایک معصوم کی زندگی کو در حقیقت صحیح طور پر کوئی معصوم ہی سمجھ سکتا ہے ۔ غیر معصوم تو فقط اپنی قدرت و توانائی کے مطابق اسی رخ کو سمجھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہوتا ہے ۔ لہذا امید کی جاتی ہے کہ اسی معصومہ بی بی کے توسل سے خدا وند عالم چند سطروں میں حقیقت افشانی کی توفیق عنایت فرمائے گا

تاریخ میں خواتین کا کردار

سوال یہ پیداہو تا ہے کہ آیا تاریخ انسانیت میں خاتون کا کوئی کردار ہے یا نہیں ؟ یعنی اصلاً کیا خاتون تاریخ سازی میں کوئی کردار ادا کر بھی سکتی ہے یا نہیں اور اسلامی نقطہ نگاہ سے اس نظریہ کو کس انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے ؟ یہ حقیقت ہے کہ تاریخ انسانیت میں خواتین کا کردار ایک روشن باب کی حیثیت سے تھا ، رہا ہے ، اور آئیندہ بھی رہے گا البتہ یہ مسئلہ قابل غور ہے کہ خاتون براہ راست اور بلا واسطہ تاریخ سازی میں کردار ادا کرتی رہی ہے یا غیر مستقیم اور بالواسطہ ؟ کہتے ہیں کہ خاتون غیر مستقیم طور پر تاریخ سازی میں کردار ادا کرتی ہے ۔ یعنی خاتون مرد سازی کرتی ہے اور مرد تاریخ سازی کرتا ہے یعنی مرد جتنی تاثیر خاتون کا کردار بنانے میں رکھتا ہے ۔ خاتون اس سے زیادہ مرد کی کردار سازی میں تاثیر رکھتی ہے یعنی خاتون بحیثیت ماں یا بہ عنوان بیوی مرد میں بیشتر تاثیر رکھتی ہے اور یہ کوئی باعث تعجب بات نہیں کہ مرد میں خاتون کی زیادہ تاثیر کیوں ہے تاریخی مطالعات سے یہ بات ثابت ہے کہ مرد کے کردار بنانے میں مرد کی شخصیت نکھارنے میں خاتون بیشتر مؤثر ہے ، مرد خاتون کے کردار میں اتنی تاثیر نہیں رکھتا جتنی خاتون مرد میں تاثیر رکھتی ہے لہذا خاتون کی بالواسطہ طور پر تاریخ سازی میں اہمیت ناقابل انکار ہے ۔ بلکہ یہ بات زمانہ کے انقلابات و واقعات سے روز روشن کی طرح واضح ہے اس میں کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے


تاریخ میں خاتون کا براہ راست کردار

خاتون کے (بلا واسطہ ) براہ راست کردار کو تین صورتوں میں تصور کیا جا سکتا ہے ۔


اوّلاً : خاتون تاریخ میں کوئی مستقیم کردار ادا نہیں کر سکتی ہے ، یعنی تاریخ میں خاتون کے کردار کی بلا واسطہ کاملاً نفی کی جاتی ہے ۔ اور اگر کہا جائے کہ خاتون کا کام فقط امور خانہ داری اور بچے کی پیدائش کے بعد اس کی دیکھ بھال اور تربیت ہے تا کہ کل یہ بچے معاشرہ سازی میں بہتر کردار ادا کر سکیں اور معاشرہ کے بہترین فرد بن کر تاریخ میں اپنا نام درج کروا سکیں تو یہ وہی بالواسطہ کردار بن جاتا ہے ۔ البتہ یہ خاتون اگر چہ ذاتی طور پر معاشرہ کا حصہ نہیں ہے خانہ نشین ہے گلی کوچوں ، روڈ اور بازار کی زینت نہیں ہے ۔ لیکن بہترین افراد کی تربیت میں مصروف ہے معاشرہ کے عظیم افراد کی کردار سازی میں مشغول ہے ۔ یہ ایک گراں بہا موتی ہے جو چار دیواری میں محصور ہے ۔ یہ وہ الماس اور گوہر ہے جو خانوادگی زندگی میں رہ کر اپنے خاندان کے تاریک دلوں کو منور کر رہا ہے ۔ یہ وہ ہیرا ہے جو اپنے مردوں اور جوانوں کے کردار میں چمک رہا ہے ۔ ایسی خاتون کے کردار کی اہمیت کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا ۔ اسی لئے تو حضرت زھراء سلام اللہ علیہا نے ایک مرتبہ خواتین پر سوال کیا کہ گرانبھا ترین اور عظیم ترین کون ہے ؟ تو خواتین خاموش رہیں ۔ پھر حضرت زھراء ۖ نے خود اس سوال کا جواب دیا اور فرمایا کہ قیمتی ترین خاتون وہ ہے جسنے کبھی نا محرم مرد کو نہ دیکھا ہو اور نا محرم مرد نے اسے نہ دیکھا ہو ۔ پھر ایک مقام پر فرماتی ہیں میرے گھر کا دروازہ مسجد النبی میں کھلتا تھا اور میں تبلیغ سننے کے لئے کبھی مسجد میں نہیں گئی تھی ۔ البتہ ان روایات کی سندی حیثیت کیا ہے اس سے ہمیں بحث نہیں ہے ۔
نتیجتاً اہم ترین اور قیمتی ترین خاتون وہ ہے جو مرد سازی کے ذریعے معاشرہ سازی اور تاریخ سازی کا فریضہ انجام دیتی ہے ۔


