انتظار کے آثار

انتظار کے آثار

تو وہ برائیوں اور پستیوں کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رھیں اور خود کوئی قدم نہ اٹھائیں بلکہ خاموش ارھیں اور ظلم و ستم کو دیکھتے رھیں!!

لیکن یہ نظریہ ایک سطحی اور معمولی ھے نیز اس میں دقت نظر سے کام نھیں لیا گیا ھے، کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے سلسلہ میں بیان ھونے والے مطالب کے پیش نظرروشن ھے کہ انتظار کا مسئلہ اور وہ بھی انفرادی حیثیت اور امام مہدی علیہ السلام کی بے مثال عظمت کے پیش نظر نہ صرف انسان میں انجماد اور بے توجھی پیدا نھیں کرتا بلکہ تحریک اور شکوفائی کا بہترین سبب ھے۔
انتظار ، منتظر میں ایک مبارک اور با مقصد جذبہ پیدا کرتا ھے،اور منتظر جتنا بھی انتظار کی حقیقت سے نزدیک ھوتا جاتا ھے مقصد کی طرف اس کی رفتار بھی اتنی ھی بڑھتی جاتی ھے، انتظار کے زیر سایہ انسان خود پرستی سے آزاد ھوکر اپنے کو اسلامی معاشرہ کا ایک حصہ تصور کرتا ھے، لہٰذا معاشرہ کی اصلاح کے لئے حتی الامکان کوشش کرتا ھے، اور جب معاشرہ ایسے افراد سے تشکیل پاتا ھو، تو پھر اس معاشرہ میں فضیلت اور اقدار رائج ھونے لگتا ھے اور معاشرہ کے سبھی لوگ نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے لگتے ھےں، اور ایسے ماحول میں (جو اصلاح، سازندگی، امید اور نشاط بخش فضا اور تعاون و ہمدردی کا ماحول ھے) دینی عقائد اور مہدوی نظریہ معاشرہ کے افراد میں پیدا ھوتا ھے اور اس انتظار کی برکت سے منتظرین فساد اور برائیوں کے دلدل میں نھیں پھنستے بلکہ اپنے دینی حدود اور اعتقادی سرحدوں کی حفاظت کرتے ھیں، انتظار کے زمانہ میں پیش آنے والی مشکلوں میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ھیں، اور خداوندعالم کے وعدہ پورا ھونے کی امید میں ہر مصیبت اور پریشانی کو برداشت کرلیتے ھیں، اور کسی بھی وقت سستی اور مایوسی کے شکار نھیں ھوتے۔
واقعاً کونسا ایسا مکتب اور مذہب ھوگا جس میں اس کے ماننے والوں کے لئے ایک روشن مستقبل پیش کیا گیا ھو؟ ایسا راستہ جو الٰھی نظریہ کے تحت طے کیا جاتا ھو، جس کے نتیجہ میں اجر عظیم حاصل ھوتا ھو۔
انتظار کرنے والوں کا ثواب
خوش نصیب ھے وہ شخص جو نیکیوں کے انتظار میں نظریں بچھائے ھوئے ھے! واقعاً کتنا عظیم ثواب ھے ان لوگوں کے لئے جو امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کا انتظار کرتے ھیں، اور کس قدر عظیم رتبہ ھے ان لوگوں کا جو قائم آل محمد علیہم السلام کے حقیقی منتظر ھیں!۔
مناسب ھے کہ فصل انتظار کے آخر میں جام انتظار نوش کرنے والوں کی بے مثال فضیلت اور مرتبہ کو بیان کریں اور معصومین علیہم السلام کے بیانات کو آپ حضرات کے سامنے پیش کریں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”خوش نصیب ھے قائم آل محمد کے وہ شیعہ جو غیبت کے زمانہ میں ان کے ظھور کا انتظار کریں اور ان کے ظھور کے زمانہ میں ان کی اطاعت اور پیروی کریں، یھی لوگ خداوندعالم کے محبوب ھیں جن کے لئے کوئی غم و اندوہ نہ ھوگا“۔([1])
واقعاً اس سے بڑھ کر اور کیا افتخار ھوگاجن کے سینہ پر خداوندعالم کی دوستی کاتمغہ ھو،اور وہ کیوں کسی غم و اندوہ میں مبتلا ھوں، حالانکہ ان کی زندگی اور موت دونوں کی قیمت بہت بلندو بالا ھے۔
حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ھیں:
”جو شخص ہمارے قائم علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں ہماری ولایت پر قائم رھے تو خداوندعالم اس کو شہدائے بدر و احد کے ہزار شھیدوں کا ثواب عطا کرے گا“۔([2])
جی ہاں! غیبت کے زمانہ میں جو لوگ اپنے امام زمانہ علیہ السلام کی ولایت اور اپنے امام سے کئے ھوئے عہد و پیمان پر باقی رھیں تو وہ ایسے فوجی ھیں جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ مل کر دشمنان خدا سے جنگ کی ھو اور اس کارزار میں اپنے خون میں نہائے ھوں!
وہ منتظرین جو فرزند رسول امام زمانہ علیہ السلام کے انتظار میں جان بر کف کھڑے ھوئے ھیں وہ ابھی سے جنگ کے میدان میں اپنے امام کے ساتھ موجود ھیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”اگر تم (شیعوں میں) سے کوئی شخص (امام مہدی علیہ السلام) کے ظھور کے انتظار میں مرجائے تو وہ شخص گویا اپنے امام علیہ السلام کے خیمہ میں ھے! اس کے بعد امام علیہ السلام نے تھوڑا صبر کرنے کے بعد فرمایا: بلکہ اس شخص کی طرح ھے جس نے امام علیہ السلام کے ساتھ مل کر جنگ میں تلوار چلائی ھو! اور اس کے بعد فرمایا: نھیں؛ خدا کی قسم وہ اس شخص کی طرح ھے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رکاب میں شہادت کے درجہ پر فائز ھوا ھو“۔([3])
