قصیدہ ۱۵ شعبان در مدح امام زمانہ (عجل اللہ تعالی ٰفرجہ)

قصیدہ ۱۵ شعبان در مدح امام زمانہ (عجل اللہ تعالی ٰفرجہ)

یٹھاہوں اپنی موت کا ساماں کئے ہوئے



یعنی خیال ناوک مژگاں کئے ہو ئے





مہرو وفا کی راہ میں اب تک ہے روشنی



گزراہوں دل کے داغ فروزاں کئے ہوئے

وحشت میں راز عشق و محبت ہوا ہے فاش



پھرتا ہوں تار تار گریباں کئے ہو ئے





پھر دل میں میہماں ہے میرے آج یاد یار



ہر ہر نفس کو شعلہ بداماں کئے ہوئے

دنیا سے کہہ رہا ہوں محبت کی داستاں



خون جگر کو زینت مژگاں کئے ہوئے





میں خود کو دے رہاہوں سزا جر م وعشق کی



دل اپنا نذر سوزش پنہاں کئے ہوئے

دل کررہاہے الفت جاناں سے ساز باز



درد و غم حیات کا درماں کئے ہوئے





وحشت ہماری بعد فنا رنگ لا ئی ہے



وہ پھر رہے ہیں چاک گریباںکئے ہو ئے

کرتا ہوں گھرمیں بیٹھ کے نظارہٴ بہار



دامن کو خون دل سے گلستاں کئے ہو ئے





دل لے چلا ہے مجھ کو گلستاں سے سوئے دشت



ہوش وخرد کو نذر بہاراں کئے ہو ئے

جان بہار آکے تیرے انتظار میں



بیٹھے ہیں ہم بھی آج چراغاں کئے ہوئے





آجا کہ آئے گلشن ایماں میں پھر بہار



مدت ہوئی ہے سیر بہاراں کئے ہوئے

صدق وصفا کی بات بھی سنتا نہیں کو ئی



شیطاں سے ساز باز ہے انساں کئے ہوئے





تم ناخدا ہو کشتی دین خدا بچاؤ



ابلیس ہے تہیہ طوفاں کئے ہوئے

تا آخری سراج امامت بھی بجھ نہ جا ئے



قدرت ہے اس پہ سایہ داماں کئے ہوئے



















در مدح امام عصر ﷼



بیمار غم الفت جینے کے نہیں قابل



آجاؤ سر بالیں آسان کر و مشکل





ہے سانس ابھی باقی بیمار محبت میں



آنا ہے تو آجاؤ پھر آنے سے کیا حاصل

مایوس نگاہوںمیں بس آپ کی صورت ہے



اک برق تجلی سے ہو جائے گی طے منزل





یہ دور بہاراں ہے پھر جشن کا ساماں ہے



اے قلب حزیں خوش ہو آسان ہوئی مشکل

اس رہبر کا مل کا یہ جشن ولادت ہے



ہر نقش قدم جس کا بن جاتا ہے خود منزل





دنیا میں ہر اک جانب گو جشن کے ساماں ہیں



ایماں کی مگر تجھ بن سونی ہے پڑی محفل



گر آپ نکل آتے اس غیبت کبریٰ سے



اس عالم مضطر کو مل جاتا سکون دل

ہو تجھ سا اگر رہبر اس دہر کے طوفاں میں



گرداب کی ہر تہہ میں آجائے نظر ساحل





چمکا ہے ہلال نو یوں چرخ امامت پر



جب نور ہوا ہمدم شعباں کا مہ کامل

تو روح دو عالم ہے تو نور محبت ہے



انوار رسالت میں ہے نور ترا شامل





آغوش میں نرجس کے اک پھول سا بچہ ہے



یا رحل پہ عصمت کے قراں ہے سر محفل

ہے آج بہاروں سے صد رشک ارم عالم



ایمان کے گلشن کی سونی ہے مگر محفل





طوفان حوادث ہے مضطر ہے دل بسمل



آنا ہے تمھیں اک دن پھر دیر سے کیا حاصل

تو حافظ دین حق تو مہدی دوراں ہے



مولا تری مدحت میں قرآن ہو ا نازل





























قصیدہ در مدح

امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف



کرتا نہیں وہ شکوہ ناکامیٴ الفت کا



پہلے سے جو سمجھے تھا انجام محبت کا





بہلانہ دل مضطر جب دشت نوردی سے



کیا ہوگا مداوا اب دیوانہ کی وحشت کا

ہو جاتے ہیں خاکستر دل اور جگر دونوں



انجام یہ ہوتا ہے سوز غم فرقت کا





جب میری تباہی میں ان کا بھی اشارہ تھا



شکوہ نہیںکچھ مجھ کو محرومی قسمت کا

مژدہ لئے آئی ہے شب نیمہٴ شعباں کی



بس ختم کر اب قصہ درد و غم الفت کا



جو دین الٰہی کا تا حشر نگہباں ہے



ہے جشن زمانے میں آج اس کی ولادت کا





کاشانہٴ نرجس پر مے خواروں کا جمگھٹ ہے



گردش میں ہے پیمانہ پھر بادہٴ وحدت کا

ہر دور میں لازم ہے عترت کا نمائندہ



جب ساتھ ہے کوثر تک قرآن اور عترت کا





یوں آل محمد نے عمر اپنی بسر کرکے



دنیا کو بتایا ہے مفہوم عبادت کا

ہے اس کی اطاعت میں خالق کی اطاعت بھی



جاتا اسی کوچہ سے ہے راستہ جنت کا





تا حشر اسی دم سے ہے دین خدا قائم



پردے میں ہے یہ لیکن نگراں ہے شریعت کا

بخشش کے نہیں قابل نیر # کے گنہ لیکن



محشر میں سہارا ہے بس ان کی شفاعت کا





نوحہ



اسلام ہوا زندہ شبیر کی نصرت سے



باقی ہے قیامت تک زینب﷼ کی اشاعت سے





ملتا ہے سبق ہم کو سرور کی شہادت سے



عزت کی ہے موت اچھی جینا ہو جو ذلت سے

وہ بھر لیا مشکیزہ پانی سے بھتیجی کا



دریا سے ہٹیں فوجیں عباس کی ہیبت سے





آنسو جو بہاتا ہے مومن غم سرور میں



محروم نہ وہ ہوگا احمد کی شفاعت سے

پیکان ستم کھا کر ہونٹوں پہ تبسم ہے



حیراں ہے جہاں اب تک اصغر کی شجاعت سے





شبیر پہ جاں دے کر حر نے یہ بتایا ہے



اک آن میں ملتی ہے جنت کبھی قسمت سے

جلتے تھے ادھر خیمے چھنتی تھی ادھر چادر



عاشور کا یہ منظر کم تھا نہ قیامت سے





اک دشمنِ دینِ حق احمد کا وصی ہوتا



اسلام بدل جاتا شبیر ﷼ کی بیعت سے

گر آل محمد کی الفت سے رہی خالی



کچھ فائدہ محشر میں ہوگا نہ عبادت سے





قرآن سے ثابت ہے مومن نہ کبھی ہوگا



ہے شیشہٴ دل خالی گر آل کی الفت سے

دربار سے شاہوں کے ملتی نہیں وہ دولت



ملتی ہے جو سائل کو شبیر ﷼ کی چوکھٹ سے





کثرت سے گناہوں کی نیر# کو ہے مایوسی



امکان شفاعت ہے شبیر کی مدحت سے

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.