ثانیاً : خاتون کا براہ راست کردار جب وہ چادر اور چار دیواری سے بے غرض اور بے نیاز ہو ۔ اگر چہ یہ تصور قدیم معاشرہ میں موجود نہ تھا ۔ یعنی از خودخاتون کا تاریخ سازی میں کردار ادا کرنا ۔ اور مردوں کی طرح جامعہ بشری میں برابر کا حصہ لینا عمومی اجتماعات میں اپنے اظہار خیال اور خطابات سے معاشرہ میں اپنی حیثیت منوانا ۔ مردوں اورخواتین کے درمیان مو جود حجابات کی پرواہ نہ کرنا دفاتر بازار اور گھر یلو زندگی میں فرق محسوس نہ کرنا بلکہ ہر شعبہ حیات میں مردوں سے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ۔ الیکشن، سینما ،تھیٹر ، موسیقی ، نائٹ کلب ،کمپیوٹر ، میڈیا ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ وغیرہ میں خاتون کا پیش پیش ہونا اور ہر شعبہ حیات میں خاتون کا نمایا ں طور پر اپنے آپ کو پیش کرنا ۔معاشرے میں ہر قسم کے استفادے کے لئے خاتون کا ارزاں اور بے قیمت ہو نا ۔ چاہے تو مرد موسیقی کے ذریعے خاتون کی صدا سے لطف اندوز ہو چاہے اس کی تصاویر کے ذریعے چاہے بازاروں اور پارکوں میں لمس کرنے کے ذریعے، ایسی خاتون یقینا بے ارزش اور کم اہمیت ہے اس خاتون نے معاشرہ میں اگر چہ مستقیماً کردار ادا کر کے تاریخ بشریت میں اپنا نام بلند کیا ہے لیکن اس کی تمام شعبہ حیات میں فراوانی نے خاتون کو اپنی حیثیت سے گرا دیا اور اس کی ہر جگہ ارزانی نے اسے کم اہمیت کر دیا جب یہ خاتون اپنی حالت خاص سے خارج ہوئی اور عام لوگوں کی نگاہوں کی زینت بنی اور ہر قسم کے استفادے کا ذریعہ بنی تو اگرچہ یہ خاتون کتنی بڑی عالمہ اور مفکرہ ہو اور اپنی ذات میں عالمی اسکالر ہو لیکن اس کی فراوانی نے اسے حقیقی ارزش اور واقعی اہمیت سے گرا دیا ہے چونکہ اکنامکس کا مشہور قانون ہے کہ رسد کم طلب زیادہ ہو تو قیمت بڑھتی ہے اور رسد زیادہ طلب کم تو اشیاء کی اہمیت کم اور قیمت میں بھی کمی ہوتی ہے خواتین بازار میں جتنی فراوان ہوں گی اتنی کم قیمت ہو گی مغربی ممالک میں اسی لئے خواتین کم اہمیت ہو رہی ہیں اور طلاق کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور لڑکیوں کا بے شوہر زندگی گزارنے کا ریشو بڑھ رہا ہے کیوں کہ وہاں چادر اور چار دیواری کا تصور نہیں ہے خاتون معاشرہ میں مستقیماً اور تاریخ سازی میں براہ راست کردار ادا کرتی ہے اورخاتون کے اس کردار میں بہت سے مردوں اور عورتوں کو نفسیاتی مریض کر دیا ہے مغربی معاشرہ اس مصیبت کی چکی میں پس رہا ہے اور اس سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتا اگر چہ اس فساد کی آگ آج کل اسلامی معاشرہ میں بھی مختلف مقامات پر لگی ہوئی ہے پھر بھی کسی حد تک اسلامی معاشرہ بلکہ کافی حد تک محفوظ دکھائی دیتا ہے اور اب چند سطروں میں اسلامی نقطہ نظر پر غور کریں ۔

