طولانی عمر

طولانی عمر

 ہمیشہ سے جن چیزوں کی متلاشی ہے ان میں سے ایک مسئلہ طویل عمر کا بھی ہے،صحت وتندرستی کے ساتھ طویل عمر ایسی بیش بہا نعمت ہے جس کی کوئی قیمت معین نہیں کی جاسکتی۔

انسانی وجود میں حب ذات، حبّ بقا ودوام اور فطری خواہشات ہمیشہ سے انسان کو طویل عمر کا عاشق وشیدا بنائے ہوئے ہیں اور یہی چیزیں انسان کو اس راہ میں سعی پیہم اور جہد مسلسل پر آمادہ کرتی ہیں کہ بہت کم مدت کے لئے ہی سہی مگر سلسلہٴ عمر کچھ اور دراز ہوجائے۔

اس موضوع سے متعلق مطالعہ وجستجو سے یہ بات تو صاف طور پر عیاں ہوتی ہے کہ ”بہت طویل عمر کا امکان“ تو ہمیشہ سے مسلم رہا ہے اورآج تک کسی نے بھی طول عمر کے ممکن نہ ہونے یا محال ہونے کاد عویٰ نہیں کیا ہے۔

ہم پہلے عصری علوم جیسے علم طب، زولوجی اور دیگر مخلوقات کے بارے میں موجودہ معلومات کی روشنی میں انسان کی صورت حال کا موازنہ کریں گے اس کے بعد آسمانی مذاہب میں تلاش کریں گے کہ آسمانی مذاہب کی روسے طو ل عمر کا نظریہ ممکن اور قابل قبول ہے یانہیں؟



طول عمر سائنٹفک نقطہٴ نظر سے

آج سائنسی نقطہٴ نظر طول عمر کی مکمل تائید کرتا ہے اور سائنس کے اعتبار سے طول عمر کے لئے کی جانے والی انسانی کوششیں نتیجہ خیز ہیں اوراس میں کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں ان کوششوں کو جاری رہنا چاہئے اورسائنس کے لحاظ سے طول عمر کی کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی۔

سائنس کے مطابق آج شرح اموات میں کمی اورعمر کو طولانی کرنے کی بات تھیوری کے مرحلہ سے نکل کر عملی منزل میں داخل ہوچکی ہے اور بہت تیزی کے ساتھ ترقی کے مراحل طے کررہی ہے اور ایک صدی سے کچھ زیادہ عرصہ میںعمرکا اوسط ۴۷ سے بڑھ کر ۷۴ ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر الکسیس کارل نے ۱۹۱۲ءء میں ایک مرغ کو تیس سال تک زندہ رکھا جب کہ مرغ کی زندگی دس سال سے زیادہ نہیں ہوتی ہے (۱)



آٹھ سو سال زندگی

ڈاکٹر ہنری حیس کہتا ہے کہ عمومی شرح اموات کو دس سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات کے برابر پہنچانا چاہئے اور جس دن ایسا کرنا عملاً میسر ہوجائے گا مستقبل کا انسان آٹھ سو سال زندگی بسر کرے گا(۲)

دنیاکے دانشور حضرات انسان کی طبیعی عمر کے لئے آج تک کوئی حتمی سرحد معین نہیں کرسکے ہیں اور ان دانشوروں نے اپنے اپنے لحاظ سے الگ الگ حد معین کی ہے ”پاولوف“کا خیال ہے کہ انسان کی طبیعی عمر ۱۰۰ سال ہے جبکہ ”مچنیکوف“ کے خیال میں اوسط عمر ۱۵۰ سے ۱۶۰ سال کے درمیان ہونا چاہئے۔

جرمنی کے مشہور ومعروف ڈاکٹر ”گوفلاند“ کا نظریہ ہے کہ عموما ًانسان کی اوسط عمر ۲۰۰سال ہے۔

انیسویں صدی کے معروف فزیشین ”فلوگر“ کے مطابق طبیعی عمر ۶۰۰ سال اور انگلینڈ کے

”روجر بیکن“ نے ۱۰۰۰ سال بیان کی ہے(۳)



(۱/۲)روزنامہ اطلاعات شمارہ ۱۱۸۰۵۔

(۳) مجلہ دانشمند شمارہ ۶۱۔

لیکن ان میں سے کسی نے بھی ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کی ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ اس کی بیان کردہ عمر حرف آخر ہے اوراس سے زیادہ عمر کا امکان ہی نہیں ہے۔

روس کے معروف ماہر طب اور فزیالوجسٹ ”ایلیا مچنیکوف“ کا نظریہ ہے کہ ”انسان کے بدن کے خلیوں (Cells) کی تعداد تقریباً ۶۰ کھرب (ٹرملین) ہے جو آنتوں خصوصاً بڑی آنت کے بیکٹریا سے مترشح ہونے والے مادہ کی وجہ سے مسموم ہوتے رہتے ہیں، آنتوں سے روزانہ تقریباً ۱۳۰کھرب بیکٹریا پیدا ہوتے ہیں، بہت سے بیکٹریا بدن کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتے لیکن بعض بیکٹیریا زہریلے اور نقصان دہ ہوتے ہیں، ایسے بیکٹیریا بدن کو اندر سے اپنے زہر کے ذریعہ مسموم کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں انسانی بدن کو صحیح وسالم رکھنے والے اجزاء اور خلیے قبل از وقت ضعیفی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ضعیف ہونے کے بعد حیات کی ضرورتوں کو پورا کرنا ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے اور یہ خلیے مردہ ہوجاتے ہیں(۱) کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ”اسمیس“ کا کہنا ہے کہ ”سن اور عمر کی حد بھی صوتی دیوار کی طرح ہے اور جس طرح آج صوتی دیوار ٹوٹی ہے اسی طرح ایک نہ ایک دن عمر کو محدود کرنے والی دیوار بھی ٹوٹ جائے گی۔“ (۲)

سترہزار سال عمر

پانی کے بعض چھوٹے جانوروں پر کی گئی تحقیقات کے نتیجہ میں سائنس داں کافی حد تک پر امید ہیں، دوران زندگی میں تبدیلی کا امکان بہر حال ہے، اسی طرح محققین نے پھلوں پر پائی جانے والی مکھیوں پر جو تجربات کئے ہیں اس کے نتیجہ میں ان کی طبیعی عمر میں ۹۰۰ گنا کا اضافہ ہوگیا ہے،(۳) اسی طرح اگر ایسا تجربہ انسان پر بھی کیا جائے اور وہ تجربہ کامیاب رہے اور انسان کی طبیعی عمر۸۰ سال



(۱) مجلہ دانشمند شمارہ ۶۱۔ (۲)اطلاعات ۱۱۸۰۵۔ جیٹ اور سپر سونیک طیاروں سے پہلے یہ تصور عام تھا کہ آواز کی رفتار سے تیز سفر کرنا ممکن نہیں ہے گویا آواز کی رفتار سرعت کی راہ میں حائل ہے لیکن سوپر سونیک طیاروں کے وجود میں آنے سے یہ حائل ختم ہوگیا۔ (مترجم)

(۳) الہلال، شمارہ ۵ ص۶۰۷، منتخب الاثر، ص۲۷۸۔

فرض کی جائے تواس بات کا امکان ہے کہ انسان کی عمر ۷۲ ہزار سال ہوجائے۔

اسی طرح حیوانات پر دوسرے تجربات بھی کئے جارہے ہیں جس کے نتائج انسان کے لئے امید افزا ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ مستقبل میں طول عمر اور جوانی کی واپسی ،ہر ایک کے اختیار میں ہوگی۔

بہت سے محققین کے نزدیک اصل مساٴلہ، جوانی کے برقرار رہنے یااس کی واپسی کا ہے نہ کہ طول عمر کاان کے خیال میں طول عمر اور مخصوص حالات وشرائط میں زندگی کی بقا تومسلّم ہے گویا یہ معمہ تو حل شدہ ہے بس ضعیفی کے لئے کوئی راہ حل تلاش کرنا چاہئے۔

کوئی ایسا انجکشن تلاش کرنا چاہئے جو ضعیفی کو روک دے اس لئے کہ اگر عمر طولانی ہوجائے مگر اس کے ساتھ بڑھاپے کی زحمتیں ہوں توایسی عمر لذت بخش نہ ہوگی۔

