پائیدار جوانی

پائیدار جوانی

امام زمانہ کے اوصاف وخصوصیات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ کے وجود مبارک پر بڑھتی عمر کا کوئی اثر نہ ہوگا، اور ایسا ہونا بھی چاہئے اس لئے کہ اگر طولانی عمر کے باعث پیری وضعیفی کے آثار آپ کے وجود میں پائے جائیں تو آپ وہ تمام اصلاحات اور عظیم انقلاب کیسے برپا کرسکیں گے جو آپ کے ذمہ ہیں۔

لہٰذا جس طرح حکم خداوندی سے آپ کو طویل عمر حاصل ہے اسی طرح اس عالمی رہبر کی جوانی، نشاط اور توانائیاں بھی حکم خدا سے باقی رہیں گی اور اس میں کوئی تعجب کا مقام نہیں ہے اس لئے کہ ہم طول عمر سے متعلق گفتگو میں یہ باتیں ثابت کرچکے ہیں کہ:

۱۔ یہ چیز خدا کے دائرہ ٴقدرت میں شامل ہے، جو انسان خدا کے وجود اور اس کی خالقیت پرا یمان رکھتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا نے ہی مادہ کو پیدا کیا ہے مختلف مادوں کو آپس میں جوڑ کر اتنے مستحکم نظام کے ساتھ یہ کائنات خلق کی ہے صرف یہی عالم نہیں بلکہ وہ عالمین کا خالق ہے کیا وہ خدا کسی انسان کی جوانی، نشاط اور توانائی کو باقی رکھنے پر قادر نہیں ہے؟

۲۔ بقائے جوانی کے امکان کا مسئلہ طولانی عمر کے امکان کے ضمن میں حل ہوچکا ہے اور سائنسی تجربات سے اس کی تصدیق وتائید ہوتی ہے، تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور بہت سے محققین ضعیفی، کمزوری کے خاتمہ اورجوانی کے بقاء بلکہ واپسی اور بڑھاپے کی تاخیر کو ممکن قرار دیتے ہیں بلکہ اسے اب عملاً مسلّم جانتے ہیں۔

ضعیفی سے مقابلہ اور نشاط ونوجوانی کی واپسی اگرچہ عہد قدیم سے ہی توجہ کا مرکز رہی ہے اور تاریخ خصوصاً مذہبی تاریخ میں جن معمر حضرات کا تذکرہ ملتا ہے ان میں بہت سے جوانی کی نعمت سے مالا مال تھے لیکن جدید علوم کے اعتبار سے اس سلسلہ میں تحقیقات کا سلسلہ اٹھارویں اور انیسویں صدی سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

سب سے پہلے ”براؤن اکار“ نامی دانش مند نے ۱۸۶۹ءء میں ضعیفی کے عالم میں جوانی حاصل کرنے کی کوشش کی اس کے بعد دیگر محققین ”ورونوف“ نے ۱۹۱۸ءء میں براؤن کے تجربات کی روشنی میں مزید تحقیقات کیں، تجربہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ”اشیناش“ کے تجربات ہیں جس نے بعض جانوروں کے تناسلی نظام میں آپریشن کے ذریعہ جوانی واپس لانے کا کارنامہ انجام دیا لیکن ایسے تجربات میں آپریشن سے ہارمون میں نقص وغیرہ جیسے خطرات کا فی پائے جاتے تھے۔(۱)

بعض محققین نے ضعیفی کے اصل اسباب کے لئے راہ علاج تلاش کرنا شروع کردیا کہ ان کے خیال میں بڑھاپے کا اصل سبب سیلز کا کمزور یا پرانا ہوجانا تھا۔

عمر کو طولانی بنانے اور جانوروں پر تجربات کے ذریعہ جوانی کی واپسی کی کوشش کرنے والوں میں ایک مشہور ومعروف ”ڈاکٹر فوردنوف“ کا کہنا ہے: کہ اب تک چھ سو کامیاب تجربہ کرچکا ہوں اوروہ بڑے اعتماد کے ساتھ بھروسہ دلاتے ہیں کہ مستقبل قریب میں معمر افراد کی ازکاررفتہ قوتوں کی تجدید اور ان سے بڑھاپے کے گرد وغبار کا زائل کرنا اور جھکی ہوئی کمر کو دوبارہ سیدھا کرنا ممکن



(۱)اطلاعات، شمارہ ۸۹۳۰۔

ہوگا اور اس طرح بڑھاپے میں تاخیر اور آخر عمر تک قلب ودماغ کی صحت کے ساتھ عمر کو طویل بنانا بلکہ انسان کے عادات واطوار اور شخصیت میں بھی تبدیلی ممکن ہوگی ۔(۱)

آج میڈیکل سائنس کے محققین کے ذریعہ ضعیفی کا سبب تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری دنیا کی آبادی کے اعداد وشمار اور عمر میں فرق سے متعلق اعداد وشمار کی مناسبت سے ”الثورہ“ اخبار نے مشہور ومعروف ڈاکٹروں کی آراء پر مشتمل ایک مقالہ شائع کیا ہے اس مقالہ کا بیشتر حصہ ضعیفی کے اسباب اور اصل سبب کی شناخت سے متعلق بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں کی جانے والی تحقیقات سے تعلق رکھتا ہے۔

