حالات سازگار ہونے کا انتظار

حالات سازگار ہونے کا انتظار

غیبت کی ایک مصلحت انسانی صلاحیتوں (اور استعدادوں )کی تکمیل اور ان کو فکری اور ذہنی اعتبار سے آپ کے ظہور کے لئے تیار کرنا ہے کیونکہ آپ کا طریقہٴ کار ظاہری باتوں کی رعایت یاظاہر پر حکم کرنا نہیں ہے بلکہ آپ کا دارومدار حق اور حقیقت کا خیال رکھنا اور اسی کے مطابق حکم کرنا اور اسمیں تقیہ سے پرہیز، دینی معاملات، دوسروں کے حقوق، ناحق لئے جانے والے اموال کی واپسی، حقیقی انصاف قائم کرنا اور تما م اسلامی احکام کو کسی رعایت اور چشم پوشی کے بغیر نافذ کرناہے۔

اسلام دشمن طاقتوں اور اصلاحات کے مخالفین اور عہدہ پرست اہل سیاست نے جتنے نظام بنا رکھے ہیں وہ ان سب کو ختم کر کے ان کی جگہ اسلام کے ان قوانین اور احکام کو زندہ اور نافذ کریں گے جنکو انہوں نے مٹا رکھا ہے اور آپ کے جد اکرم حضرت محمد مصطفیٰ جو دین لیکر آئے تھے اور دنیا کے جاہ طلب اور سر پھرے حاکموں کے ناحق دباوٴ اور مظالم کی بنا پرجس کی کوئی قانونی یا سماجی حیثیت نہیں رہ گئی تھی وہ اسے پھر سے قانونی حیثیت عطا کرےنگے اور پوری کائنات کو اسلام اور قرآن کے پیغامات کی طرف واپس پلٹائیں گے ،صاحبان منصب اور لوگوں کے کاموں کے ذمہ دار افراد سے سختی کے ساتھ پوچھ گچھ ہو گی اور مجرموں نیز گناہگاروں کے لئے کسی قسم کی رعایت یاچھوٹ نہیں ہوگی اور ہر طرف اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی ۔

یہ طے ہے کہ ایسے ہمہ جہت انقلاب اور نظام کے لئے بشر کی علمی،فکری اوراخلاقی ترقی نیز لوگوں کے اندر اس تحریک کو قبول کرنے اور اسے ماننے کی آمادگی اور اس عظیم الشان ہادی کی رہبرانہ (قائدانہ) صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ اسکے علاوہ آپ کے مخصوص اصحاب جو آپ کی مدد میں ثابت قدم اور معرفت وبصیرت کے لحاظ سے کامل ہوں وہ بھی احادیث میں بیان شدہ تعداد کے برابر ہو جائیں، دنیا کی فضا ایسے ظہور کے لئے ہموار ہو جائے اور دنیا کی تمام قومیں اچھی طرح یہ سمجھ لیں کہ اس سے پہلے جتنے بھی نظام حکومت اور سیاسی یا اقتصادی مکاتب فکر سامنے آئے وہ کسی درد کی دوا نہیں ہیں اور حقوق بشر کے لئے قائم کئے جانے والے عالمی ادارے، بڑے بڑے بین الاقوامی اجتماعات اور کانفرنسیں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے ،اب تک جو کچھ بھی اصلاحی اور تعمیری پروگرام بنے ہیں یا آئندہ بنائے جائیں گے ان کے بارے میں مایوسی سب کو اپنی گرفت میں لے لے جیسا کہ روایات میں ہے کہ بے حیائی اور فحاشی اتنی عام ہو جائے کہ جانوروں کی طرح سڑکوں پر کھلے عام مردوں اور عورتوں کو بدکاری میں کوئی شرم محسوس نہ ہو اور شرم وحیاء اور غیرت کا جنازہ نکل جائے۔

جیسا کہ ہمیں دکھائی دے رہا ہے کہ جتنے منصوبے بھی بنائے جاتے ہیں اور جو لائحہ عمل بھی تیار ہوتا ہے وہ سب تہذیب و تمدن کے برخلاف ہے اور اس سے ظلم وستم یا برائیوں کو بڑھا وا ملتا ہے جس سے لوگوں کے اندر پریشانی واضطراب پیدا ہوتا ہے اور روحانی (نفسیاتی) گتھیاں اور الجھ جاتی ہیں ارتداد اور رجعت پسندی میں اضافہ ہوتا ہے اور زیادہ تر جسمانی اور مادی (حیوانی) پہلوؤں پر توجہ کی جاتی ہے اور انسانی اور روحانی اقدار کی کوئی پرواہ نہیں رہتی ہے۔