میڈیکل سائنس کے بعض ماہرین نے اس سے بڑھ کر مبالغہ سے کام لیا ہے اور کہتے ہیں کہ ”موت دنیا کے حتمی اصولوں میں سے نہیں ہے“(۱) ان کے خیال میں موت نہ طول عمر کا نتیجہ ہے اور نہ بڑھاپے کا بلکہ بیماری اور حفظان صحت اور مزاج کی سلامتی کے اصولوں کی رعایت نہ کرنے کا نتیجہ ہے اگر انسان ان عوامل پر غلبہ حاصل کرلے جو مزاج کو متاثر کرتے ہیں تو موت کا اختیار انسان کے ہاتھ میں ہوگا۔

ان عوامل سے مراد ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی کے مزاج کی صحت، انھیں تولید مثل اور حفظان صحت کے طبی اصولوں کا علم، آداب نکاح، دوران حمل ماں کے مزاج کا اعتدال، حمل اور رضاعت کے دوران حفظان صحت کے اصولوں کی رعایت، حسن تربیت، مناسب آب و ہوا، آرام دہ مشاغل، معاشرت اور لباس وغیرہ میں اعتدال، نیک باایمان، پاک باز، پاک طینت، خرافات اور باطل عقائد سے منزہ افراد کی صحبت، صحیح اور مناسب غذا، نشہ آور چیزوں سے پرہیزوغیرہ ہیں اور چوں کہ



(۱)البتہ قرآن مجید کی صریحی آیات کے مطابق ہر جاندار کے لئے موت ایک حتمی مرحلہ ہے اوران سائنس دانوں کا یہ نظریہ مبالغہ آمیز ہے۔

ان میں سے اکثر انسان کے اختیار میں نہیں ہیں اس لئے انسان مغلوب ہوکر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے، بیمہ کمپنیوں کی جانب سے اموات کے بارے میں اعداد وشمار شائع ہوتے ہیں ان کے مطابق مختلف مشغلوں،ماحول اورسکونت سے تعلق رکھنے والے افراد کی موت کی شرح مختلف ہوتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسط عمر کا تعلق بیرونی عوامل سے ہے اور جس حد تک یہ عوامل کم ہوتے جائیں گے عمر طولانی ہوتی جائے گی، بارہا ایسے افراد دیکھنے کو ملتے ہیں جن کی عمر ۱۵۰، ۱۶۰، ۱۷۰، یا دو سو سال سے بھی زیادہ ہے ، ہمارے دور میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جن کی عمر ۱۵۰سال سے زیادہ ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ موت کے عوامل ان کے قریب نہ آسکے۔

خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ طویل عمر کا امکان علم وسائنس کے نقطہٴ نظر سے سوفیصدی قابل قبول اور ناقابل تردید ہے۔

اکثر وبیشتر ہم زیادہ طولانی عمر پر اظہار تعجب کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مختصر عمر سے مانوس اور اسی کے عادی ہیں اس سلسلہ میں انگلینڈ کے ایک ڈاکٹر کی رائے پر غور فرمائیں، یہ ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر پنامانہر کے علاقہ کو جہاں بہت بیماریاں پائی جاتی ہیں دنیا کے دوسرے حصوں سے جدا کردیا جائے اور ہم پنامانہرکے علاقہ میں زندگی بسر کریں اور ہمیں دنیا کے دوسرے حصوں کی شرح موت وحیات کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ہو تو اس علاقہ میں اموات کی کثرت اور عمر کی قلت کو دیکھ کر ہم یہی فیصلہ کریں گے کہ طبیعی طور پر ہر انسان کی عمر اتنی ہی ہے اوراس میں کوئی تبدیلی علم وسائنس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے جس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ چوں کہ بعض بیماریا ں ابھی لاعلاج ہیں لہٰذا شرح اموات میں کمی اورعمر کو طولانی بنانا مشکل نظر آتا ہے اگر کوئی مجھ سے اس بارے میں بحث کرے اور کہے کہ شرح اموات یہی ہے اور عمر کا اوسط بہرحال معین ہے تو اس سے سوال کروں گا کہ کون سی اوسط عمر معین ہے؟ ہندوستان کی اوسط عمر یا نیوزی لینڈ یا امریکہ یا پناما نہر کی؟

وہ کون سے پیشے یا مشاغل ہیں جن کی اوسط عمر مقرر ہے؟

کیا آپ علم افلاک اور علم نجوم کے پیشہ کی عمر کو مقررہ حد مانتے ہیں جس کی شرح اموات اوسط سے ۱۵ سے ۲۰فیصدی کم ہے؟

یا وکالت کے پیشہ کو جس کی شرح اموات حد متوسط سے ۵ سے ۱۵فیصد ی زیادہ ہے؟نالوں وغیرہ کی صفائی کا پیشہ جس کی شرح اموات اوسطاً ۴۰ سے ۶۰ فیصد زیادہ ہے؟ پیشہ ومشغلہ کی لحاظ سے اوسط عمر کے درمیان اختلاف کی یہ چند مثالیں تھیں ان کے علاوہ بھی ہمارے پاس اور بہت سی دلیلیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مصنوعی وسائل کے ذریعہ دوران حیات میں تبدیلی ممکن ہے کیوں کہ اب تک بعض جانوروں پر جو تجربات کئے گئے ہیں وہ سب کامیاب رہے ہیں(۱)



طول عمر اور دین

تمام ادیان میں متفق علیہ طور پر کچھ لوگوں کی بہت طویل عمر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے:

تحریف شدہ موجودہ توریت جس پر یہودونصاریٰ ایمان رکھتے ہیں سفر تکوین اصحاح ۵ آیت ۵، ۸، ۱۱، ۱۴، ۱۷، ۲۰، ۲۷، ۳۱، اصحاح ۹ آیت ۲۹، اصحاح، ۱۱ آیت ۱۰ تا ۱۷۔ اور دیگر مقامات پر صراحت کے ساتھ متعدد انبیائے کرام اور دیگر افراد کے اسماء کا تذکرہ ہے جن کی عمریں چار سو، چھ سو، سات سو، آٹھ سو یا نو سو سال تھیں۔ (۲)

اس کے علاوہ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ”ایلیا“ کو زندہ ہی آسمان پر اُٹھا لیا گیا ہے تاکہ انھیں موت کی اذیت برداشت نہ کرنا پڑے، ایک یہودی مفسر ”آدم کلارک“کہتا ہے کہ : ”اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایلیا کو زندہ ہی آسمان پر اُٹھا لیاگیا۔(۳)



(۱)الہلال، شمارہ ۵ طبع ۱۹۳۰،منتخب الاثر ۲۷۷و۲۷۸۔

(۲) عبرانی، کلدانی اور یونانی زبان سے عربی میں ترجمہ شدہ توریت مطبوعہ بیروت ، ۱۸۷۰ءء کی طرف رجوع فرمائیں۔

(۳) اظہار حق، ج۲ص۱۲۴۔



دین مبین اسلام

دین اسلام کی رو سے طولانی عمر کا مسئلہ قطعی طور پر متفق علیہ ہے، قرآن کریم سورہٴ عنکبوت آیت ۱۴ میں حضرت نوح کی طولانی عمر کے بارے میں صراحت کے ساتھ اعلان کرتا ہے:

”فلبث فیہم اٴلف سنة الا خمسین عاماً“

اس آیت کریمہ کے مطابق حضرت نوح علی نبینا وآلہ وعلیہ السلام اپنی قوم کے درمیان طوفان سے قبل نو سو پچاس سال تبلیغ کرتے رہے، تبلیغ سے قبل اورتبلیغکے بعد آپ کتنی مدت تک زندہ رہے اسے خدا ہی جانتا ہے۔

تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ جناب عیسیٰ بلکہ جناب خضر، جناب الیاس اورادریس اب بھی زندہ ہیں، اور حضرت عیسیٰ آخری زمانہ میں زمین پر تشریف لائیں گے اور حضرت مہدی (عج) کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔

تاریخی لحاظ سے بھی طویل عمر کامسئلہ مسلّم ہے جو تاریخ ہماری دست رس میں ہے اس کے مطابق بے شمار افراد نے طویل عمر پائی ہے۔