٣۔ عظیم ترین خاتون اور تاریخ میں براہ راست کردار

تیسری صورت میں خاتون کو اس طرح تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے حریم کا بھی خیال کرے اور معاشرہ سازی اور تاریخ سازی میں بھی مستقیماً کردار ادا کرے یعنی اس کی اہمیت بھی نہ گرے اور تاریخ اور معاشرہ سے بھی کٹ کر نہ رہے یہ خاتون قیمتی الماس اور ہیرا بھی ہے اور تاریخ ساز بھی یہ خاتون علم و آگاہی کے ذریعے قدرت اوراختیارسے اپنے روحی کمالات کو بھی پروان چڑھا سکتی ہے اور اپنے انسانی عاطفے اور قوت ارادی سے میں ترقی بھی کر سکتی ہے اسلام خاتون کو اس قدر محدود بھی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ جامع بشری سے کٹ کر رہ جائے اور عضوبے حس وحرکت اور ایک بے جان عنصر کی حیثیت اختیار کر لے اسلام خاتون کو اس قدر آزاد بھی نہیں دیکھنا چاہتا کہ وہ بے ارزش ہواور بے آبرو ئی کا باعث بن جائے بلکہ اسلا م یہ چاہتا ہے کہ خاتون اپنے دائرے میں رہ کر جامعہ بشری کا حصہ رہے اور تاریخ میں اس کا کردار رہے کیونکہ علم و آگاہی اختیار اور ارادہ شجاعت و دلیری خاتون کی شخصیت میںنکھار پیداکرتے ہیں اخلاق حسنہ ،معنوی اور روحانی کمالات عبادات ،عارفانہ اطاعت کبریا خاتون کے بلند پایہ ہونے کا باعث ہیں یہ ساری چیزیں مرد و ں اور عورتوں کے اختلاط کے بغیر بھی حاصل ہو سکتی ہیں ۔ بازاروں کی زینت بنے بغیر بھی ممکن ہیں خاتون اپنے دائرہ میں رہ کر خود مختار ہے چاہے وہ صنعت و ہنر میں کمالات کے جوہر دکھلائے چاہے وہ ایمان اور عبادت میں مستحکم ہو جائے اور چاہے وہ اپنی بلند فکری اور آگاہی اور علم و معرفت کے ذریعے مثل حضرت زینب دنیا میں عظیم انقلاب برپا کر دے خاتون کے ان کمالات اور تاریخ سازی میںجوہر دکھائے گی میں اسلام کبھی مخالفت نہیں کرتا ۔ لیکن اسلام نے مرد و عورت کے درمیان جو حدود مقرر کی ہیں اور جو پردے حائل کئے ہیں خاتون ان حدود کو نہ پھلانگے اور نہ ہی ان پردوں کو پارہ پارہ کر کے عطر زنانہ استعمال کر کے مردوں کے استشمام کا باعث بنے ،میکپ اور اعضائے بدن کی پردہ افشای سے روح انسانی کو خراب نہ کرے اپنی پاک طینت کو خراب طینت میں بدل کر معاشرہ کے نفسیاتی مریضوں میں اضافہ نہ کرے ۔ اگر ہم اسلامی نقطہ نظر کو قرآن مجید میں دیکھیں تو واضح طور پر دو کردار ہمیں تاریخ انسانیت میں ملتے ہیں ایک خواتین کا کردار لیکن اپنی حدود میں اور دوسرا مردوں کا کردار لیکن اپنی حدود میں ، اسلام اور قوانین قرآن کے مطابق دونوں تاریخوں کی حد بندیاں مقرر ہیں ۔ نہ اختلاط ہے اور نہ اس قدر جدائی کہ اصلاً ان دونوں میں لا تعلقی عیاں ہو ۔