جب دنیا کا یہ حال ہو جائے اور (انسانیت سے عاری)موجودہ تہذیب و تمدن سے سب عاجز آجائیں اور دنیا پر تاریکی چھا جائے توغیبی عنایتوں کے سائے میں ایک مرد خدا کے بہترین استقلال کا نظارہ آنکھوں کے سامنے ہوگا اندھیرے چھٹ جائیں گے اور تشنگان حق وعدالت کو معرفت و سعادت کے شیریں جام سے سیراب کریں گے اور مردہ انسانوں کے دل میں نئی روح پھونک دینگے:

اعلموا انّ اللہ یحي الارض بعد موتھا۔(۱)



(۱)سورہٴ حدید آیت۱۷۔

یا د رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کو زندہ کرنے والا ہے۔

ایسے حالات میں اہل دنیا بے مثال طریقے سے آسمانی منادی کی روحانی آواز کو اپنے دل کی گہرائیوں سے قبول کریں گے کیونکہ اندھیرا جتنا زیادہ ہوتا ہے نور کی روشنی (چمک)اتنی ہی زیادہ عیاں ہوتی ہے اور اسکا اثر زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔

لیکن اگر حالات سازگار نہ ہوں اور حکمت الٰہی کی بنا پر اسمیں جس حد تک تاخیر ہونا چاہئے وہ تاخیر نہ ہو تو پھر اس ظہور کے تمام فائدے کما حقہ حاصل نہیں ہوسکتے، لہٰذا ایک معین مدت تک اس ظہور میں تاخیر ضروری ہے اور جیسے ہی حالات سازگار ہوں اور حکمت الٰہی کے تحت غیبی آواز اسکا اعلان کر دے اس وقت ظہور ہو جائے گا جس کی خبر کسی کو نہیں ہے اورجو شخص بھی ظہور کا وقت معین کرے وہ جھوٹا ہے۔

امام جعفر صادق نے فرمایا ہے : ظہور کا کوئی وقت معین نہیں ہے کیونکہ قیامت کی طرح اسکا علم بھی صرف خدا کو ہے یہاں تک کہ فرمایا : ہمارے مہدی کے ظہور کے لئے کسی نے بھی وقت معین نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اپنے کو خدا کے علم میں شریک سمجھے اور یہ دعویٰ کرے کہ خدا نے اسکو اپنے راز (اسرار) بتا دئے ہیں (۱)



کفار کی نسل میں مومنین کی پیدائش



جیسا کہ متعدد روایات میں ذکر ہے کہ خدا وند عالم نے بہت سے مومنین کا نطفہ کفار کے صلبوں میں امانت کے طور پر رکھ دیا لہٰذا امانتوں کا ظاہر ہونا لازمی ہے اب اگر ان امانتوں کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی امام قیام کر کے جزیہ کا قانون ختم کردیں اور کفار کو قتل کر ڈالیں تو یہ مقصد پورا نہیں ہو گا اور وہ امانتیں ظاہر نہ ہو پائیں گی۔



(۱)اثبات الہداة ج۷ فصل ۵۵ب۳۲ص۱۵۶ج۴۰۔

کیا کوئی شخص یہ سوچ سکتا تھاکہ حجاج جیسے خونخوار اور جلاد (دشمنان اہلبیت میں اس جیسے سفاک اور درندہ صفت بہت کم لوگ ملتے ہیں)کی نسل میں حسین بن احمد بن حجاج (جو ابن الحجاج کے نام سے مشہور ہیں) جیسا نامور شاعر، مشہور خطیب(سخنور)خاندان پیغمبر کا چاہنے والا اور ان کا شیعہ پیدا ہو جائے گا اور اہلبیت کی مدح میں ایسے لا جواب قصیدے اور ان کے دشمنوں کی مذمت میں ایسے اشعار کہے گا جس سے شیعہ مذہب کی ترویج ہوگی، ان کے مشہور و معروف قصائد میں اسے ایک مشہور قصیدہ کا مطلع یہ ہے :

یا صاحب القبة البیضاء علی النجف



من زار قبرک و استشفیٰ لدیہ شفیٰ

”اے بلند مقام پر درخشاں قبہ کے مالک جو شخص آپ کی قبر کی زیارت کرے اوراس سے شفا طلب کرے اس نے شفا حاصل کر لی ،،

کیا کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ حضرت امام موسیٰ کاظم کے قاتل ”سندی بن شاہک“کی اولاد میں مشہور شاعر اور دنیائے ادب کے درخشاں ستارے ”کشاجم“ پیدا ہو سکتے ہیں جو حضرت علی اور ان کے گھر والوں کی امامت کے حقیقی جلوہ کی تاثیر کی بنا پر اپنی پوری عمر انہیں کی مدح و ثنا میں گذار دیں گے ۔

