دین کے متخصص و ماهر کی ضرورت

دین کے متخصص و ماهر کی ضرورت

اس کے علاوه لوگ بھی اس زمانه میں بهت سے معارف کو درک کرنے کی صلاحیت نهیں رکھتے تھے اور بعض مساﺋل اس دور کے لوگوں کےلیے ضروری بھی نه تھے که انهیں یاد کریں اور اور دوسروں تک پهنچاﺋیں –

 یهیں سے پیغمبر اسلامۖ کے بعد دین کے ماهر و متخصص کی بعنوان امام ضرورت پیش آتی هے ایسا ماهر و متخصص کو جو تبلیغ میں پیغمبر کی مانند کبھی خطا و اشتباه نه کرے-
 
یه ایسا مسله هے که جسے تمام عقلا عالم قبول کرتے هیں که هر کام میں ماهر و متخصص کی ضرورت هے اسی طرح هر مکتب و مذهب کی پیچیدگیوں اور مساﺋل کے حل کےلیے اس مذهب کے ماهر کی طرف رجوع هو-اگر ماهرین و متخصص نه هوں یا هوں لیکن امام نه هوں بلکه مساﺋل میں خطا کرنے والے هوں تو یه مذهب لوگوں کےلیے ناکافی هوگا اور بالآخر یه مذهب ختم   هو جاۓ گا یا مسخ هوجاﺋیگا –آیت الله سبحانی امامت پر ادله کی بحث میں ایک برهان یوں پیش کرتے هیں:
 
۱: الھی آیات کی شرح و تفسیر اور انکے اسرار و رموز کو کشف کرنا
 
۲: جدید پیش آنے والے مساﺋل میں احکام شرعیه بیان کرنا
 
۳: شبھات کا جواب اور اهل کتاب کے سوالات کا جواب
 
۴: دین کو تحریف سے محفوظ رکھنایه چار اهم وظاﺋف هے که جو پیغمبر اکرم ۖ اپنی پر برکت حیات میں انجام دیتے تھے تو پیغمبر اکرم ۜ کے بعد کون ان وظاﺋف کو انجام دے
 
گا ؟ تین احتمال موجود هیں:
 
۱: شارع اس مسله کی طرف توجه نه کرے اسے ایسے هی چھوڑ دے یه بات نا ممکن هے
 
ب) شارع اس مسله کو امت کے سپرد کردے که وه خود انجام دیں تو یهاں هم دیکھتے هیں که رحلت پیغمبر اکرم (ص) کے بعد امت اسلامی کیسے کیسے حوادث اور مساﺋل میں گرفتار هوئ جس کے نتیجے میں لوگوں میں تفرقه پیدا هوا لهذا یه احتمال بھی قابل قبول نهیں هے-
 
ج) الله تعالی یه ذمه داری پیغمبر اکرم(ص) کی مانند کسی شخص کے سپرد کرے جو انکی مانند معصوم هو اور دین کی درست تشریح و تفسیر کرے-۔ ۔ ۔
 
پهلے دو احتمال باطل هیں تیسرا احتمال عقلا عالم کے نزدیک درست هے اور یه وهی بات هے که الله تعالی پیغمبر اکرم کے بعد بعنوان امام انکا جانشین منتخب کرے-
 
۳ : سیرت مسلمین:
 
اسلامی متکلمین نے اپنی کلامی کتب میں یه دلیل ذکر کی مثلا خواجه نصیر الدین طوسی نے تلخیص المحصل میں ٬عضد الدین ایجی نے مواقف میں ٬سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصداور شرح عقاﺋد نسفیہ میں اور شهرستانی نے نهایه الاقدام میں ذکر کیا هے کہ: سیرت مسلمین بالخصوص صدر اسلام کے مسلمانوں کی سیرت میں مطالعه کے بعد یه بات واضح هوجاتی هے که یه سب لوگ وجوب امامت کو ایک مسلم امر شمار کرتے تھے حتی که وه لوگ جو سقیفه میں بھی حاضر نه تھے مثلا حضرت علی(ع) بھی اسلامی معاشرے کی ایک امام کی طرف احتیاج کے منکر نه تھے-
 
۴:شرعی حدود کا اجراء اور اسلامی نظام کی حفاظت
 
بلاشبه شارع مقدس نے مسلمانوں سے چاها هے که اسلامی حدود کو اجراء کریں اور اسلامی مملکت کی سرحدوں کی دینی دشمنوں سے حفاظت کریں یه چیز بغیر با صلاحیت اور مدبر رهبر و امام کے ممکن نهیں هے یه که واجب کا مقدمه واجب هوتا هے اس امام کا منصوب کرنا بھی واجب هے عالم اهلسنت سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصد میں اس دلیل کی طرف اشاره کیا هے (شرح مقاصد ج۵ ص۲۳۶-۲۳۷)
 
۵: بڑے خطرات سے بچنا واجب هے
 
ایک اور دلیل کے جسے اسلامی متکلمین مثلا علماء اهلسنت ٬فخر رازی ٬(تلخیص المحصل ص۴۰۷ )اور سعد الدین تفتازانی (شرح مقاصد ج۵ ص۲۳۷- ۲۳۸) نے امامت کے وجوب پر پیش کیا هے یه هے که امامت کی شکل میں امت اسلامی کو بهت بڑے اور عظیم سماجی فواﺋد حاصل هیں که اگر ان فواﺋد کو نظر انداز کردیا جاۓ تو شخص اور معاشره بڑے خطرات اور نقصانات سے دوچار هوجاﺋیگا که ایسے خطرات سے بچنا شرعا و عقلا واجب هے –
 

ان پانچ عقلی ادله کے پیش نظر کها جاسکتا هے که شیعه و سنی تمام اسلامی متکلمین کے نزدیک امامت کا وجود اور وجوب مورد اتفاق هے-

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.