یہ وہ لوگ ھےں جن کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ھے، اور ان سے اپنی دلی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ھے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: پالنے والے! مجھے میرے بھائیوں کو دکھلادے! اور اس جملہ کو دو بار تکرار کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نھیں ھیں؟!
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: تم لوگ میرے اصحاب ھو لیکن میرے بھائی وہ لوگ ھیں جو آخر الزمان میں مجھ پر ایمان لائےں گے جبکہ انھوں نے مجھے نھیں دیکھا ھوگا! خداوندعالم نے ان کا نام مع ولدیت مجھے بتایا ھے۔۔۔ ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اندھیری رات میں ”گون“ نامی درخت سے کانٹا توڑنے اور دہکتی ھوئی آگ کو ہاتھ میں لینے سے کھیںزیادہ سخت ھے، وہ ہدایت کے مشعل ھیں جن کو خداوندعالم خطرناک فتنہ و فساد سے نجات عطا کرے گا“([4])
نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”خوش نصیب ھے وہ شخص جو ہم اہل بیت کے قائم کو پائے، حالانکہ وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی اقتداء کرتے ھیں، وہ لوگ ان کے دوستوں کو دوست رکھتے ھیں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کرتے ھوں، نیز ان سے پہلے ائمہ کو دوست رکھتے ھیں، وہ میری دوستی اور مودت کے مالک ھیں، اور میرے نزدیک میری امت کے سب سے گرامی افراد ھیں“۔([5])
لہٰذا جو افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک اتنا عظیم مرتبہ رکھتے ھیں اور وھی خداوندعالم کے خطاب سے مشرف ھوں گے! اور وہ بھی ایسی آواز جو عشق و محبت سے بھری ھوگی ، اور جو خداوندعالم سے نہایت قربت کی عکاسی کرتی ھے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومنین کا امام غائب ھوگا، پس خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رھے، بے شک ان کی کم سے کم جزا یہ ھوگی کہ خداوندعالم ان سے خطاب فرمائے گا: اے میرے بندو! تم میرے راز (اور امام غائب) پر ایمان لائے ھو، اور تم نے اس کی تصدیق کی ھے، پس میری طرف سے بہترین جزا کی بشارت ھو، تم حقیقت میں میرے بندہ ھو، تمہارے اعمال کو قبول کرتا ھوں اور تمہاری خطاؤں سے درگزر کرتا ھوں، اور تمہاری (برکت کی) وجہ سے اپنے بندوں پر بارش نازل کرتا ھوں اور بلاؤں کو دور کرتا ھوں، اگر تم (لوگوں کے درمیان ) نہ ھوتے تو پھر (گناہگار لوگوں پر) ضرور عذاب نازل کر دیتا“۔([6])
لیکن ان انتظار کرنے والوں کو کس چیز کے ذریعہ آرام اور سکون ملتا ھے،اور ان کی انتظار کی گھڑی ختم ھوگی؟ کس چیز سے ان کی آنکھوں میں ٹھنڈک ملے گی، اور ان کے بے قرار دلوں کو چین و سکون ملے گا؟ کیا جن لوگوں نے عمر بھر انتظار کے راستہ پر قدم بڑھایا ھے اور تمام تر مشکلات کے باوجود اسی راستہ پر گامزن رھے ھوں تاکہ مہدی منتظر (علیہ السلام) کے سر سبز چمن میں قدم رکھیں اور اپنے محبوب و معشوق کی ہم نشینی سے کم پر اضی نہ ھوں؟! اور واقعاً اس سے بہترین اور کیا انجام ھوسکتا ھے اور اس سے بہتر اور کونسا موقع ھوسکتا ھے!
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
”خوش نصیب ھے ہمارے وہ شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری دوستی کی رسّی کو مضبوطی سے تھامے رکھیںاور ہم سے دوستی رکھیں، اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کریں، وہ ہم سے ھیں اور ہم ان سے، وہ ہماری امامت و رہبری پر راضی ھیں (اور ہماری امامت کو قبول کرتے ھیں) اور ہم بھی ان کے شیعہ ھونے سے راضی اور خوشنود ھیں، خوشا نصیب ان کا!! خدا کی قسم یہ افراد روز قیامت ہمارے ساتھ ہمارے مرتبہ میں ھوں گے“۔([7])


[1] کمال الدین، ج۲، باب ۳۳، ح ۵۴، ص ۳۹۔
 
[2]کمال الدین، ج۲، باب ۳۱، ح ۶، ص ۵۹۲۔
 
[3] بحار الانوار، ج۵۲، ص ۱۲۶۔
 
[4] بحار الانوار، ج۵۲، ص ۱۲۳۔
 
[5] کمال الدین، ج۱، باب ۲۵، ح۲، ص ۵۳۵۔
 
[6] کمال الدین، ج۱، باب ۳۲، ح۱۵، ص ۶۰۲۔
 
[7] کمال الدین، ج۲، باب ۳۴، ح۵، ص ۴۳۔
 

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.