طویل عمر بسر کرنے والوں کے بارے میں کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن میں ابوحاتم سجستانی (متوفی ۳۵۰) کی کتاب ”المعمّرون“ بہت مشہور ومعروف ہے،افراد کے حالات زندگی اور علم رجال کے لئے یہ کتاب ماخذ ومنبع کی حیثیت رکھتی ہے کچھ عرصہ قبل جدید فہرست اور نفیس اسلوب کے ساتھ شائع ہوئی ہے اس کتاب میں تاریخی حوالوں کے ساتھ طول عمر کے مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

ئئئئئ



نتیجہ



گذشتہ باتوں کی روشنی میں جس چیز کو بھی معیار قرار دیا جائے طویل عمر بہرحال ممکن ہے چاہے عہد قدیم کی تاریخ ملاحظہ کی جائے یا علم قدیم اور فلسفہٴ یونان کو معتبر تسلیم کیا جائے یا جدید علوم پر اعتماد کیا جائے یا انبیاء ومرسلین کی خبروں کو بنیاد بنایا جائے یہ تمام چیزیں طویل عمر کے نہ صرف امکان بلکہ اس کے وقوع کو بھی ثابت کرتی ہیں اور ان تمام منابع کے مطابق طولانی عمر کوئی خارق العادات یا معجزاتی چیز نہیں ہے بلکہ عالم طبیعت کے تمام قوانین میں شامل ہے۔

البتہ اتنا ضرور ہے کہ چونکہ طولانی عمر کے افراد بہت کم ہوتے ہیں لہٰذا ہمارا ذہن اتنی طویل عمر سے ذرا نامانوس ہوتا ہے اور ہمیں عجیب سا محسوس ہوتا ہے جب کہ علم وسائنس کے مطابق مختصر اور کم عمر، خلقت اور عالم طبیعت پر حکمراں قوانین کے خلاف ہے اور اگر سابق الذکررکاوٹیں دورہوجاتیں تو مختصر عمر بھی غیر عادی شمار کی جاتی۔



حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طویل عمر

آپ کی عمر مبارک اگر مزید ہزار برس یا اس سے بھی زیادہ طولانی ہو تو اس میں بھی کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے کہ طویل عمر کا امکان اور وقوع دونوں مسلم الثبوت ہیں، چاہے ہم طبیعی طو رپر طولانی عمر کو ممکن تسلیم کریں (جیسا کہ یہی صحیح نظریہ ہے) اور چاہے اس امکان کو تسلیم نہ کرتے ہوئے طویل عمر کو خلاف عادت اور معجزہ تسلیم کریں، بہر صورت اگر ہم خدا اور اس کی قدرت پر ایمان ر کھتے ہیں اور انبیاء کی صداقت کا کلمہ پڑھتے ہیں تو حضرت ولی عصر کی طولانی عمر کے بارے میں ذرہ برابر تردد نہیں ہونا چاہئے۔

حضرت کی عمر مبارک کے بارے میں سینکڑوں روایات پائی جاتی ہیں اور مشیت الٰہی بھی یہی ہے، جو شخص بھی خدا کو قادر مطلق مانتا ہے وہ اس مسئلہ کا بھی معتقد ہوگا اور جو العیاذ باللہ خدا کو عاجز مانتا ہوگا اور عاجزی کو نقص وعیب اور خدا کے صفات سلبیہ میں شمار نہیں کرتا وہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ عجز نقص ہے اور ناقص محتاج ہوتا ہے اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا۔

اس طویل عمر کے دوران صاحبان ایمان وتقویٰ اور صالحین نے بارہا آپ کی زیارت وملاقات کا شرف حاصل کیا ہے اور پاکیزہ قلب ونظر کے مالک افراد کی آنکھیں آپ کے جمال پر نور کی زیارت سے منور ہوئی ہےں۔

آپ کی حیات مبارک کے بارے میں طویل عمر کے ممکن ہونے یا نہ ہونے کی بحث بے محل ہے اور ہمارے خیال سے آپ کی طول عمر کے مسئلہ میں اس سوال کو بلاوجہ داخل کردیا گیا ہے۔

جو لوگ طول عمر کو عقلی طور پر محال جانتے ہیں اور قائل ہیں کہ عقلا طویل عمر ناممکن ہے یا طبیعی طورپر محال ہے انھیں دلیل پیش کرنا چاہئے نہ کہ ہمیں اس کے باوجود ہم نے ثابت کیا کہ بہت طویل عمر نہ تو عقلی طور پر محال ہے اور نہ ہی ذاتی طور پر محال ہے اور نہ ہی اس کے واقع ہونے سے کوئی محال لازم آتا ہے یعنی فلسفیانہ اصطلاح کے مطابق طول عمر نہ محال عقلی ہے نہ محال ذاتی اور نہ محال وقوعی

ہم پھر یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے مختلف دانشوروں اور مفکروں کے نظریات اور مغربی سائنسدانوں کی تحقیقات و تجربات کے جو نتائج پیش کئے ہیں ان کا مقصد سطحی ذہن رکھنے والے کم علم افراد کو مطمئن کرنا ہے کہ ان باتوں سے انھیں بھی یہ اطمینان حاصل ہوجائے کہ طبیعی طور پر طویل عمر کا امکان، مشرق ومغرب کے تمام دانشوروں اور سائنسدانوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔

لیکن جہاں تک امام زمانہ ارواحنا فداہ کی طولانی عمر کا مسئلہ ہے ہم ان چیزوں کے بجائے قدرت خدا اور ارادہٴ الٰہی کو دلیل مانتے ہیں کہ اگر بالفرض طبیعی طور پر طویل عمر ممکن نہ ہو یا خارق العادة ثابت ہو تب بھی آپ کی طویل عمر پر کوئی اعتراض اور شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے کہ نبوت ِا نبیاء کی تصدیق خارق العادہ امور اور معجزات کو تسلیم کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔

تمام انبیاء کے معجزات خارق العادہ امور ہیں جو حضرات بلا چوں وچرا انبیاء کے معجزات کو تسلیم کرتے ہیں انھیں آپ کی طویل عمر پر کیوں تعجب ہوتا ہے؟ آخر زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کرنے، عصا کے اژدہے میں تبدیل ہونے، پہاڑ سے اونٹ کے برآمد ہونے، آسمان سے مائدہ نازل ہونے، گہوارہ میں بچے کے گفتگو کرنے، بغیر باپ کے عیسیٰ کی پیدائش اور طویل عمر میں کیافرق ہے؟ علم وسائنس طویل عمر کے امکان کی تائید کرتی ہے لیکن یہی سائنس بہت سے معجزات کو ناممکن قرار دے کر ان کی تکذیب کرتی ہے تو آخر کیسے ممکن ہے کہ ہم تمام معجزات کو تسلیم کرلیں مگر طویل عمر کا انکار کردیں۔

ہم قائل ہیں کہ چاہے جس چیز کو بنیاد قرار دیاجائے حضرت قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طولانی عمر پر تعجب یا اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور تمام عقلا مل کر بھی حضرت کی طولانی عمر پرا عتراض کے سلسلہ میں کوئی معقول اور قابل قبول دلیل پیش نہیں کرسکتے۔

خدا نے فرمایا ہے، پیغمبر اکرم نے خبر دی ہے، ائمہ معصومین نے بشارتیں دی ہیں کہ حجت عصر، ”امام حسن عسکری کا نور نظر جس کی ولادت باسعادت نیمہٴ شعبان ۲۵۵ھء کی نورانی صبح میں ہوچکی ہے اور جس کے نور جمال سے پوری کائنات منور ہے“ ایک ایسی طویل غیبت کے بعد جس میں لوگ حیرت وتردد میں مبتلا ہوجائیں گے بلکہ اکثر لوگ شک وتردد میں گرفتا ر ہوں گے، ظلم و جور، آلام ومصائب اور گونا گوں مشکلات سے بھری ہوئی دنیا کو اپنے ظہور کے ذریعہ عدل وانصاف سے بھرد ے گا اور پوری دنیا پر اس کی حکومت ہوگی اور ہر جگہ اسلام کے قانون کی بالادستی ہوگی اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں قرآنی تعلیمات کے مطابق عادلانہ نظام قائم ہوگا۔

