خطبہ امام حسین مروان بن حکم کے جواب میں

خطبہ امام حسین مروان بن حکم کے جواب میں

اِنّٰا لِلّٰه وَ اِنّٰا اِلَیْه رَاجِعُوْنَ وَ عَلَی الْإِسْلاٰمِ السَّلاٰمُ اِذٰا بُلِیَتِ الْاُمَّةُ بِرٰاعٍ مِثْلِ یَزیدَ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ جَدّی رَسُوْلَ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُوْلُ: اَلْخِلاٰفَةُ مُحَرَّمَةٌ عَلٰی آلِ اَبی سُفْیٰانَ فَاِذٰا رَاَیْتُمْ مُعٰاوِیَةَ عَلٰی مِنْبَری فَابْقَرُوْا بَطْنَه وَقَدْ رَآه اَهلُ الْمَدینَةِ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمْ یَبْقَرُوا فَابْتَلاٰهمُ اللّٰه بِیَزیدَ الْفٰاسِقِ۔ ترجمہ و توضیح: دوسرے روز: ابا عبد الله الحسین میں آپ کا خیر خواہ ہوں اور آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں اگر آپ اسے قبول فرما لیں تو یہ آپ کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ امام نے فرمایا: اپنی تجویز پیش کرو۔ اس نے عرض کی: ”جب کل رات ولید بن عتبہ نے آپ کو بلا کر آپ سے بیعت کا مطالبہ کیا تھا تو آپ کو یزید کی بیعت کر لینی چاہیئے تھی اور یہ چیز آپ کے لئے دنیا و آخرت میں سود مند ثابت ہوتی“۔ امام نے اس کے جواب میں فرمایا: ﴿اِنّٰا لِلّٰه وَ اِنّٰا اِلَیْه رَاجِعُوْنَ وَ عَلَی الْإِسْلاٰمِ ۔ الخ﴾ اب اسلام پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیئے چونکہ مسلمانوں کا حاکم یزید بن گیا ہے۔ ہاں، میں نے اپنے جد امجد رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ ”ابو سفیان کے خاندان پر خلافت حرام ہے اور اگر تم معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے فوراً مار ڈالنا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مدینہ کے لوگوں نے اسے منبر رسول پر دیکھا لیکن اسے قتل نہ کیا۔ اب خداوند تعالیٰ نے ان پر یزید جیسے فاسق و فاجر کو مسلط کر دیا ہے۔“ ۱ امام کے گزشتہ کلام کی توضحیح کے ضمن میں بھی ہم نے اشارہ کیا تھا اور اس کلام سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام نے مدینہ ہی میں اپنا یہ موقف واضح طور پر بیان کر دیا تھا کہ یزید کی حکومت کے خلاف ان کا احتجاج آخر دم تک جاری رہے گا۔ ظلم و جور کے خلاف آئمہ ہدیٰ نے ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے جو جرأت مندانہ موقف اختیار کیا اس کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا ضروری ہے۔ ظالم اور استبدادی حکومتوں سے نبرد آزمائی صرف حسین ابن علیں سے ہی مخصوص نہیں بلکہ تمام آئمہ ھدیٰ علیہم السلام چونکہ اسلام کی حفاظت اور بقا کے لئے موٴثر ترین علم بردار تھے اس لئے انہوں نے اپنے اپنے دور میں ظلم و بربریت کے خلاف جد و جہد جاری رکھی البتہ زمانے کے حالات اور دیگر سیاسی اور مذہبی وجوہ کی بنا پر آئمہ ھدیٰ علیہم السلام کی علمی جدوجہد کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: (۱) غیر مسلح جد و جہد۔ (۲) مسلح جد و جہد۔ ۱۔ غیر مسلح جد و جہد: تاریخ کے ان ادوار میں جب معاشرے پر مسلط طاغوت اپنے عروج پر تھا اور دین مبین کے مخلص پیروکاروں کی کمی تھی ایسے وقت میں آئمہ ھدیٰ کے لئے مسلح جدوجہد کرنا قطعاً نامناسب تھا کیونکہ اس طرح دشمن کو مزید طاقتور بننے کا موقع مل سکتا تھا۔ ان ادوار میں آئمہ طاہرین علیہم السلام نے مسلح جدوجہد کی بجائے غیر مسلح جدوجہد کو ترجیح دی یعنی مخالفین اسلام کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی البتہ جابر حکمرانوں کے خلاف امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی صورت میں اپنی جدوجہد جاری رکھی اور یہ اسی کا ردعمل تھا کہ ان کی آزدای سلب کی گئی انہیں زندان میں قید رکھا گیا اور انہیں زہر دے کر شہید کیا گیا۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام کی غیر مسلح جدوجہد کا ایک نمونہ یہ تا کہ انہوں نے ایوان ہائے حکومت سے تعلق رکھنے، کسی قسم کا منصب قبول کرنے اور کسی بھی قسم کی کمک کرنے حتیٰ کہ عدالت میں شکایات لے جانے اور وہاں سے انصاف طلب کرنے کو بھی حرام قرار دیا۔ اس کی مثال امام موسیٰ کاظمں کی وہ گفتگو ہے جو امام نے صوان جمّال سے کی۔ اس نے اپنے اونٹ تاریخ کے سب سے بڑے ڈکٹیٹر ہارون رشید کے درباریوں کو حج کے سفر کے لئے کرائے پر دیے تھے۔ امام نے صفوان کو اس عمل پر سخت تنبیہہ کی۔ صفوان نے امام کے حکم پر یہاں تک عمل کیا کہ وقت سے پہلے تمام اونٹ بیچ ڈالے۔ یہ بات ہارون الرشید سے مخفی نہ رہی۔ چنانچہ اس نے صفوان کو دربار میں طلب کیا اور اسے قتل کی دھمکی۱ دی۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام کی یہ غیر مسلح جدوجہد اسلام دشمن حکومت کی کمزوری کا سبب بنی اور حکومت سے لاتعلقی اس بات کی علامت بنی کہ یہ حکومتیں غیر شرعی ہیں۔ چنانچہ اکثر لوگوں کو خلفاء کی اصلیت معلوم ہوگئی اور بعد میں یہی غیر مسلح جدوجہد، مسلح جدوجہد کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ ۲۔ مسلح جدوجہد : جہاں پر مسلح جہاد ممکن تھا اور اس کے مفید اور ثمر بخش اثرات مدت دراز تک باقی رہنے کا امکان تھا وہاں آئمہ طاہرین علیہم السلام نے میدان جہاد میں قدم رکھا اور ایسے ہی مقامات پر (حضرت امام علی نقی ں کے فرمان کے مطابق) ظالم اور جابر سلطان کے سامنے خاموشی کو کفر قرار دیا ہے۔ امام حسینں کی اس جدوجہد میں بھی دونوں قسم کے مبارزے شامل ہیں اس لئے کہ ۵۰ ھء سے لے کر ۶۰ ھ ئتک یعنی امام حسنں کی شہادت اور ہلاکت معاویہ کی درمیانی مدت میں امام نے بعض آئمہ ھدیٰ کی طرح غیر مسلح جدوجہد کا طریقہ اختیار کیا لیکن معاویہ کی ہلاکت کے بعد چونکہ زمانے کے حالات بدل چکے تھے اور مسلح جدوجہد کے تمام اسباب فراہم ہو چکے تھے لہٰذا امام نے بھی بغیر کسی تأمل کے اپنے دوستوں، اعزاء و اقربا اور قوم کے شدید مخالفت کے باوجود اس جدوجہد کا آغاز کیا اور یزید کے مقابلے میں اپنے اسلامی موقف کو واضح کر دیا اور قلیل یاران و انصار کے ساتھ (یہ جانتے ہوئے بھی کہ لوگوں میں خوف و ہراس بدرجہ اتم موجود ہے) ایسی راہ کا انتخاب کیا جس کا انجام شہادت تھا۔ اس راہ میں آپ کا وجودِ اقدس تیروں، تلواروں اور نیزوں کی آماجگاہ بنا، گھوڑوں کے سموں تلے پامال ہوا لیکن آپ نے زمانے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عظیم فریضہ اس طرح انجام دیا کہ بنو امیہ اپنی تمام شیطانی قوتوں اور وسائل کے باوجود یہ خون نہ چھپا سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ مسلح جدوجہد معاویہ کے دور میں بھی مناسب تھی؟ حالات سازگار ہوتے تو یقینا امام اس دور میں بھی اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت علیں کی طرح ایسا ہی کرتے۔

نظرات

ارسال نظر

* فیلدهای ستاره دار حتما بایستی مقدار داشته باشند.