قرآ ن مجید میں حضرت سارہ ، حضرت آسیہ ، حضرت حوا حضرت مریم اور حضرت ام موسیٰ کا کردار خواتین کی تاریخ پر نمایاں دلائل ہیں حضرت زھراء سلام اللہ علیہا کا ذکر انا اعطینک الکوثر کی صورت میں بھی ایک تاریخی کردار کی طرف راھنمائی کرتا ہے ۔ حضرت زھرا خیر ہی نہیں بلکہ خیر کثیر ہے جس کی حدود و قیود کو خود خدا جانتا ہے ۔ یا اس کے خلفائے مطلق جانتے ہیں یعنی حضرت مصطفی ۖ و علی مرتضیٰ اور اولاد علی مرتضٰی جانتے ہیں حضرت زھرا ایک بحر بے کراں ہے کہ جس کے ساحل کو کوئی جغرافیہ دان نہیں چھو سکتا اور وہ اتنی بلند چٹان ہے کہ جس کی بلندی سے کسی مفکر کی فکر کا پرندہ پر واز نہیں کر سکتا ہے ۔ تاریخ اسلام میں اگرچہ خواتین عالم نے اپنی تاریخ رقم کر وائی ہے لیکن حضرت زھرا ۖ اور حضرت زینب سلام اللہ علیہما نے جو تاریخ رقم کی ہے تمام کرداروں سے بلند ترین کردار پیش کیا ہے ۔ اگر ہم حضرت زھراء ۖ کے کردار میں غیر مستقیم تاریخی حیثیت کو دیکھیں تو وہ ام الآئمہ ہیں ۔ حضرت حسنین علیھما السلام کے کردار میں اس کی چمک اور نورانیت نظر آتی ہے ۔ حضرت زینب و ام کلثوم کی تربیت میں اس جوہر نایاب کی دمک نظر آتی ہے ۔ خود حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت میں نور زھرا ۖ کی کرن محسوس ہوتی ہے ۔
اگر حضرت زھرا ۖ کے تاریخ سازی میں مستقیم کردار کو دیکھا جائے تو بعد از رحلت پیامبر ۖ اسلام اٹھارہ سال کی دختر نبیۖ نے شجاعت کے اس قدر جوہردکھائے کہ حکمرانوں کے ایوان لرز گئے اور اس قدر علی مرتضٰی کی پشت پناہی کی کہ آپ کی زندگی تک علی مرتضٰی علیہ السلام اپنی قدرت اور قوت کا احساس کرتے تھے خطبہ فدکیہ ہو یا احتجاج در دربار خلیفہ ہو ۔ اسی طرح مہاجرین و انصار کی خواتین میں خطبہ ہو یا بیت الحزان میں گریہ ہو یہ سارے کا سارا فاطمی کردار تاریخ کے سینے میں بند ہے اور اس کا ذکر کئے بغیر تاریخ ناقص ہے ۔ لیکن یہ سب کچھ اسلامی حدود کی پابندی اور اسلامی قواعد کی پاسداری میں انجام پایا کسی جگہ بھی تاریخ نویس کوئی نقطہ ضعف اور کسی مقام پر بھی کوئی مورّخ حجرت زھراء کی ۖ شخصیت میں نقص و کمی تلاش نہیں کر سکتا ہر اعتبار سے آپ کی ذات اور کردار میں خواہ مستقیم کردار ہو یا غیر مستقیم تاریخی حیثیت مورّخ کو کمالات وعروج نظر آئے گا ۔