جب یہ بشارتیں اور خبریں قطعی، مسلم الثبوت اور متواتر ہیں اور خداوندعالم بھی قادر مطلق ہے تو آخر شک وشبہ کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟ آپ کی طویل عمر اور غیبت کے اسباب کے بارے میں شکوک وشبہات شیطانی وسوسے ہیں ، ہم واضح کرچکے ہیں کہ چاہے جس معیار سے دیکھا جائے حضر ت صاحب الزمانعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طویل عمر کے بارے میں تعجب کا کوئی مقام نہیں ہے، علم وسائنس، عقل ونقل، قرآن وحدیث، دیگر آسمانی کتب اور قدیم وجدید دانش مندوں کے نظریات سب کے سب ہمارے عقیدہ کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔



انسان اور دیگر مخلوقات کی عمر اور استثنائی موارد

عالم خلقت میں مجردات ومادیات کے مختلف انواع وافراد کے درمیان کبھی کبھی ایسے استثنائی افراد(۱) نظر آتے ہیں کہ جو اپنے ہم جنس یا اپنے خاندان کے افراد سے بہت زیادہ مختلف

ہوتے ہیں چوں کہ ہم عموماً ایک ہی طرح کی چیزوں کو دیکھنے کے عا دی ہیں لہٰذا ان استثنا ئی چیزوں کا فر ق خاص طو ر سے جبکہ وہ بہت زیا دہ ہو ہمیں بہت حیرت انگیز لگتا ہے۔ چاہے یہ فرق اور فاصلہ طول یا عرض یا حجم ووزن کے لحاظ سے ہو یا معنوی خصوصیات کے اعتبار سے یا کسی اور جہت یا قانون کے تحت پہچان لیں یا اسکا سبب ہمیں معلوم نہ ہو، بہرحال اس طرح کے استثنائی افراد کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

آسمانوں، ستاروں اور کرہٴ افلاک سے لے کر ایٹم کے ذرہ تک جہاں دیکھئے استثنائی کیفیات نظر آتے ہیں یعنی ایسے موجودات دکھائی دیتے ہیں کہ جن میں اپنے ہم نوع افراد کی بہ نسبت کوئی استثنائی خصوصیت ہے جس کی بنا پر وہ توجہ کو اپنی طرف مبذول کرلیتے ہیں۔



(۱) یہاں استثنائی موارد سے مراد یہ نہیں ہے کہ ایسے استثنائی افراد کسی قاعدہ وقانون کے تحت نہیں آتے کہ جیسے عوام الناس بغیر کسی سبب یا مصلحت کے کسی بھی فرق وامتیاز کو استثناء کہہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ استثنائی افراد بھی اپنے مخصوص قوانین اور سنن الٰہیہ کے تحت ظاہر ہوتے ہیں اور انھیں استثنائی اس لحاظ سے کہاجاتا ہے کہ وہ شاذونادر ہی دکھائی دیتے ہیں اوران سے بہت کم سابقہ پڑتا ہے۔ ہمارے لحاظ سے کسی ستارہ کا طلوع یا فضا کی تبدیلی ایک استثنائی اور عدیم النظیر چیز ہوسکتی ہے لیکن جو افراد علم افلاک کے ماہر ہیں اور ستاروں او رکہکشاؤں کی حرکت پر نظر رکھتے ہیں ان کے لئے یہ کوئی عجوبی چیز نہیں ہے بلکہ ان کے خیال میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور دنیا کی لاکھوں سال عمر کے دوران بارہا ایسا ہوچکا ہے۔



کرات میں استثناء

آپ کبھی علم افلاک کے ماہرین علمائے علم ہیئت (Astronomy)کہ جو اربوں ستاروں، شمسی نظاموں، کہکشاؤں، ستاروں کے درمیان فاصلوں، ان کی مسافت وحجم اور قطر کے بارے میں وسیع معلومات کے مالک ہیں ان سے دریافت کیجئے کہ کواکب وسیارات، افلاک وکرات کے بارے میں آپ حضرات کوجن حتمی نظریات کا علم ہے کیا ان میں بھی کوئی استثناء نظر آتا ہے؟کیا کبھی آپ ایسی صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں جو آپ کے خزانہٴ علم میں موجودنظریات کے تحت نہیں آتی، ان حضرات سے ضرور دریافت کیجئے تاکہ آپ کو ”اثبات“ میں جواب ملے اور ایسے حضرات یہ اعتراف کرتے نظرآئیں کہ ہاں یہاں بھی استثنائی مواقع اور افراد پائے جاتے ہیں۔

خدواندعالم کی ان عظیم ترین مخلوقات کے درمیان حجم وقطر اور وزن کے لحاظ سے جو فرق پایا جاتا ہے کیا اس کی حد معین ہے؟ یقینی طور پر جواب ملے گا کہ کوئی حد معین نہیں ہے، مثلا ہماری زمین اور ”سدیم المراة المسلسلہ“ کے درمیان حجم وقطر اور وزن کا کتنا فرق ہے اس کا حساب خدا کے علاوہ کوئی نہیں لگا سکتا، اس فرق اور فاصلہ کو کسی حد تک سمجھنے کے لئے پہلے سورج اور ”سدیم المراة المسلسلہ“ کا فرق محسوس کرنے کی کوشش کیجئے، علماء ہیئت کے مطابق ”سدیم المراة المسلسلہ“کے حجم کے مقابل سورج کے حجم کی ایسی ہی ہیئت ہے کہ جیسے دریچہ کے ذریعہ کمرہ میں پہنچنے والی کرن کی ہوتی ہے، یعنی آفتاب کے مقابل جو حیثیت ذرہ کی ہوتی ہے،اپنی تمام تر عظمت کے باوجود وہی حیثیت ”سدیم المراة المسلسلہ“کے مقابل آفتاب کی ہے، اب ذرا زمین کا حساب لگائیے کہ زمین سدیم المراة المسلسلہ سے کتنی چھوٹی ہوگی کیوں کہ سورج زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے جب سورج کا قطر تیرہ لاکھ نوے ہزار کلومیٹر ہے تو سدیم المراة المسلسلہ کا قطر کیا ہوگا؟ اور اتنے عظیم قطر کے ساتھ بھلا اس کا زمین سے موازنہ ہوسکتا ہے؟

ہماری زمین اور سدیم المراة جیسے بلکہ اس سے بھی بڑے کروں (کرات) کے درمیان اختلاف کس بنیا د پر ہے؟ یا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم دو کروں کے درمیان اتنے زیادہ فرق کو تسلیم نہیں کرتے؟

آخر کیا وجہ ہے کہ اس نظام شمسی میں استثنائی طور پر صرف ہماری زمین یاشائد مریخ پر ہی زندگی پائی جاتی ہے؟ دیگر سیارات پر زندگی کا امکان نہیں ہے،شائد مفقود الحیات سیاروں کی تعداد لاکھوں کروڑوں سے بھی زیادہ ہو۔



ایٹم کی دنیا اور اختلاف عمر

کہا جاتا ہے کہ ایٹم کے مرکز سے کچھ میزن (Meson)جدا ہوتے ہیں انہیں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی عمر سکنڈ کا ہزارواں حصہ ہوتی ہے جب کہ کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی عمر سکنڈ کے دس کروڑ حصوں میں سے ایک حصہ ہوتی ہے یعنی بہت ہی زیادہ کم اور مختصر کل جب اہل دنیا ایٹم کی حقیقت سے بے خبرتھے اگران کے سامنے یہ فرق بیان کیا جاتا تو کیاوہ لوگ اسے قبول کرلیتے؟ ہرگز نہیں لیکن آج یہ فزکس کا مسلمہ ہے(۱)



علم نباتات کی دنیا میں اختلاف اور استثنائ

عالم نباتات میں بھی بے شمار عجیب وغریب استثناآت دکھائی دیتے ہیں، درختوں میں ایسے بہت سے درخت ہیں جو اپنی لمبائی، چوڑائی، سن یا قطر کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں مثلا لبنان کا ”ارز“ اور امریکا کے ”ام الاجمہ“ (جنگلات کی ماں) نامی درخت، ”ام الاجمہ“ (۲) امریکا کے سب سے بڑے درختوں میں شمار ہوتا ہے اس کی لمبائی ۳۰۰سے ۴۰۰فٹ کے قریب ہوتی ہے اور



