آپ کی دعا اور ان بعض دعاوں کے بارے میں جو آپ سے ماثور ومنقول ہیں

آپ کی دعا اور ان بعض دعاوں کے بارے میں جو آپ سے ماثور ومنقول ہیں

لا الہ الا اللہ حقا حقا لاالہ الا اللہ ایمانا صدقا لاالہ الا اللہ تعبدا ورقا اللھم معین کل مومن وحید، ومذل کل جبار عنید، انت کھفی حین تعیینی المذاہب، و تضیق علی الارض بما رحبت، اللھم خلقتنی و کنت عن خلقی غنیا و لولا نصرک ایای لکنت من المغلوبین یا مبعثر الرحمة من مواضعھا، و مخرج البرکات من معادنھا ویا من خص نفسہ بشموخ الرفعة ولیائہ بعزہ یتعززون، یا من وضعت لہ الملوک نیر المذلة علی اعناقھم فھم من سطوتہ خائفون، اسئلک باسمک الذی قصرت عنہ خلقک فکل لک مذعنون، اسئلک ان تصلی علی محمد وعلی آل محمد وان تنجزلی امری وتعجل لی الفرج و تکفینی و تعافینی و تقضی من حوائجی الساعة الساعة اللیلة اللیلة انک علی کل شئی قدیر۔
۲۔ الجنة الماوی۔ کہتے ہیں۔ چالیسویں حکایت ۔ صاحب تفسیر شیخ جلیل امین الاسلام فضل بن الحسن طوسی اپنی کتاب کنوز النجاح میںلکھتے ہیں، ایک دعا صاحب الزمان علیہ سلام اللہ الملک المنان نے ابوالحسن محمد بن احمد بن ابی اللیث رحمة اللہ کو بغداد میں مقابر قریش میں تعلیم کی تھی، ابوالحسن نے قتل کے خوب سے بھاگ کر قریش کے مقابرمیں پناہ لی تھی چنانچہ اس دعا کی برکت سے انہوں نے قتل سے نجات پائی، یہی ابوالحسن کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے یہ دعا تعلیم کی: اللھم عظم البلاء و برح الخفاء وانقطع الرجاء وانکشف الغطاء وضافت الارض و منعت السماء والیک یا رب المشتکی و علیک المعول فی الشدة والرخاء اللھم فصل علی محمد و آل محمد اولی الامر الذین فرضت علینا طاعتہم فعرفتنا بذلک منزلتھم ففرج عنا بحقھم فرجا عاجلا کلمح البصر او ہو اقرب یا محمد یاعلی اکفیانی فانکما کافیای وانصرانی فانکما ناصرای یا مولانا یا صاحب الزمان الغوث الغوث ادرکنی ادرکنی ادرکنی۔
۳۔ الجنة الماوی۔ (چھٹی حکایت) شیخ ابراہیم کفعمی نے کتاب ”البلد لامین“ میں مہدی(ع) سے نقل کیا ہے کہ جو شخص نئے ظرف میں خاک شفاء سے اس دعا کو لکھے اور اس کو دھو کر پئیے تو اسے مرض سے شفا ہوگی:
بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ دواء والحمدللہ شفاء ولاالہ الا اللہ کفاء ھو الشافی شفاء وھوالکافی کفاء اذہب الباس برب الناس شفاء لا یغادرہ سقم وصلی اللہ علی محمد وآلہ النجباء۔
یہ دعا امام مہدی نے اس شخص کو تعلیم کی تھی جو حایر میں رہتاتھا وہ ایک مرض میں مبتلا تھا اس نے اس کی شکایت حضرت قائم عجل اللہ فرجہ سے کی تو آپ نے اس کو لکھنے، اس کو دھونے اور اس کو پینے کا حکم دیا اس نے ایسا ہی کیا تو اسے اسی وقت شفاء ہو گئی۔
۵۔ الکلم الطیب ۔ یہ دعا عظیم دعا صاحب الامر کی طرف سے اس شخص کے لئے آئی تھی جس کی کوئی چیز گم ہوگئی تھی اس کو کوئی حاجب درپیش تھی اس کا بھی مذکورہ دعا کی مانند عجیب قصہ ہے طلب حاجت کے وقت دعا کرنے والے کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہئے ، دعا یہ ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم انت اللہ الذی لا الہ الا انت مبدء الخلق ومعیدھم و انت اللہ الذی لا الہ الا انت مدبر الامور و باعث من فی القبور وانت اللہ الذی لاالہ الا انت القابض الباسط و انت اللہ الذی لاالہ الاانت وارث الارض ومن علیھا اسئلک باسمک الذی اذا دعیت بہ اجبت و اذا سئلت بہ اعطیت واسئلک بحق محمد واہل بیتہ وبحقھم الذی اوجبتہ علی نفسک ان تصلی علی محمد وآل محمد وان تقضی لی حاجتی الساعة الساعة یاسیداہ یا مولاہ یا غیاثاہ اسئلک بکل اسم سمیتہ بہ نفسک واستاثرت بہ فی علم الغیب عندک ان تصلی علی محمد و آل محمد وان تعجل خلاصنا من ھذہ الشدة یا مقلب القلوب والابصار یاسمیع الدعاء انک علی کل شیء قدیر برحمتک یاارحم الراحمین۔
۷۔ مہج الدعوات۔ ہمارے مولا حضرت قائم صلوات اللہ علیہ کا یہ حرز ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم یا مالک الرقاب وھازم الاحزاب یا مفتح الابواب یا مسبب الاسباب سبب لنا سببا لا نستطیع لہ طلبا بحق لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وعلی آلہ اجمعین۔
۸۔ مہج الدعوات۔ (ایک طویل حدیث کے ذیل میں کہ جس میں آئمہ کے قنوت درج کئے گئے ہیں) ہمارے مولا حضرت حجت بن الحسن علیہما السلام کا قنوت :
اللھم صلی علی محمد وآل محمد واکرم اولیائک بانجاز وعدک و بلغھم درک ما یاملونہ من نصرک واکفف عنھم باس من نصب الخلاف علیک وتمرد بمنعک علی رکوب مخالفتک واستعان برفدک علی فل حدک وقصد لکیدک بایدک و وسعتہ حلما لتاخذہ علی جھرة، و تستاصلہ علی عزة فانک اللھم قلت وقولک الحق حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت(الآیة)وقلت فلما آسفونا انتقمنا منھم وان الغایة عندنا قد تناھت وانا لغضبک غاضبون وعلی نصر الحق متغاضبون والی ورود امرک مشتاقون ولا نجاز وعدک مرتقبون ولحلول وعیدک باعدائک متوقعون، اللھم فاذن بذلک وافتح طرقاتہ وسھل خروجہ و وطئی مسالکہ واشرع شرائعہ واید جنودہ واعوانہ وبادر باسک القوم الظالمین وابسط سیف نقمتک علی اعدائک المعاندین و خذ با لثار انک جواد مکار۔

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.