حضرت علی کی خلافت بلا فصل

یہ بات اپنی جگہ پر ثابت اور مسلّمہ حقیقت ہے نبی و رسول معصوم ہونے چاہئے اور اس میں اہل کتب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور امت مسلمہ کا اس مسلہ میں اجماع ہے لذا ہمارے عقیدے کے مطابق جب نبی و رسول کا معصوم ہونا ضروری ہے تو عقلاً اس کے جانشین اورخلیفہ کا بھی معصوم ہونا ضروری ہے ۔ کیونکہ خلیفہ اور جانشین تمام تر وہی کام انجام دیتے ہیں جو نبی و رسول دیا کرتے تھے مگر امام بانی شریعت نہیں بلکہ محافظ شریعت ہے بعد از پیامبر اسلام ۖ علی مرتضٰی کے علاوہ نہ کوئی معصوم اور نہ کوئی اعلم و اعرف اس لئے خطبہ شقشقیہ میں حضرت علی علیہ السلام واضح الفاظ میں فر ما رہے ہیں کہ :
فلاں نے قمیص خلافت تن کر لی حالانکہ وہ جانتا تھا کہ خلافت مجھ میں منحصر تھی کیونکہ میں وہ پہاڑ ہوں جس کے دامن سے علم کے چشمے بہتے ہیں اور میں وہ بلند چٹان جس تک کسی کی فکر کا پرندہ پرواز نہیں کر سکتا ۔………الخ
لذا اصولی طور پرخلافت حضرت علی علیہ السلام کا حق تھا اور عقل بھی یہی تسلیم کرتی ہے علاوہ ازین خود پیامبر ۖ بھی اعلان خلافت کر کے گئے تھے ۔ اور حضرت علی علیہ السلام کا غدیر کے مقام پر بعنوان خلیفہ اعلان کر کے گئے تھے ۔ امت کو تاریکی اور گمراہی میں چھوڑ کر نہیں گئے تھے ۔ اور حق بھی یہی ہے کہ اپنے خلیفہ کا خود اعلان کر کے جائیں کیونکہ جب کسی عام سفر پر جاتے تو اپنے جانشین کا اعلان کر کے جاتے تھے ۔ مثلاً جب جنگ تبوک میں عازم سفر ہوئے تو مدینہ میں اپنا جانشین حضرت علی کو بنا گئے اور اسی طرح سپہ سالار کا بھی تعین فرماتے تھے پس یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنی رحلت کے بعد کسی کو جانشین نہ بنایا ہو لذا بہت سی عقلی اور نقلی دلیوں سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت علی علیہ السلام پیامبر اکرم ۖ کے خلیفہ بلا فصل تھے ۔ اور ان کی حکومت کو غصب کیا گیا ۔
اسی سلسلہ میں حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کا ایک خطبہ ہے جب حضرت علی کو گرفتار کر کے دربار میں لے گئے تو حضرت زھرا ۖ نے زنان مہاجرین و انصار میں تصریح کے ساتھ فرمایا اگر غصب خلافت نہ ہوتا تو امت اسلام پر برکات نازل ہوتیں اور اگر علی علیہ السلام کے ہاتھ میں خلافت کی باگ ڈور ہوتی تو لوگ صحیح راہ پر چلتے اور اس راہ میں کبھی تکلیف اور مصیبت نہ ہوتی خدا ان پر خصوصی برکات نازل فرماتا ۔ الفرض حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کو غصب کیا گیا اور بعد از پیامبر ۖ حالات یکسربدل گئے جن کو آئندہ چند سطروں میں پیش کیا جائے گا ۔

حالات بعد از پیامبر ۖ

پیامبر اکرم ۖ کی رحلت کے بعد حضرت علی علیہ السلام پیامبر کے کفن و دفن میں مشغول تھے اور پیامبر کا پورا گھرانہ غمزدہ تھا زھرا عزرا کے گھر صف ماتم بچھی تھی اور حضرت علی سوگواروں کے حلقہ میں عزاء پیامبر میں مصروف تھے ادھر مفاد پرستوں کے ایک گروہ نے چال چلی دولت کے حریصوں نے سقیفہ بنی سعدہ میں خفیہ مٹینگ کی جس میںتاریخ انسانیت کے شرمناک فیصلے کئے گئے ۔ خلافت علی کو غصب کیا گیا اور پیامبر کی میراث کو لوٹا گیا ۔ جب ان سے سوال ہوا کہ یہ کاروائی کیوں کی گئی ہے اور کن لوگوں کی آرا سے یہ عمل انجام کو پہنچا ہے تو جواب دینے لگے بزرگان کی رائے سے اور اہل حل و عقد کے اجماع سے یہ عمل طے پایا ہے ۔
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کیا حضرت علی علیہ السلام خود اہل حل و عقد سے نہیں تھے ۔ سلمان ، ابو ذر ، مقداد ، عمار ، ذو الشھادتین ابو سعید خدری وغیرہ اھل حل و عقد نہیں تھے کیایہ بزرگان صحابہ نہ تھے تمہارے نزدیک حقیقی بزرگی کا معیار کیا ہے آیا وہی بزرگ ہیں جو تمہارے اھداف کی تکمیل میں تمہارا ساتھ دیتے ہیں ؟ ۔
اس ظلم کے بعد خلیفہ وقت کی طرف سے اعلان ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام کو بیعت کے لئے بلایا جائے حکومتی کارندے خلیفہ کے مشیر خاص کی سرپرستی میں حضرت علی کے دروازے پرآئے اور علی کو طلب کیا گیا جب حضرت باہر تشریف لائے تو لکڑیاں جمع کی گئیں اور حضرت علی کو گرفتار کیا گیا اب اس مختصر مضمون میں گنجائش نہیں کہ مکمل طور پر تمام تاریخی واقعات اور ان کے پس منظر کو بیان کیا جائے پس مختصر یہی کچھ کہا جا سکتا ہے کہ امت پیامبر نے اہل بیت رسول کے تمام تر حقوق کو غصب کر کے ہر قسم کی حرمتوں کو پامال کیا اور اس وقت سب سے زیادہ حمایت ولایت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر حضرت زھرا ۖ نے اٹھائی اسی وجہ سے وہ بہت کم عرصہ اپنے بابا کے بعد اس جھان میں زندہ رہیں ۔ اور بہت چھوٹی عمر میں ستم ظریفوں کے مظالم سہہ سہہ کر چند ہی ماہ بعد اپنے بابا سے جا ملیں ۔