مذکورہ مقالہ میں زور دے کر یہ بات کہی گئی ہے کہ بڑھاپے کا عمر کی زیادتی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ کثرت سن کے بجائے جب انسان اپنے کو بے کار اور بے اہمیت سمجھنے لگتا ہے تو اس پر بڑھاپا طاری ہوجاتا ہے، میڈیکل سائنس کے لحاظ سے بڑھاپے کا مطلب یہ ہے کہ جسم کے حیاتی خلیے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرپار ہے ہیں یعنی بقدر ضرورت زندہ سیل بنانے کی صلاحیت ان میں ختم ہوگئی ہے اور اس احساس یا صورت حال کا تعلق سن کی زیادتی سے نہیں ہے بلکہ کبھی بعض عوارض کے باعث انسان کو چالیس سال کی عمر میں ہی یہ احساس ہونے لگتا ہے اور بسااوقات سو سال کی عمر میں بھی اس کے آثار نہیں دکھائی دیتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بنا پر جسم کے ایک حصہ میں ضعیفی کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں جب کہ دیگر اعضاء میں جوانی اور نشاط کی وہی کیفیت پائی جاتی ہے۔

اس مقالہ کے مطابق جدید میڈیکل سائنس کی نگاہ میں ضعیفی کے تین اسباب ہیں:

۱۔ پرانی اور مزمن (Chronie)بیماریاں : جیسے معدہ کی بیماریاں یا غذا کی قلت کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں وغیرہ۔



(۱)مجلہ کل شئی، تفسیر طنطاوی، ج۱۷ص۲۲۴۔

۲۔ نفسیاتی اور اعصابی حالات: یہ حالات بھی ضعیفی کا باعث یا نشاط کے خاتمہ اور حیاتی سیلز کی قلت کا سبب ہوتے ہیں۔

۳۔ بیرونی عوامل: جیسے ماحول، آب و ہوا، سردی ،گرمی یا رطوبت (۱)ضعیفی کا علاج تلاش کرنے والوں میں ایک تاریخی نام ”بوکومالتھس“ کا بھی ہے، مالتھس کا عقیدہ تھا کہ انجکشن کے ذریعہ بدن کی ساخت میںپہلی جیسی نرمی واپس لائی جاسکتی ہے ،مالتھس گھوڑے کو مخصوص انجکشن لگاکرا س گھوڑے سے ایسے انجکشن تیار کرتا تھا جنہیں وہ عرصہٴ دراز تک مغربی ممالک میں اعلیٰ قیمتوں پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتا تھا۔

مغربی ممالک میں بھی مالتھس کے نقش قدم پر چلنے والوں میں ”ڈاکٹر پنھانس“ کا شمار ہوتا ہے جو سوئڈ لینڈ کا باشندہ تھا۔

ڈاکٹر پنھانس کا طریقہ یہ تھا کہ ازکار رفتہ نسوں کے اندر کسی دوسرے حیوان یا انسان کی جوان نس لے کر منتقل کردیا کرتا تھا لیکن اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ ایک بدن سے نس نکالنے اور دوسرے جسم میں منتقل کرنے کے درمیان ساٹھ منٹ سے زیادہ کا وقفہ نہ ہو۔

ڈاکٹر پنھانس کہتے ہیں کہ اب تک بیس ہزار ایسے تجربات کرچکا ہوں اور کسی میں بھی ناکامی نہیں ہوئی۔

کچھ عرصہ قبل رومانیہ کے ڈاکٹر ”اصلان“ نے ضعیفی سے مقابلہ کے لئے ایک نیا مادہ بنام H-3پیش کیا ہے جو اس وقت تقریباً پوری دنیا میں استعمال ہورہا ہے اسے استعمال کرنے والوں میں مشہور ڈاکٹر” شرمن“ کہتے ہیں کہ اس مادہ سے جلد ملائم ہوجاتی ہے اور بدن کی تکان بھی دور ہوتی ہے یہ حافظہ کو قوی کرتا ہے اور اس سے نیند بھی خوب اچھی طرح آتی ہے۔

ڈاکٹر شرمن کہتے ہیں کہ اس دوا سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان میں۴۰ فیصدمیں مکمل کامیابی



(۱)روزنامہ الثورة مطبوعہ بغداد شمارہ ۹۴ سال اول۔

۳۵ فیصدمیں مناسب کامیابی اور۲۵فیصد موارد میں ناکامی ہوئی(۱)

فرانس کے مشہور ومعروف ماہر حیاتیات ”بلوفر“ شہد کی مکھیوں سے متعلق اپنی مشہور تحقیقات کے دوران حیرت انگیز مسئلہ سے دو چار ہوئے اور آخرکار اسے حل کرنے کے لئے انھوں نے انتھک کوشش کی اور وہ ”رانی مکھی“ کی بھرپور جوانی اور نشاط کے ساتھ اس کی طویل زندگی“ کا مسئلہ تھا۔