مختصر یہ کہ کفار کی پشتوں (نسلوں )میں مومنین کی پیدائش یہ ایک ایسی اہم چیز ہے جسکے لئے ظہور کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے اور ایسے ہی موقع پر ظہور ہو جب کفار کے صلبوں میں کوئی امانت باقی نہ رہ جائے جیسا کہ قرآن مجید نے جناب نوح کے قصہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی یہ دعا نقل کی ہے:ولا یلدوا الا فاجراً کفاراً۔(۱)

حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کا ظہور بھی ایسے ہی حالات میںہوگا ،اور یہی آیہٴ کریمہ :

لوتزیّلوا لعذّبنا الذین کفروا منھم عذاباً الیما۔(۲)



(۱)” اور فاحر و کافر کے علاوہ کوئی اولاد بھی پیدا نہ کریں“سورہٴ نوح آیت ۲۷۔

(۲) سورہٴ فتح آیت۲۵۔

”اگر یہ لوگ الگ ہو جاتے تو ہم کفار کو درد ناک عذاب میں مبتلا کر دیتے“ کی تفسیر ہے جو متعدد روایات میں ذکر ہوئی ہے جس کو تفسیر برہان، صافی وغیرہ یا احادیث کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے ان روایا ت کا مضمون یہ ہے :

”قائم اس وقت تک ہر گز ظہور نہ کرینگے جب تک خدا کی امانتیں ظاہر نہ ہو جائیں اور جب وہ سب امانتیں سامنے آجائیں گی تو تمام دشمنان خدا کا پتہ چل جائے گا اور آپ ان کو قتل کرڈالیں گے“





محقق طوسی کا قول



فیلسوف مشرق، اسلامی حکماء اور فلاسفہ کے لئے باعث افتخار خواجہ نصیر الدین طوسی نے امامت کے بارے میں ایک فلسفیانہ اور محققانہ رسالہ لکھا ہے جس میں انہوں نے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی غیبت اور اس کی طولانی مدت اور مسئلہ غیبت کے امکان کے بارے میں ایک پوری فصل تحریر کی ہے جسکے آخر میں آپ نے یہ لکھا ہے:

”و اما سبب غیبتہ فلا یجو ز ان یکون من اللہ سبحانہ ولا منہ کما عرفت فیکون من المکلفّین وھو الخوف الغالب و عدم التمکین والظہور یجب عند زوال السبب(۱)

”لیکن یہ جائز نہیں ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی غیبت خدا کی طرف سے، یاخود آپ کی طرف سے ہو جیسا کہ آپ جان چکے ہیںپس اس کی وجہ خود عوام (لوگ) ہیں کیوں کہ ان کے اوپر



(۱)یہ رسالہ ۱۳۳۵ہء شمسی میں تہران میں طبع ہوا تھا جسمیں یہ جملہ تیسری فصل کے اندر صفحہ ۲۵ پر نقل ہوا ہے۔

خوف کا غلبہ ہے اور ان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرناہی اس کا سبب ہے اور جب بھی یہ رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی تو ظہور واجب ہوجائے گا “۔

اگر غور و فکر اور دقت نظر سے کام لیا جائے تو اس عظیم عالم نے عقل و حکمت کی روشنی میں اس موضوع کی جو وضاحت اور تحلیل کی ہے یہ سب باتیں ان بعض اسباب کی تائید کرتی ہیں جن پر ہم نے اس مقالہ میں روشنی ڈالی ہے یعنی ”جان کا خطرہ اور عوام کا آپ کی اطاعت نہ کرنا“ اگر یہ اسباب بر طرف ہو جائیں تو آپ کا ظہور یقینی ہے ۔

لہٰذا یہ ہر گز مناسب نہیں ہے کہ لوگ خود غیبت کا سبب بننے کے باوجود اس بارے میں اعتراض کریں اور بالفرض اگر لوگ ان رکاوٹوں کو ختم نہ کریں گے تو آپ خدا وند عالم کی مصلحت اور اس کے ارادہ کے تحت مناسب وقت پر ہر ایک کے اوپر غلبہ حاصل کریں گے اور قرآن مجید کی اس آیہٴ کریمہ :

وعداللّٰہ الذین آمنوا منکم و عملواالصالحات لیستخلفنّھم في الارض کما استخلف الذین من قبلھم و لیمکنن لہم دینھم الذي ارتضیٰ لہم ولیبدّلنھم من بعد خوفھم امناً(۱)

”اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان وعمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین پر اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا“

میں مومنین سے جو وعدہ کیا گیا ہے اسے پورا کردے اور آپ ظاہر ہوجائیں اور اگر دنیا کی عمر میں ایک دن سے زیادہ مدت باقی نہ رہ جائے تب بھی اسے اتنا طولانی کردے کہ مہدی کا ظہور ہوجائے اور وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھردےں جس طرح و ہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔



(۱)سورہٴ نورآیت۵۷۔

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.