(۱)رسالہ نور دانش،شمارہ۶،سال ۵۔

(۲)”ام الاجمہ“ اس درخت کا عربی نام ہے۔

زمین کے نزدیک اس کے تنے کا قطر تین سو فٹ اور اس کی چھال اٹھارہ انگل موٹی ہے۔

اسکاٹ لینڈ میں پائے جانے والے بعض درختوں کی عمر ایک اندازہ کے مطابق تین سو سال سے زیادہ ہے،ماحولیات کے ایک محقق نے ایک درخت کی عمر کا اندازہ تقریباً پانچ ہزار سال بیان کیا ہے جب کہ یہ درخت اپنی طرح کے درختوں میں سب سے چھوٹا ہے۔

کیلی فورنیا میں ”کاج“ (چیڑ)کا ایک درخت ہے جس کی لمبائی تین سو فٹ اور قطر تقریباً تیس فٹ ہے اس کی عمر چھ ہزار سال ہے۔

ان سب سے زیادہ تعجب خیز (بحر اوقیانوس) دریائے اٹلانٹک کے جزیرہ ”تنزیف“ میں واقع شہر ”اورتاوا“ کا ”عندم“ نامی درخت ہے،(۱) اس درخت کا قطر اتنا ہے کہ اگر دس افراد ہاتھ پھیلا کر انگلیوں سے انگلیاں ملاکر کھڑے ہوجائیں تب بھی اس کے تنے کا مکمل احاطہ نہیں کرسکتے ہیں، ”الآیات البینات“ کے مصنف فرماتے ہیں کہ مذکورہ جزیرہ کے انکشاف کو آج( ۱۸۸۲ءء میں) ۴۸۲ سال گزر چکے ہیں اور عندم کا یہ عظیم تناور درخت اس وقت بھی ایسا ہی تھا اور اس میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی، عندم کی قسم کے دوسرے چھوٹے درختوں کو دیکھ کر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نشوء نما کی رفتار بہت سست ہوتی ہے لہٰذا صرف خدا کو ہی معلوم ہے کہ یہ درخت کتنی صدیوں پرانا ہے۔

علم نباتات کا ایک ماہر اس درخت کی عمر کے بارے میں عاجزی کا اعلان کرتے ہوئے کہتاہے کہ : ”فکر بشری اس راز کو سمجھنے سے قاصر ہے اور اس درخت کی عمر کے بارے میں اندازہ بھی نہیں لگاسکتی میرے خیال میں اتنا طے شدہ اور مسلّم ہے کہ خلقت بشر کے پہلے سے اس درخت کی نشوء نما کا سلسلہ جاری تھا اور طویل عمر گزارنے کے بعد آج یہ درخت اس تن وتوش اور قدوقامت کا ہوا ہے۔“

”الآیات البینات“ کے مصنف فرماتے ہیں: ”اس سے زیادہ عجیب وغریب بات یہ ہے کہ



(۱)عندم کے درخت کو”دم الاخوین“اور”دم الثعبان“اور فارسی میں ”خون سیاوش“ یا ”خون شیاوشان“ بھی کہا جاتا ہے۔ بظاہر عربی میں صحیح تلفظ ”عُندُم“ ہے۔

علم نباتات کے ماہرین عندم کو درختوں میں شمار نہیں کرتے بلکہ اس کا شمار ایسے پودوں (گھاس پھوس) میں ہوتا ہے جن کی جڑ پیاز کی طرح ہوتی ہے جیسے کہ سنبل ونرگس کی جڑیں اب ذرا ان حقائق کے پیش نظر اس درخت کے خالق علیم وقدیر کی قدرت کا اندازہ لگائیے کہ ہر اگنے والی شئے کے اندر اس کے اسرار حکمت کا خزانہ پوشیدہ ہے(۱)

کیا آپ کو معلوم ہے کہ بعض درخت ”گوشت خور ہوتے ہیں، جو پرندوں، حیوانوں اور بسا اوقات انسان کو شکار کرلیتے ہیں؟

نباتات کی دنیا میں دریاؤں میں پائے جانے والے ان ”ژلاتین“ جیلٴن کا شمار بھی گھاس میں ہوتا ہے جو ”کلوروفل“ (Chlorophyll) کو جذب کرتے ہیں اور جن کی عمر ایک سکینڈ سے بھی کم ہوتی ہے۔

استوائی علاقہ میں ایسے درخت بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر انھیں پانی میسر ہوتا رہے تو قیامت تک سرسبزوشاداب رہیں گے اور ان میں برگ و بار او رشاخیں نکلتی رہیں گی۔ (۲)

”لامباردیا“ میں ایک درخت ہے جس کی اونچائی ۱۲۰ فٹ اور قطر ۲۳ فٹ ہے اور اس کی عمر دوہزار سال سے زیادہ ہے، ”بریبورن کینٹ“ میں ایک درخت ہے جس کی عمر کا اندازہ تقریباً تین ہزار سال لگایا جاتا ہے اسی طرح ”تکودیم“ اور ”شیشیوم“ نامی قسم کے درخت بھی ہیں جن کی عمر کا اندازہ چھ ہزار سال ہے۔(۳)

گیہوں کے ایک دانہ سے سات سو دانوں سے زیادہ کبھی نہیں سنا گیا لیکن اِدھر اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ”بوشہر“ کے گاؤں ”کرہ بند“ کے ایک کھیت میں ایک دانہ سے چار ہزار سے



(۱)پیک ایران شمارہ ۱۱۵۲۔ (۲)نوردانش، شمارہ۶، سال۵ ۔

(۳)اللهوالعلم الحدیث، ص۹۶۔

زائد دانوں کی پیداوار ہوئی جس کے باعث ماہرین زراعت بھی حیرت میں پڑگئے،جب کہ ایک دانہ سے اوسط پیداوار چالیس دانے ہے۔



حیوانات کی دنیا میں اختلاف



مختلف انواع کے حیوانات کی اوسط عمر کے بارے میں علم الحیوان کے ماہرین کی جانب سے جو اعداد وشمار پیش کئے جاتے ہیں ان سے حیوانات کی اوسط عمر کا علم بخوبی ہوجاتا ہے لیکن ان کے درمیان بھی کم و زیادہ فاصلہ کی صورت حال عجیب وغریب ہے، فرق اور اختلاف کے ساتھ ساتھ ہر نوع کے افراد کے درمیان استثنائی افراد بھی بہت نظر آتے ہیں، ایسی خبریں اکثر وبیشتر اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں اگر ان خبروں کو جمع کیا جائے تو ایک مفصل اور قابل توجہ کتاب تیار ہوجائے۔

روس کی جمہوریہ ”یا کوتسک“ میں قطب شمال کے نزدیک دانشوروں کو ایک گھونگا، ملا ہے جو کئی ہزار سال یعنی ماقبل تاریخ سے اب تک زندہ ہے۔(۱)

شمالی یورپ کے بحراعظم اطلس میں ایسی مچھلیاں دیکھی گئی ہیں جن کی عمر کے بارے میں تیس لاکھ سال کا اندازہ لگایا گیا ہے، اسی طرح سانپوں کی عمر کئی ہزار سال بتائی جاتی ہے جب کہ بعض ایسے رینگنے والے جانور بھی ہیں جن کی عمر چند لمحات سے زیادہ نہیں ہوتی (۲)

کیا آپ کو معلوم ہے کہ رانی مکھی کی عمر شہد کی مکھیوں کے مقابلہ میں چار سو گنا زیادہ ہوتی ہے؟



عالم انسان میں استثنائ

انسانوں کے درمیان بھی فرق، امتیاز اور اختلاف کا قانون حاکم ہے، اگر یہ قانون نہ ہوتا تو



(۱)روزنامہ اطلاعات، شمارہ ۹۷۷۔

(۲) نوردانش، شمارہ۶ سال۵۔

افراد کا پہچاننا ممکن نہ ہوتا، خداوندعالم نے اس اختلاف کو اپنی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے اعلان ہوتا ہے:

”ومن آیاتہاختلاف السنتکم والوانکم“(۱)

اللہ کی نشانیوں میں سے تمہارے رنگوں اور زبانوں کا اختلاف بھی ہے۔

لوگوں کے درمیان اتنا زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ اپنی کثرت کے باعث یہ اختلاف اکثر افراد کی نگاہوں سے اوجھل ہے، عموماً لوگ شکل وقیافہ کے ذریعہ ہی افراد کو پہچانتے ہیں لیکن آج انسان نے ترقی کے باعث جو وسائل ایجاد کئے ہیں ان کے سہارے انسانوں کو خون، ہڈیوں،اور انگلیوں کے نشانات کے ذریعہ بھی پہچانا جاسکتا ہے(۲)