اپنی تحقیقات کے دوران انھوں نے پایا کہ رانی مکھی زندگی بھر وہ مخصوص غذا استعمال کرتی ہے کہ جو دوسری کام کرنے والی مکھیاں تیار کرتی ہیں جب کہ عام مکھیاں زندگی کے صرف ابتدائی تین ایام میں ہی اس پراسرار دستر خوان سے غذا استعمال کرتی ہیں، آخر یہ حیرت انگیز غذا کیا ہے؟ کیا واقعا اسی پر اسرار غذا میں رانی مکھی کی جوانی، رعنائی اور طویل عمر کا راز پوشیدہ ہے کہ رانی مکھی عام مکھیوں کی بہ نسبت چار سو گنا زیادہ زندہ رہتی ہے؟

فرانس کے اس محقق نے ۱۹۳۸ءء میں شب وروز اسی مشکل مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مسلسل تگ ودو کی اور آخرکار بڑی گراں قدر کامیابیاں حاصل کیں۔

اس دسترخوان ”شاہانہ شہد“(Royal Jelly) کی ترکیبات واقعا اسرار آمیز ہیں اور اس کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہوسکا ہے کہ اس میں کاربن، ہائڈروجن، نائٹروجن Azote-، آرگیسٹرول، وٹامن بی اور بالخصوص ایسڈ بانتو نشیک کافی مقدار میں پایا جاتاہے۔

بلوفر نے اپنی ۱۴/سالہ تحقیقات کے ذریعہ ثابت کیا کہ شہد کی مکھیوں کی جنین کی تبدیلی وتکامل اور رانی مکھی کی جوانی سے بھرپور طویل عمر میں ”شاہانہ شہد“ (Royal Jelly) حیرت انگیز حد تک موثر ہے اسی طرح اس نے اس مادہ سے ایک دوا تیار کی جو ”ا ے پی سرم“ کے نام سے مشہور ہوئی، یہ دوا اس نے جب بوڑھے افراد کے لئے تجویز کی تو اس سے حیرت انگیز نتائج حاصل ہوئے،بلوفر نے اپنے تجربات کی بنیا دپر یہ اعلان کیا کہ شاہانہ شہد کے ذریعہ انسان کی ضعیفی کو مکمل طور پرروکاتو نہیں



(۱)اطلاعات شمارہ،۵۔۱۱۸۰۔

جاسکتا لیکن دوران جوانی کومزید طویل بنایا جاسکتا ہے ایسی جوانی کہ جس میں قوت وتندرستی بھرپور طورپر موجود ہو، درحقیقت ”اے پی سرم“ کوئی دوا نہیں تھی مگر ایک معجز نما اور حیات بخش نعمت تھی۔(۱)

روزنامہ اطلاعات میں فرانسیسی نیوز ایجنسی سروسز کے حوالہ سے ایک مقالہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ”انسان عمر کے آخری مرحلہ تک مکمل جوان اور شاداب رہے گا“ اس مقالہ میں مذکور ہے کہ ”کیوبک میں منعقدہ اطباء کی آخری بین الاقوامی کانفرنس کے تبادلہ ٴ خیال کے نتیجہ میں ْْْْ اس سوال کا کہ ”کیا موت کی منزل تک ضعیفی کا علاج،اور شباب وشادابی کی بقا ممکن ہے؟“ اب مثبت جواب دیا جاسکتا ہے، اسی مقالہ میں امریکی محقق اور بروکلین ریسرچ سنٹر سے وابستہ ”ڈاکٹر ھاورڈ کورئیس“ کے حوالہ سے یہ بات بھی کہی گئی کہ ضعیفی اور بدن کے Cellsکا فرسودہ وبے کار ہونا درحقیقت D.N.A.نامی سیل کی خرابی کے باعث ہوتا ہے جس کی وجہ سے سیلز بننے کی مقدار کم ہوجاتی ہے او ربعض ادویات کے ذریعہ اس کا علاج ممکن ہے اس طرح دواؤں کے ذریعہ ضعیفی کو روکنا ممکن ہے۔

مقالہ میں مزید یہ لکھا ہے کہ اس وقت دنیا میں ضعیفی روکنے کے لئے جن تحقیقاتی اداروں اور ریسرچ سنٹروں میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے ان میں بخارسٹ، پیرس اور بالٹیمور کے ریسرچ کرنے والے مراکز زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، بالٹیمور میں اس وقت ۱۸/سال سے لے کر ۹۹ / سال کے چھ سو افراد پر تجربات جاری ہیں۔

روزنامہ مقالہ کے آخر میں لکھتا ہے کہ اس وقت ڈاکٹروں کی کوشش یہ ہے کہ ادویات کے ذریعہ D.N.Aکی خرابی کو روکا جاسکے اور اس سلسلہ میں خاطرخواہ کامیابی ملی ہے لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ بہت جلد ضعیفی نامی بیماری کا خاتمہ ہوجائے گا۔(۲)



(۱)روزنامہ اطلاعات، شمارہ۸۹۳۰۔

(۲)اطلاعات، شمارہ ۱۲۶۷۲۔

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.