طویل عمر کے ساتھ جوانی

طویل عمر کے ساتھ جوانی

ایسے افراد بہت ہیں جو طویل عمر کے باوجود جوانی کی نعمت سے مالامال تھے، بطور نمونہ کولمبیا کا رہنے والا ”پی پرارا“ نامی شخص ہے جس کی عمر ۱۶۷ سال تھی اس شخص کے بارے میں روزنامہ اطلاعات کے شمارہ ۹۱۲۱ اور ۹۲۳۶ میں تفصیلات شائع ہوئی ہیں،۱۶۷ سال کی عمر میں بھی اس شخص کی جوانی کی قوتیں صحیح وسالم تھیں، اس کی ہڈیاں اور جوڑ بند اتنے مضبوط تھے کہ جوان ایسی ہڈیوں اور جوڑوں کی صرف تمنا کرتے ہیں تجربات سے یہ بات سامنے آئی کہ اتنی عمر کے باوجود اس کی رگوں میں کیلشیم کی کمی کا کوئی اثر نہیں تھا جب کہ ۹۰فی صدسن رسیدہ افراد کے یہاں یہ خرابی عموماً پائی جاتی ہے۔

کینیا میں ایک ۱۵۸ سالہ شخص موجود ہے اور کچھ عرصہ قبل اس کے اپنڈکس کا آپریشن کیاگیا ہے، اس عمر میں یہ شخص جوانوں کے درمیان جوان ترین افراد سے بھی زیادہ جوان ہے۔ (۱)

چند سال قبل روس کے باشندے ”عیوض رف“ کے بارے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ موصوف ۱۴۷سا ل کی عمر میں بھی اپنے تمام امور خود انجام دیتے ہیں گھوڑسواری کرتے ہیں اور بہ نفس نفیس انگور کے باغ کی دیکھ بھال کرتے ہیں (۲)

چین میں ”دلی چینگ“ نامی شخص کی ۲۵۳ سال کی عمر میں بھی بال سیاہ اور شباب کی رعنائیاں برقرار تھیں جب کہ موصوف کی ۲۳ بیویاں ان کے گھر میں خداکوپیاری ہوچکی تھیں۔(۳)

آسٹریا میں ایک صاحب نے اپنی ۱۴۰ ویں سالگرہ اس عالم میں منائی کہ موصوف اب بھی زراعت کے امور خود انجام دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”مجھے یادنہیں کہ زندگی میں کبھی بیماری میرے نزدیک آئی ہو۔“(۴)



(۱)اطلاعات، شمارہ۱۲۶۷۲۔ (۲)اطلاعات ۱۱۸۰۵۔

(۳)الامالی المنتخبہ شیخ عبدالواحد مظفری، ص۷۹ مطبوعہ نجف۔ (۴)اطلاعات،۸۷۳۹۔



شمالی قفقاز کے ایک گاؤں ”گالون“کی رہنے والی ”گوھوگا“ نامی خاتون نے اپنی ۱۴۷ویں سالگرہ کا جشن منایا، اس عمر میں بھی اس کے نشاط میں کوئی کمی نہیں آئی اوربصارت وسماعت بھی قطعاً متاثر نہیں ہوئی ہے(۱)

گذشتہ بیانات سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ آخر عمر تک شباب ونشاط کا باقی رہنا ناممکن نہیں ہے اور بہت سے ایسے عمرِدراز کے مالک افراد گذرے ہیں جو آخر وقت تک تمام رعنائیوں کے ساتھ زندگی گزارتے رہے یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اس وقت محققین یہ تلاش کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں کہ ضعیفی کے اسباب کیا ہیں ؟اور کس طرح جوانی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے اور کس طرح ان معمر حضرات نے اپنی توانائیوں کو باقی رکھا ہے ۔

ماہرین کی رائے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں بشریت کو مستقبل میں بہت سی کامیابیاں ملنے والی ہیں۔

بہر حال ان باتوں سے ہمارا مقصود یہ ثابت کرنا تھا کہ ضعیفی وبڑھاپے کے بغیر بھی طویل عمر ممکن ہے تاکہ ضعیف ایمان والے بھی اسے تسلیم کرلیں اور اسے عجیب وغریب اور بعید از عقل قرار نہ دیںورنہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طویل عمر او ربقائے جوانی کے لئے ہمارا اصل سرمایہ قدرت خدا، انبیاء واوصیاء الٰہی کی بیان کردہ خبریںہیں اور ہم انھیں کو مضبوط ترین دلیل سمجھتے ہیں اور قرین عقل اسی دلیل پر ایمان رکھتے ہیں چاہے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ تاریخ بشریت میں تن تنہا طویل عمر کے مالک ہوں اور طول عمر کے باوجود صرف آپ کی ہی جوانی برقرار رہے، چاہے محققین اپنے تجربات کے سہارے کسی نتیجہ تک نہ پہنچ سکیں اور اعلان کردیں کہ سائنس کے لئے طویل عمر بنانا ممکن نہیں ہے ان تمام باتوں سے ہمارے اوپر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے کیونکہ حضرت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی جوانی اور طول عمر عقلی اعتبار سے ایسے موٴیدات کی محتاج نہیں ہے،یہ مسئلہ قدرت خدا کا مسئلہ ہے، اعجاز، خرق عادت اور مشیت



(۱)اطلاعات اخبار شمارہ ۹۱۹۸۔

الٰہی کے نفوذ کا مسئلہ ہے اور ایسے مسائل میں اس طرح کے موٴیدات کی موجودگی اور عدم موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔



روایات

شیخ صدوق نے اپنی کتاب ”کمال الدین“ اور علی بن محمد خزاز رازی نے ”کفایة الاثر“ میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے۔ امام حسن نے فرمایا: ”میرے بھائی حسین کے نویں فرزند کی عمر کو خداوندعالم غیبت کے دوران طویل کردے گا اور اس کے بعد اپنی قدرت کے ذریعہ انہیں اس طرح ظاہر کرے گا کہ وہ چالیس سال سے بھی کم عمر کے جوان دکھائی دینگے ۔

”وذلک لیعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر“(۱)

تاکہ معلوم ہوجائے کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

شیخ صدوق نے امام رضا علیہ السلام سے ایک حدیث کے ضمن میں اس طرح نقل کیا ہے:

”القائم ھو الذی اذا خرج کان فی سنّ الشیوخ ومنظر الشُبّان قویٌ فی بدنہ“(۲)

”قائم وہ ہیں کہ جب ظاہر ہوں گے تو سن بزرگوں کا ہوگا لیکن شکل وشمائل جوانوں کی سی ہوگی اوربدن قوی ہوگا۔“

ابو ا لصلت ہروی امام رضا علیہ السلام سے ایک روایت میں نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام رضا سے دریافت کیا کہ قائم جب ظہور کریں گے تو ان کی علامت کیا ہوگی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ان کی علامت یہ ہے کہ عمر ضعیفوں کی ہوگی مگر شکل وصورت جوانوں کے مانند ہوگی کہ جو بھی آپ کو دیکھے گا چالیس برس یا اس سے بھی کم عمر کا گمان کرے گا،ان کی علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ



(۱)منتخب الاثر، ص۲۰۶باب۱۰فصل۲ج۶۔

(۲)منتخب الاثر، باب۱۷فصل۲ج۲،ص۲۲۱۔

دنیا سے رخصت ہونے تک ان پر گردش شب وروز کا کوئی اثر نہ ہوگا“(۱)

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.