عمر، قد، رنگ، بدن کی ساخت، قوت عقل وفکر، احساسات وغیرہ کے لحاظ سے نادرالوجود افراد مل جاتے ہیں مثلا ایک شخص کا دل داہنی طرف تھا، کوئی شخص اپنے قدوقامت یا وزن کے لحاظ سے اربوں انسانوں کے درمیان اپنی مثال آپ ہوتاہے۔

اگر روحانی واخلاقی عادات واطوار اور صفات کے لحاظ سے دیکھیں تو کوئی سخاوت میں حاتم طائی نظر آتا ہے تو کوئی کنجوسی میں ضرب المثل بن جاتا ہے، فکر ودماغ کے لحاظ سے بھی کوئی نابغہٴ عصر ہوتا ہے تو کوئی اتنا ذہین کہ مشکل سے مشکل فلسفی وریاضی مسائل کا حل کرنا اس کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا، اور کوئی اتنا کندذہن اور غبی ہوتا ہے کہ سامنے کی بات بھی اس کی سمجھ میں نہیں آتی اور دو، دو چار جیسے جوڑ بھی اس کے لئے مشکل ہوتے ہیں، تاریخ میں جتنے بھی نابغہ اور نامور ہستیاں گزری ہیںوہ کوئی الگ مخلوق نہیں تھیں بلکہ ایسی فاتح عالم ہستیاں بھی انسان ہی تھے مگر عام انسانوں سے ان کا مرتبہ ذرا بلند تھا۔



(۱) سورہٴ روم، آیت۲۲۔

(۲)آج کل D.N.A. بھی قطعی شناخت کا ذریعہ بن گیا ہے۔ (مترجم)

خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ عالم خلقت میں استثنائی صورت حال کا ہر جگہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ہاں کبھی اس کا سبب ہمیں معلوم ہوجاتا ہے اور کبھی معلوم نہیں ہوپاتااور کبھی یہ صورت اچانک رونما ہوتی ہے۔

اب ہم ان لوگوں سے جو امام زمانہ کی طویل عمر کو بعید تصور کرتے ہیں، یا سرے سے اس کے منکر ہیں یہ دریافت کرتے ہیں:

آخر آپ انکار کیوں کررہے ہیں کیا مخلوقات کے درمیان آپ کو استثناآت نظر نہیں آتے؟ کیا طویل عمر انھیں استثناآت کا حصہ نہیں ہے؟

آخر کیوں ہم کروڑوں، ایٹم، نباتات وحیوانات کی دنیا میں عمر یا دیگر کسی اور لحاظ سے استثنائی صورت حال کوتو تسلیم کرلیتے ہیں لیکن امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کہ جوولی ٴخدا بھی ہیں ان کے بارے میںطولانی عمر کے استثناء کو تسلیم نہیں کرتے؟

اگر کوئی شخص مومن وموحد نہ بھی ہو تب بھی اسے عالم طبیعت میں بکھرے ہوئے بے شمار نمونوں کو دیکھ کر کسی شخص کی طویل عمر کے انکار کا حق نہیں ہے، اور اگرہم معرفت خدا رکھتے ہیں اس کی قدرت اور انبیاء کرام کی خبروں پر ایمان لاتے ہیں تو پھر حضرت کے طول عمر کے انکار کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟۔

کیا خدا اس بات پر قادر نہیں ہے؟ کیا خدا کسی انسان کو ہزاروں سال تک زندہ نہیں رکھ سکتا؟آپ تو طویل عمر سے بھی زیادہ عجیب وغریب اور استثنائی باتوں کو تسلیم کرتے ہیں مثلا عصا کا اژدھے میں تبدیل ہونا، بغیر باپ کے جناب عیسیٰ کی ولادت تو آخر فرزند پیغمبر کی طویل عمر کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟

کیا کرات، ایٹم، نباتات، حیوانات کا خدا یا جناب عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کرنے والا خدا کوئی اور ہے اور امام زمانہ کا خدا کوئی اورہے؟ ہرگز نہیں آپ ہی نہیں کوئی بھی شخص اس سوال کا منفی جواب نہیں دے سکتا ہے کہ اس سے خدا کی قدرت پر حرف آتا ہے۔





دا ئمی عمر

حیات ابدی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی طرف بشریت کی توجہ ہمیشہ سے مبذول رہی ہے اور اس سلسلہ میں زمانہ قدیم سے ہی تحقیق و جستجو اور تجربات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

جہاں تک دائمی عمر اور حیات ابدی کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ سبھی عقلی طو رپر اسے ممکن گردانتے ہیں اور شائد ہی کوئی انسان ہو جو حیات ابدی کو ممکن سمجھنے کے بجائے محال جانتا ہو۔

تحقیقات کا تعلق اس کے علمی امکان سے ہے یعنی علم حیات اور مفکرین اپنے تجربات اورآزمائشوں کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کے درپے ہیں کہ حیات ابدی کبھی انسانی اختیار میں آسکتی ہے یا نہیں کہ اگر کوئی انسان اسے حاصل کرنا چاہے تو حاصل کرلے۔

اس سلسلہ میں اب تک جو تحقیقات اور تجربات ہوئے ہیں وہ کامیاب رہے ہیں؟

اس میدان کی تحقیقات ،ماہرین فن کے لئے امید افزا ہیں یا مایوس کرنے والی؟

کیا اس میدان میں تحقیق و جستجو کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے؟

جس طرح انسان نے چیچک، ملیریا، تپ دق اور دیگر بیماریوں کے جراثیم تلاش کرکے ان سے مقابلہ کیا ہے، کیا کسی دن عمر کے منقطع ہونے کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا؟

علمی لحاظ سے ان سوالات کا جواب مثبت ہے یا منفی؟

انسانیت کے لئے سب سے اہم مسئلہ آج یہی ہے اور مادی زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔

بیماری سے لڑنا، خطرناک کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی دوا تلاش کرنایہ سب اسی اصل مسئلہ کی فروعات ہیں یعنی ان سب کوششوں کا راز یہ ہے کہ انسان ہمیشہ ہمیشہ نہ سہی تو زیادہ سے زیادہ زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔

ہماری معلومات کے مطابق علم الحیات، میڈیکل سائنس اور متعلقہ موضوعات کے ماہرین نے ان سوالات کا جواب مثبت انداز میں دیا ہے اور ان کی تحقیقات امیدافزا ہیں اسی لئے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، اگرچہ بعض حضرات ابھی احتیاط کے لہجہ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمر کو مزید طویل بنانا ممکن ہے، یہ محتاط حضرات ابدی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں کہتے لیکن اتنا ضرور مانتے ہیں کہ عمر کو طولانی بنانے کا مطلب ہے کہ ہم زندگی سے ایک قدم نزدیک ہورہے ہیں، بنیادی طور پر میڈیکل سائنس جتنے شعبوں پر کام کررہی ہے اور بیماریوں کا علاج جیسے جیسے میسر ہوتا جارہا ہے یہ چیز بذات خود ہمیں اس ہدف سے قریب تر کررہی ہے اس لئے کہ بیماری کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ بیماری کے باعث عمروزندگی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور بیماری ابدی زندگی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جب یکے بعد دیگرے بیماریوں کا علاج فراہم ہوتا جائے گا توبتدریج حیات ابدی کا حصول بھی ممکن ہوتا جائے گا۔

اگرچہ محققین الگ الگ یونیورسٹیوں اور لیبورٹریز میں مختلف شعبوں پر کام کررہے ہیں او رہر ایک الگ بیماری کے بارے میں معلومات اور اس کا علاج تلاش کررہا ہے لیکن ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تحقیقات اور تجربات کتنے ہی کامیاب کیوں نہ ہوں جب تک انسانیت کے سرپر موت کی تلوار لٹکی ہوئی ہے ان کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے، لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ ایسی تمام کوششیں اسی ہدف ومقصد اور اسی نتیجہ تک رسائی کے لئے ہیں اور جیسے جیسے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں قافلہٴ بشریت اس ہدف سے نزدیک تر ہوتا جارہا ہے یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں ہے۔