نصرت ولایت میں حضرت زھرا ۖ کا کردار

باغ فدک کو اس لئے وقت کے حکمرانوں نے غصب کیا کہ ولایت امام علی علیہ السلام کے لئے باغ فدک ایک عظیم اقتصادی معاون ثابت ہوتا ۔ جب حضرت زھرا تک یہ خبر پہنچی کہ آپ کے باغ فدک کو غصب کر لیا گیا ہے تو احتجاجاً بی بی گھر سے نکلی اور مسجد النبی کی اس جگہ جس کو رسول اکرم نے احقاق حق لے کے معین کیا تھا رسول ۖ کی بیٹی ۖ جناب فاطمہ زھرا زنان بنی ہاشم کے حلقے میں پوری شان و شوکت کے ساتھ شیخین پر اتمام حجت کے لئے آئیں اور اسی مخصوص جگہ پر کھڑی ہوئیں مسجد کے پردے کھینچے گئے اور نبی ۖ کی بیٹی نے نبی ۖکے لہجے میں فصیح اور بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا ۔
جناب فاطمہ ۖ نے ابتداء ہی میں ایک سرد آہ کھینچی جس کا اثر یہ ہوا کہ تمام حاضرین گریہ کرنے لگے ۔ جب لوگوں کے گریہ کی آواز کم ہوئی تو جناب فاطمہ زھرا ۖ نے حمدو ثنائے الٰہی اور رسالت پیغمبر کی گواہی دینے کے بعد اپنی اورحضرت علی کی زحمتوں و مشقتوںکا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب پیغمبر اس دنیا سے چلے گئے تو تمہارے درمیان نفاق آشکار ہو گیا ، متاع دین بغیر خریدار کے رہ گیا یعنی دین کے ماننے والے نہ رہے گمراہ خلافت کا دعویدار بن گیا ۔ اور ہر گمنام حکمران ہو گیا ، گلیوں اور کوچوں میں خرافات عیاںہونے لگے پھر خطبہ کے جملات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک مقام پر حضرت زھرا سامعین کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگیں وائے ہو تم پر اے گروہ مہاجرین و انصار کیا قرآن میں حکم خدا یہی ہے کہ لوگ میری میراث غصب کریں اور میری حرمت کا خیال نہ کریں اور میری حمایت کے بجائے خاموش تماشائی بنے رہیں۔
پھر بی بی نے فرمایا اے پسر ابی قحافہ کیا قرآن میں کوئی حکم ایسا ہے کہ تو اپنے باپ کی میراث لے او ر میں اپنے باپ کی میراث سے محروم ہو جائو ں ۔
حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کے اس خطبہ سے تمام حکومتی ایوان لرز گئے اور بی بی نے اپنی مستدل اور منطقی گفتگو سے حکمرانوں کو شکست دی جبکہ بھرے دربار میں علی مرتضٰی کے علاوہ آپ کا کوئی حامی نہ تھا