حیات ابدی کے امکانی حصول کے لئے بظاہر دو راستوں سے مطالعات وتحقیقات وتجربات کا سلسلہ جاری ہے۔

۱۔ ایسے لوگوں کے حالات زندگی اوران کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی، دینی اور اقتصادی صورت حال کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں جنھوں نے طویل زندگی بسر کی ہے۔

۲۔ بعض حیوانات، جینس(Genes)، خلیوں،یا اعضا کے اوپر تحقیقات کی جائیں۔

دونوں مرحلوں میں اب تک تحقیقات مثبت اور امیدافزا رہی ہیں اور ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رشتہٴ حیات کا منقطع ہونا کسی جاندار کا طبیعی لازمہ نہیں ہے بلکہ بعض عوارض یا حوادث کے باعث ایسا ہوتا ہے۔

غیرمعمولی معمر حضرات کے حالات زندگی سے بھی یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ عمر کی کوئی حد معین نہیں ہے اور حیات وزندگی جیسی عظیم نعمت انسان کے حصہ میں اتنی محدود ومختصر بھی نہیں ہے جسکے ہم عادی ہوگئے ہیں، اوراگرکسی کو خصوصی شرائط اور حالات اتفاقاً میسر ہوجائیں تو انسان اوسط سے کئی گنا زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔



علمی ا ورسائنسی تحقیقات

ڈاکٹر ”ہنری اطیس“ کہتے ہیں کہ ”ابدی زندگی ممکن ہے اوریہ انسانی اعضائے بدن کی مصنوعی ساخت اور انسانی بدن میں ان کی پیوند کاری کے ذریعہ عملاً ممکن ہوجائے گا۔“(۱)

ایک اور مفکر کا قول ہے ”موت بیماری کے باعث آتی ہے نہ کہ ضعیفی کے باعث اور بیماری کے بہت سے اسباب ہیں جن میں سے بعض انسان کے اختیارسے باہر ہیں جیسے والدین کا جاہل ہونا یا ان کی جانب سے اپنے رشتہ کے انتخاب سے لے کر حمل ورضاعت کے مختلف مراحل پر حفظان صحت کے اصول وقواعد کی رعایت نہ کرنا، بچوں کی غلط تربیت، خراب ماحول وغیرہ ، کچھ اسباب ایسے ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں او رانسان انھیں دور کرسکتا ہے جیسے زیادہ کھانا، زیادہ سونا،



(۱)اطلاعات،شمارہ۱۱۸۰۵۔

غیرمنظم زندگی، غلط عادات، بداخلاقی اور باطل افکار ونظریات جن کے باعث انسان اضطراب و بے چینی میں مبتلا رہتا ہے اورآخر کار نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مایوسی وافسردگی کا شکار ہوجاتا ہے، اور انسانی زندگی سے سکون واطمینان ختم ہوجاتا ہے۔

اس طرح اگر انسان ان اسباب سے دوری اختیار کرکے لباس، غذا، مشاغل اور دیگر امور میں اعتدال سے کام لے تو اس کی عمر کی کوئی حد نہ ہوگی اورسائنٹفک اصولوں کے تحت اس کے لئے ابدی زندگی محال نہ ہوگی۔

لیکن آیات قرآنی اور انبیائے کرام کی زبانی موصولہ خبروں سے یہ ثابت ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔

”کل مَن علیہا فان“جو بھی روئے زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے۔

”اینما تکونوا ید رککم الموت“تم جہاں بھی رہو گے موت تمہیں پا لے گی۔

البتہ یہی ذرائع ہزار سال یا اس سے زیادہ عمر کی نفی نہیں کرتے۔(۱) اور نہ ہی یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا کی بقا ء تک عام افراد کی زندگی محال ہے۔

عربی زبان کے مشہور ومعروف علمی وسائنسی رسالہ ”المقتطف“نے ۱۳۵۹ء ھ ش کے تیسرے شمارہ میں ایک مقالہ شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ”ہل یخلد الانسان فی الدنیا“”کیا انسان ہمیشہ ہمیشہ دنیا میں زندہ رہے گا؟“

اس مقالہ میں موت و حیات، موت کی حقیقت او رکیا ہر جاندار کے لئے موت ضروری ہے؟ جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔

اس مقالہ میں علمی تحقیقات اورتشریحات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جن جراثیم اور Cellsکے باعث نسل آگے چلتی ہے اور انسان، حیوانات، مچھلیاں، پرندے، درندے، گھوڑے، گائے،



(۱)منتخب الاثر،ص۲۸۰

بکریاں اور جاندار بلکہ نباتات اور درخت انھیں جراثیم اور سیل کے ذریعہ باقی ہیں یہ جراثیم ہزاروں بلکہ لاکھوں بر س پہلے سے زندہ تھے۔

آگے چل کر مزید تحریر کرتے ہیں کہ ”قابل اعتماد علم کے حامل افراد یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حیوان کے جسم کے تمام اعضائے رئیسہ میں لامحدود اور دائمی بقا کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور اگررشتہٴ حیات کو منقطع کرنے والے اسباب وحوادث رونما نہ ہوں تو انسان بھی ہزاروں سال زندگی گزار سکتا ہے، ان حضرات کا نظریہ محض اندازہ اور خیال نہیں ہے بلکہ تجربات کے ذریعہ ثابت ہوچکا ہے۔

نیویارک کی روکفکر لیبوریٹری کے ممبر ڈاکٹر ”الیکس کارل“ (Alex Carl) نے حیوان کے بدن کے ایک جداشدہ حصہ کو اس حیوان کی طبیعی عمر سے کہیں زیادہ عرصہ تک زندہ رکھنے میں کامیابی حاصل کی یعنی جدا شدہ حصہ تک اس کی مطلوبہ اور معینہ غذا پہنچتی رہی اور وہ زندہ رہا جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اگر ہمیشہ مطلوبہ غذا پہنچتی رہے تو ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے۔

یہی تجربہ انہوں نے گھریلو مرغی کے جنین پر بھی کیا وہ جنین آٹھ سال تک زندہ رہا، اسی طرح خود انھوں نے اور دیگر محققین نے انسانی بدن کے بعض اعضاء، پٹھوں، دل، کھال، گردوں پر بھی یہ تجربہ کیا جس سے یہ نتیجہ اخذکیا کہ جب تک اعضاء کو غذا ملتی رہے گی وہ زندہ رہیں گے اور ان میں نشوء نما بھی ہوتی رہے گی۔

جانس ہنکش یونیورسٹی کے پروفیسر ڈائمنڈ وبرل تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ جسم انسانی کے تمام اعضائے رئیسہ کے سیل کی ابدی زندگی یا تو تجربات کے ذریعہ ثابت ہوچکی ہے یا ان کی ابدی حیات کا احتمال قطعا رجحان کا حامل ہے۔

بظاہر سب سے پہلے حیوانات کے اعضاء پر کامیاب تجربہ کرنے والے روکفلر لیبوریٹری کے ممبر ڈاکٹر جاک لوب تھے، ان کے بعد ڈاکٹر ورن لوئٹس اور ان کی زوجہ نے یہ ثابت کیا کہ مرغ کے جنین کے سیل (Cells) کو ایک نمکین مایع میں زندہ رکھا جاسکتا ہے اور اگر اس میں غذا ئی اجزا کا اضافہ کردیا جائے تو ان Cellsمیں نشوء نما ہوسکتی ہے۔

تجربات کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور آخرکار یہ ثابت ہوگیاکہ حیوانی بدن کے سیل کوایسے مایع میں زندہ رکھا جاسکتا ہے جس میں ان سیلز کے لئے ضروری غذائی مواد موجود ہوں لیکن ان تجربات سے یہ ثابت نہ ہوسکا کہ ان اجزاء کو ضعیفی (Fluids) کے باعث موت نہ آئے گی،یہاں تک کہ ڈاکٹر کا رل کی تحقیقات سامنے آئیں جن میں انھوں نے ثابت کیا کہ سیلز حیوانات کے بڑھاپے کا سبب نہیں ہیںبلکہ یہ تو معمول سے بہت زیادہ عرصہ تک زندہ رہ سکتے ہیں، ڈاکٹر کارل اور ان کے ساتھیوں نے ہمت نہ ہاری اور سخت جدوجہد کے ساتھ تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ انھوں نے یہ ثابت کیا کہ:

۱۔ جسم کے خلیوں (Cells)کے اجزاء زندہ رہتے ہیں انھیں صرف اسی صورت میں موت آتی ہے جب غذا نہ ملے یا کوئی بیکٹریا ان کو ختم کردے۔

۲۔ اجزاء نہ صرف یہ کہ زندہ رہتے ہیں بلکہ ان میں نشوء نما کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور ان کی تعداد میں ایسے ہی اضافہ ہوتا رہتا ہے جیسے زندہ جسم کا حصہ ہونے کی صورت میں ہوتا رہتا تھا۔

۳۔ ان کی نشو نما اور تعداد میں اضافہ کا تعلق ان کی غذا سے ہے۔

۴۔ زمانہ ان کی ضعیفی یا بڑھاپے پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا اور طول عمر سے ان کی ضعیفی پر معمولی سا بھی اثر نمایاں نہیں ہوتا بلکہ نشوء نما اور توالد وتناسل کا سلسلہ ہر سال گزشتہ برسوں کی مانند جاری رہتا ہے او ربظاہر آثار یہ نظر آتے ہیں کہ جب تک تجربہ کرنے والوں کے ذریعہ ان تک مطلوبہ غذا پہنچتی رہے گی وہ زندہ ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضعیفی خود سبب نہیں ہے بلکہ نتیجہ ہے۔

پھر وہ خود بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ واقعا اگر ایسا ہے تو آخر انسان کو موت کیوں آتی ہے؟ انسان کی عمر محدود کیو ں ہوتی ہے؟ اور آخر کیوں صرف معدودے چند افراد ہی سو سال سے زیادہ عمر گزارتے ہیں؟

وہ جواب دیتے ہیں کہ حیوانات کے جسمانی اعضاء بہت زیادہ ہیں اور مختلف ہونے کے باوجود ان کے اندر اتنا زیادہ تعلق وارتباط بھی ہوتا ہے کہ ایک عضو کی زندگی دوسرے پر موقوف ہوتی ہے۔

لہٰذا جب کوئی عضو کمزور پڑ جاتا ہے یا کسی سبب سے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تودوسرے اعضاء کو بھی موت آجاتی ہے جیسا کہ مائکروب(Microbe) کی بیماری میں یہ بات صاف طور پر نظر آتی ہے اس لئے اوسط عمر ستر، اسّی سال سے کم ہوتی ہے۔

اب تک کے تجربات اور تحقیقات کا ماحصل یہ ہے کہ انسان کو اس لئے موت نہیں آتی کہ وہ ساٹھ یا ستّر یا اسّی یا سویا اس سے زیادہ سال کا ہوگیا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کے کچھ اجزا بعض عوارض کی بنا پر ختم ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد آپسی ارتباط کے باعث ان اجزاء سے تعلق رکھنے والے اجزا بھی مرجاتے ہیں لہٰذا جب علم وسائنس ان عوارض کو برطرف کرنے یا ان کی تاثیر ختم کرنے کے قابل ہوجائے گا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ انسان سینکڑوں سال زندگی نہ گزار سکے، جب کہ بعض درخت ہزاروں سال تک زندہ رہتے ہیں(۱)

کچھ عرصہ قبل غیر ملکی جرائد سے ایک مقالہ کا ترجمہ روزنامہ ”اطلاعات“ میں شائع ہوا تھا جس میں ضعیفی کے علاج او ردائمی زندگی کے بارے میںچند عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹروں کی آخری تحقیقات پیش کی گئی تھیں۔

مذکورہ مقالہ میں صراحت کے ساتھ یہ بات ثابت کی گئی تھی کہ اگر مرنے والے انسان کے بدن سے کوئی حصہ اس کی زندگی میں جدا کرلیا جائے اور پھر اسے مناسب ماحول میں رکھا جائے تو وہ حصہ زندہ رہے گا معلوم ہوا کہ حیات ابدی کا راز مناسب اور سازگار ماحول ہے(۲)

امریکہ میں ایسی کمپنیاں وجود میں آچکی ہیں جو مردوں کو مومیائی کرنے کے بعد منجمد کرکے دیتی ہیں تاکہ انھیں دوبارہ زندہ کیا جاسکے، ان کمپنیوں کا اعلان ہے کہ حیات ابدی کا تصور



(۱)رسالہ ٴ المقتطف شمارہ ۳ سال ۵۹سے ماخوذ ، اصل مقالہ منتخب الاثر ص ۲۸۰تا ۲۸۳ پر نقل ہوا ہے۔

(۲)اطلاعات شمارہ ،۱۱۸۰۵۔

ناقابل قبول نہیں ہے البتہ حیات ابدی کا مطلب لامحدود زندگی نہیں ہے یہ زندگی بھی محدود ہوگی اور تقریباً ایک لاکھ برس سے زیادہ نہ ہوسکے گی! یہ بھی ضروری ہے کہ حیات ابدی تک رسائی کے لئے ہمیں نفسیاتی موانع کو بھی راہ سے ہٹانا پڑے گا اس وقت ہم موت اور محدود ومختصر زندگی کے اتنا زیادہ عادی ہوچکے ہیں کہ ابدی زندگی کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ہیں، اس طرز فکر کو تبدیل کرنا ہوگا۔(۱)

اگر ہم طول عمر اور ابدی زندگی کے بارے میں محققین ومفکرین کی تمام آرا ونظریات جمع کریں تو متعدد تفصیلی مقالات کے بعد بھی ہم محققین کے نظریات وتحقیقات بیان نہ کرسکیں گے، البتہ مکمل وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جو حضرات بھی علمی دنیا کے ایسے جرائد ومجلات سے تھوڑا بہت سروکار رکھتے ہیں جن میں دانشوروں کے تازہ ترین نظریات اور جدید ترین تحقیقات اور علم وصنعت کی دنیا میں ہرروز نئی تبدیلیوں اور ارتقاء کے بارے میں رپورٹیں شائع ہوتی ہیں ایسے افراد کو جدید علمی نظریات اور تجربات کے نتائج نیز معمر حضرات کے بارے میں کہیں زیادہ اطلاعات ومعلومات فراہم ہوتی رہتی ہیں۔

ایک اور چیز کہ جس سے طول عمر اور ابدی زندگی کے امکان کو تقویت حاصل ہوتی ہے وہ اعضا کی پیوند کاری ہے یہ کارنامہ اس سال ڈاکٹر برنارڈ نے انجام دیا ہے جس کا چرچا ہر طرف سنائی دیتا ہے(۲)

دوسرے انسان کے بدن میں ایک انسان کے کسی عضو کی پیوندکاری کا مطلب ہے کہ خراب اور بے کار عضو نکال کر اس کی جگہ دوسرا صحیح عضو لگا دیا جائے اور اگر متعدد مرتبہ اس کا امکان ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ موت کو ٹالا جاسکتا ہے، عین ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید بہتر اور آسان امکانات فراہم ہوجائیں۔



(۱)اطلاعات، شمارہ۱۲۱۴۳، مجلہ دانشمند، شمارہ۶۴/۶۵۔

(۲) یہ اس وقت کی بات ہے جب فاضل مصنف نے یہ مقالہ تحریر فرمایا تھا آج کل تو اعضا کی پیوندکاری میڈیکل سائنس کے روزمرہ کے معمولات کا حصہ ہے۔ (مترجم)

علمی میدان سے اتنی وضاحتیں اور شہادتیں پیش کرنے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ ”امام زمانہ حضرت ولی عصر ارواحنافداہ “کی طول عمر او رغیبت کے تسلسل سے متعلق شیعوں کا عقیدہ وایمان، عقل، علم وسائنس اور عالم خلقت وطبیعت پر حکم فرما قوانین کے عین مطابق ہے۔

جب حیات ابدی انسان کے اختیار میں ہوسکتی ہے تو کیا خداوندعالم کے لئے اپنے ولی خاص کو بہت طولانی عمر عطا کرنا مشکل ہے؟

جو کام انسان کے دائرہ قدرت میں ہے کیا وہ کام خالق انسان کے دائرہٴ قدرت میں نہ ہوگا؟

کیا طویل عمر کے حالات وشرائط حضرت ولی عصرکے لئے فراہم کئے نہیں جاسکتے ہیں؟

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.