حضرت علی کی نصرت کے لئے مہاجرین و انصار سے حضرت زھرا ۖ کی استدعا

جب پیامبر ۖ نے رحلت فرمائی اور دنیا تاریک ہو نے لگی اور سود پرستوں اور دنیا کے رذیل انسانوں نے اپنے مقاصد کو پروان چڑھانے کی کوشش کی اور حضرت علی علیہ السلام کے حق حکمرانی پر قبضہ کر لیا اور مقام رسالت کا تمسخر اڑانے لگے اور مقام خلافت کو اپنی خواہش کے مطابق چاہنے لگے توحضرت زھرا نے اپنی درونی قدرت کو استعمال کیا اور اس وقت اجتماع کے مقابلے میں آئیں کہ جب حضرت علی علیہ السلام بھی سکوت اختیار کر رہے تھے تنھا حضرت زھرا ۖ تھیں جو میدان فعالیت میں آئیں اپنے آنسوئوں اور آھوں سے ماحول تبدیل کر دیا اور ہر روز ایک نئی قدرت کے ساتھ ظاہر ہونے لگیں پہلے مسجد میں جا کر خطاب کیاکرتیں پھر رات کے وقت حضرت علی علیہ السلام کی نصرت و حمایت طلب کرتیںجب حضرت زھرا ۖ کی یہ کوشش بھی ظاہر اً بے ثمردکھائی دینے لگی تو اپنے گھر میں خانہ نشین ہوئیں ۔ اور گریہ و بکا سے اپنے مبارزہ کا عملی مظاہرہ کیا اور اسی مبارزہ میں مصروف رہیں تاکہ ایک فرصت ملے تاکہ لوگوں کو حقیقت سے آشنا کرے ۔

مھاجرین وانصار میں ولایت کی پاسبان کا خطاب

جب حضرت فاطمہ عزرا ۖ سخت مریض ہوئیں توخواتین مدینہ آپ کی عیادت کیلئے آئیں تو اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے حضرت زھرا ۖ نے بہترین خطبہ دیا اور اس مقام پر حقیقی نگہبان کی طرف راھنمائی فرمائی ۔
جب مہاجرین وانصار کی خواتین نے حضرت سے سوال کیا اے دختر پیامبر روز گار زمان آپ پر کیسے گزرر ہاہے ہیں تو بجائے اس کے کہ اپنی بیماری کے بارے میں کوئی بات کریں اور اپنے مرض کی حالت بیان فرمائیں بڑے صراحت آمیز لہجے میں خطبہ ارشاد فرماتی ہیں ۔
اول خدا کی حمد و ثناء بیان فرماتی ہیں اور پیامبر پر درود و سلام بھیجتی ہیں ۔مخدرہ عصمت و طہارت بڑے واشگاف الفاظ میں فرماتی ہیں ۔اگر اس حکومت کے زمامدار حضرت علی علیہ السلام ہوتے اور عادلانہ حکومت تشکیل پاتی اور حاکم الٰہی لوگوں پر حکومت کرتے تو لوگ اپنی مادی و معنوی نیک بختی اور سعادت مندی سے بہرہ ور ہو رہے ہوتے ۔
خدا کی قسم اگر لوگ ازخود کچھ نہ دیتے بلکہ جو کچھ خدا اور اس کے رسول نے حضرت علی کے ذمہ اور عہدے میں مسئولیت سونپی ہے ۔ اسی طرح حکومت تشکیل ہونے دیتے اور جیسے خدا نے معین کیا ہے اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کوچرخ حکومت چلانے دیتے تو یقینا امن و امان کی بنیادمیں وسعت پیدا ہوتی اور نظام حکومت صحیح راہ پر چلتا اورسماج رہبر آسمانی کی رھبری میں آسانی سے معاشرہ سازی کرتا تو یہ معاشرہ مادی اور معنوی طور پر انسانیت کے کامل ترین درجہ پر فائز ہوتا ، اور تمام راہیں کمال کی طرف جاتیں۔ کسی کا حق ضائع نہ ہوتا اور کوئی انسان خوف ناک نہ رہتا بلکہ ہر طرف رحمت حق ان کا ساتھ دیتی اور آزاد حکومت تشکیل پاتی اور قدرت الٰہی کے وسیلے سے لوگوں کی مشکلات حل ہوتیں اور لوگ لذت روحانی سے بہرہ مند ہوتے ۔
اس مقام پر حضرت زھرا ۖ حق و حقیقت کا دفاع کرتے ہوئے قرآن مجید کے سورہ اعراف آیت ٩٦ سے اپنی استدلال کو مضبوط فرماتی ہیں کہ خدا وند قرآن مجید میں فرما رہا ہے ۔ (( اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور پرہیزگار بنتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھل دیتے مگر افسوس کہ ان لوگوں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا ہم نے بھی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو عذاب میں گرفتار کر دیا ))
یہ وہ ایام ہیں جب حضرت علی علیہ السلام اپنی پشت پناہی کے لئے اور اپنی ولایت کے دفاع کے لئے ایک مضبوط سہارے کا احساس کرتے ہیں چونکہ دختر پیامبر حضرت علی ع کے لئے ایک بہت بڑا وسیلہ ہیں اور حضرت زھرا کے استدلال کو ٹھکرانا حکمرانوں کے لئے بھی سنگینی کا باعث بنتا ہے ۔ اگر چہ حضرت زھرا ظاہراً بہت کم عمر ہیں لیکن سایہ وحی کی پروردہ ہیں اس کی استقامت نے دشمن کی صفوں میں بہت زیادہ اضطراب پیدا کر دیا اور ان کی تمام سازشوں کو بے نقاب کر دیا ۔ اہل حق تک حقیقت کا پیغام پہنچا دیا اور حکمرانوں کے مقابلے میں بڑی شجاعانہ صف آرائی کر کے اہل حق کو قیامت تک کے لئے مفاد پرستوں پر غلبہ عطاکر دیا ۔

مکتب اسلام اور ولایت کی بقاء

حضرت زھراۖ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آج تک جو کچھ بھی اسلام کے دامن میں باقی بچا ہے حضرت زھرا ۖ کی فداکاری اور جانفشانی کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ اس نے کوشش کی کہ اسلام کے حقیقی چھرے کی بنیاد رکھے اور مکتب اسلام کے الٰہی جانبازوں کی پرورش کرے اسی لئے تو خدا وند قدوس نے ارشاد فرمایا تھا :
انا اعطینک الکوثر ساری کی ساری برکات اسی منبع پر فیض سے پھوٹتی ہیں۔
اگر آپ بکا و گریہ سے بیگانوں کو رسوانہ کرتیں تو شاید فرزندان زھر ا شھادت کی بساط بچھانے میں مشکلات محسوس کرتے یہ اس مکتب کی بنیاد کی تاثیر ہے جس کی اساس خود حضرت زھرا ۖ نے رکھی ہے اور بعد از پیامبر ۖ اسلام کی پہلی شہیدہ کا رتبہ پایا ہے ۔ اس مکتب اسلام اور ولایت کی حفاظت میں اولین شہیدہ قرار پائی اسی لئے تو فرزندان زھرا ۖ نے شہادت کے جام نوش کئے اور درس محبت کے دسترخوان پھیلائے اور بشریت کو حقائق عالم سے آگاہ کیا ۔
ہاں ہاں وہ خدا وند قادر مطلق ہے کہ جس نے ایک اٹھارہ سالہ کمسن خاتون میں اس قدر قدرتمندی کے جوہر پروئے کہ چار ماہ کی کم مدت میں اس قدر نیرو مند اور قوی تر ہوئی کہ قیامت تک کے لئے مکتب حقیقت کی عالم پر قدرت افشانی کی اور ولایت و اسلام کو ہمیشہ کے لئے غلبہ کی ضمانت عطا کی ۔ اور سخت ترین حالات میں اپنی شخصیت کو عالمی و جھانی بنا دیا اورظالموںکے تمام تر حربوں سے دنیا والوں کو آگاہ کیا یہ کمترین عمر کتنی پر ارزش اور قیمتی ہے کہ تاریخ انسانیت کی عظیم ترین خاتون بنی اور ایسا کردارپیش کیا کہ قیامت تک انسانیت کے لئے یہ کردار نمونہ عمل قرار پایا ۔ دعا ہے کہ خدا وند ہماری خواتین کو حضرت زھرا کے کردار پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
مصادر و منابع

١۔ قرآن مجید ۔ ترجمہ مولانا فرمان علی صاحب
٢۔ نھج البلاغہ ۔ خطبہ شقشقیہ
٣۔ الامامہ والسیاسہ ۔ ابن قتیبہ
٤۔ فاطمہ زھرا ۖ بھجة قلب مصطفیٰ ۖ
٥۔ لولا فاطمہ ۔ آقائی گرامی
٦۔ شہادت حضرت صدیقہ طاہرہ ۖ
٧۔ خطبہ حضرت فاطمہ ۖ
٨۔ فاطمہ زھرا در شکست نا پزیر
٩۔ حماسہ حسینی ۔ شہید مطہری
١٠۔ علل و الشرائع
١١۔ منتہی الآمال ۔ شیخ عباس قمی
١٢۔ فاطمہ زھرا بزرگ ترین بانوی جھان آقائی مکارم شیرازی

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.